جیون سمواد: زندگی کی دھوپ اور ہم

کریڈٹ کارڈ اور پرسنل لون کچھ وقت کے لئے تو آپ کی مدد کر سکتے ہیں، لیکن ان کی بھی حدیں ہیں۔ یہ آپ کو قرض کے جال کی طرف دھکیلتے ہیں۔ یہ ہمارا تکبر ہی ہے جو ہمیں اپنوں کے پاس جانے سے روکتا ہے۔ لیکن بازار سے قرض لینے میں ہمیں کوئی تردد نہیں ہوتا۔

Sep 30, 2019 01:39 PM IST | Updated on: Sep 30, 2019 01:43 PM IST
جیون سمواد: زندگی کی دھوپ اور ہم

بہت پرانی بات نہیں ہے۔ ہمارے پاس چیزیں کم تھیں، لیکن زندگی کے تئیں ہمارا نقطہ نظر کہیں زیادہ امید، یقین اور پیار سے بھرا ہوا تھا۔ ہم مشکل کا سامنا کہیں زیادہ پر اعتماد طریقے سے کر رہے تھے۔ ایک دوسرے کے ساتھ میں ہمارا یقین گہرا تھا۔ ایک دوسرے کی مدد کرنے کی ہماری حدیں ہیں۔ ہر کسی کو اپنے حصہ کی تکلیف کا سامنا خود ہی کرنا ہوتا ہے۔ اس کے بعد بھی ہمیں ایک دوسرے سے جوڑنے والی سب سے بڑی کڑی ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے ہونا ہے۔ اس وقت جب ہر کوئی آپ کو یہ بات بتانے میں لگا ہو گا کہ آپ نے زندگی میں کتنی بڑی غلطیاں کی ہیں۔ دئیے گئے مشوروں کو نظرانداز کیا ہے۔ اس وقت جو سامنے آکر آپ کے لئے ہمدردی کا چھاتہ کھول دے، اس سے بڑا شخص آپ کے لئے زندگی میں کوئی دوسرا نہیں ہو سکتا۔

زندگی کی ’ دھوپ‘ بڑھتی۔ گھٹتی رہتی ہے۔ اس پر ہمارا کنٹرول بہت کم ہے۔ ہاں، ہم اپنے حصے کی ہمدردی اور پیار سے اس دھوپ کا اثر اپنوں کی زندگی سے کم کر سکتے ہیں۔

Loading...

چھوٹا سا قصہ سنتے چلئے۔ ہندوستان میں جب پچھلی بار مندی کے بادل چھائے تھے۔ اس وقت جئے پور میں رہنے والے مشترکہ کنبے کے چار میں سے تین بھائیوں کی نوکری چلی گئی۔ انہوں نے بچت اور ایک بھائی کے سہارے اس مشکل کا سامنا آسانی سے کر لیا۔ دو سال بعد سب کچھ ٹھیک ہو گیا۔ سب اپنے اپنے کام میں لگ گئے۔

آج اس کہانی کے تقریبا 10 سال بعد ایک بار پھر معاشی نظام پر مندی کے بادل منڈلا رہے ہیں۔ کنبہ کے نوجوان بچوں میں چار کی نوکری چلی گئی۔ لیکن ان کے درمیان مشکل وقت میں ویسی سمجھداری اور حصہ داری نظر نہیں آ رہی ہے۔ سب اپنے اپنے طریقے سے مشکل وقت کی دھوپ کا سامنا کر رہے ہیں۔ اس طرح سب پریشان ہیں۔

کریڈٹ کارڈ اور پرسنل لون کچھ وقت کے لئے تو آپ کی مدد کر سکتے ہیں، لیکن ان کی بھی حدیں ہیں۔ یہ آپ کو قرض کے جال کی طرف دھکیلتے ہیں۔ یہ ہمارا تکبر ہی ہے جو ہمیں اپنوں کے پاس جانے سے روکتا ہے۔ لیکن بازار سے قرض لینے میں ہمیں کوئی تردد نہیں ہوتا۔ یہ ہمارے اکیلے ہوتے جانے کی ایک چھوٹی سی جھلک ہے۔

 ہمیں یہ بھی سوچنا چاہئے کہ دس سال میں ایسا کیا ہو گیا کہ ہم دکھ کا سامنا اکیلے اکیلے کرنے لگے۔ آپ سکھ اکیلے اٹھائیں گے تو دکھ کے وقت کتنے لوگ آپ کے ساتھ آئیں گے، یہ سمجھنا مشکل نہیں۔ جب تک ہم دوسروں کے لئے دھوپ میں چھاؤں کا انتظام نہیں کریں گے، ہمارے لئے یہ کون کرے گا اسے سمجھنا بہت مشکل نہیں ہے۔

Email: dayashankarmishra2015@gmail.com

Address: Jeevan Sanvad (Dayashankar Mishr)

Network18

Express Trade Tower,3rd Floor, A Wing,

Sector 16, A, Film City, Noida (UP)

اپنے سوالات اور مشورے انباکس میں شئیر کریں۔

(https://twitter.com/dayashankarmi )(https://www.facebook.com/dayashankar.mishra.54 )

 

Loading...