جیون سمواد: ضرورت پوری نہ کر پانے پر اسے اپنی انا سے ہرگز نہ جوڑیں

تکنیک کی زندگی میں بڑھتی مداخلت کے درمیان رشتے نازک ہو چلے ہیں۔ ’ ہوا‘ کا تیز جھونکا بھی برداشت کرنا مشکل ہے۔ اس کی بڑی وجہ ایک دوسرے کے تئیں پیار ، ہمدردی اور سمجھ کی کمی ہے۔

Sep 16, 2019 06:00 PM IST | Updated on: Sep 16, 2019 06:01 PM IST
جیون سمواد: ضرورت پوری نہ کر پانے پر اسے اپنی انا سے ہرگز نہ جوڑیں

ہر ایک شخص کی اپنی عزت نفس ہوتی ہے۔ اپنی سوچ، سمجھ اور نظریہ سے اس کی تعمیر ہوتی ہے۔ اگر اس عزت نفس میں پیار اور ہمدردی کی صحیح مقدار نہیں تو دھیرے دھیرے انجانے انا میں یہ بدل جاتی ہے۔  یہ بات بادی النظر میں تھوڑی عجیب لگ سکتی ہے لیکن انجانے میں ہی ہم نے ’ اپنی‘ انا کو بڑا کر لیا ہے۔ اسے سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔

تکنیک کی زندگی میں بڑھتی مداخلت کے درمیان رشتے نازک ہو چلے ہیں۔ ’ ہوا‘ کا تیز جھونکا بھی برداشت کرنا مشکل ہے۔ اس کی بڑی وجہ ایک دوسرے کے تئیں پیار ، ہمدردی اور سمجھ کی کمی ہے۔ گھر۔ کنبے میں ساتھ گزرنے والا وقت کم ہونے کے سبب ایک دوسرے کو سمجھنے کا موقع کم از کم ہوتا جا رہا ہے۔ پہلے بحران کنبے کا ہوتا تھا۔ اس کا سامنا کرنے کی ذمہ داری بنیادی طور سے بڑوں کی ہوتی تھی۔

Loading...

جیسے جیسے مشترکہ خاندان ٹوٹنے لگے ہیں، مکان سے فلیٹ کی طرف تیزی سے بڑھنے لگے ہیں۔ ہمارے اندر آزاد ہونے کی چاہت تیزی سے بڑھی ہے۔ اس کا اثر یہ ہوا کہ ہر کوئی اپنا فیصلہ اکیلے اور اپنی انا کے ساتھ لے رہا ہے۔

اسے ایسے سمجھئے کہ پہلے ہمارا سرمایہ مشترک تھا اور اخراجات محدود۔ گھر میں بڑوں سے لے کر بچوں تک ہر ایک اپنے اپنے حصے کا کچھ نہ کچھ خرچ کر کے گھر چلانے میں تعاون کرتا تھا۔ ہمارے پاس سبھی کی پوزیشن کے اعتبار سے بچت تھی۔ کریڈٹ کارڈ کم تھے۔ بینکوں کے پرسنل لون بہت کم تھے۔ جو تھے بھی، وہ بنیادی ضرورتوں کے لئے تھے۔ اب تو حالت یہ ہو گئی ہے کہ آپ کو گھومنے پھرنے کے لئے بھی دل کھول کر بینک قرض دینے لگے ہیں۔

اگر کوئی ہم سے کہتا ہے کہ اپنے اخراجات کم کریں، بچت پر دھیان دیں تو اکیلے رہنے کے سبب اس کی باتیں صلاح کم ’ گیان‘ زیادہ لگتی ہیں۔ ایسے نوجوانوں کی تعداد تیزی سے بڑھ رہی ہے جو محدود آمدنی میں اپنا گھر چلانے کی بجائے پرسنل لون، کریڈٹ کارڈ کی طرف صرف اس لئے بڑھ جاتے ہیں کیونکہ اپنے کنبے جن میں بیوی اور بچے، کئی بار صرف بیوی ہوتی ہے، انہیں ایسی چیزوں کے لئے منع نہیں کر سکتے جن کی ضرورت نہیں ہے۔ کیونکہ اس سے ان کی انا کو چوٹ پہنچتی ہے۔

ہم اپنے ہی لوگوں کو منع نہیں کر پانے کی وجہ سے ایسے معاشی نظام کی تعمیر کرتے جا رہے ہیں جہاں ہر چیز ای ایم آئی پر خریدی جا رہی ہے۔ ہم بچت سے دور اور ہر ضرورت کو پورا کرنے کو اپنا نیا ضابطہ بنا چکے ہیں۔ ایک ایسے سماج میں جہاں سرکاری نوکریاں بہت کم ہیں، پرائیویٹ شعبہ بھی بہت زیادہ غیر یقینی ہے ایسی طرز زندگی ہمیں بھیانک بحران کی طرف ڈھکیل رہی ہے۔ بڑی تعداد میں لوگوں کے پاس سال، چھ مہینے تو دور ایک مہینہ تک کا ایمرجنسی فنڈ نہیں ہے۔

ہماری ضرورت دوسروں کو دیکھ کر طئے ہونے لگی ہے۔ مجھے یہ چاہئے، کیونکہ یہ ’ تمہارے‘ پاس ہے۔ یہ احساس چاہت سے زیادہ انا بنتا جا رہا ہے۔ اس پر قابو پانا ہماری طرز زندگی کا حصہ ہونا چاہئے۔ ہم کنبے میں اقدار کی جگہ ضرورتوں کو دیتے جا رہے ہیں۔ ضرورت اپنی جگہ ہے، وہ پوری بھی ہونی چاہئے لیکن کن شرطوں پر اور کس قیمت پر اسے کبھی نہیں بھولنا ہے۔

اگر آپ اپنے کنبے کی کوئی ضرورت پوری نہیں کر پا رہے ہیں تو اسے کبھی اپنی انا سے مت جوڑئیے۔ اپنی طرف سے کوشش کیجئے، چیلنج کی شکل میں نہیں بلکہ آسان ممکن کوشش کی شکل میں۔

Email: dayashankarmishra2015@gmail.com

Address: Jeevan Sanvad (Dayashankar Mishr)

Network18

Express Trade Tower,3rd Floor, A Wing,

Sector 16, A, Film City, Noida (UP)

اپنے سوالات اور مشورے انباکس میں شئیر کریں۔

(https://twitter.com/dayashankarmi )(https://www.facebook.com/dayashankar.mishra.54 )

 

Loading...