جیون سمواد: ’ سب ٹھیک ہے‘ کے آگے

جیسے جیسے ہمارا سمواد کم ہوتا جاتا ہے ہم لوگوں سے دور ہوتے جاتے ہیں۔ نظروں سے دور ہونے پر’ نظر‘ سے دور ہوتے دیر نہیں لگتی۔

Oct 16, 2019 03:48 PM IST | Updated on: Oct 16, 2019 03:49 PM IST
جیون سمواد: ’ سب ٹھیک ہے‘ کے آگے

ہم کسی سے ملتے ہی پہلی بات یہی کہتے ہیں، آپ کیسے ہیں۔ کئی بار ہم اتنی جلدی میں ہوتے ہیں کہ اس کے ’ ٹھیک ہے‘ والے جواب کو سنے بغیر ہی آگے بڑھ جاتے ہیں۔ بہت وقت نہیں ہوا جب ہم ’ٹھیک ہے‘ کے ساتھ آگے پیچھے کا پورا حال چال لیا کرتے تھے۔ دھیرے دھیرے ہم ’ سب ٹھیک ہے‘ پر سمٹتے جا رہے ہیں۔ ہم دوسروں سے سلوک کرتے ہوئے ایک قسم کی دنیا رچے ہوتے ہیں۔ ہم سب کے لئے جیسی دنیا بنائیں گے اسی دنیا کا حصہ تو ہم بھی بن جائیں گے۔ اکیلاپن اور اداسی بڑھنے کے سبب کی دریافت کرنے جب ہم نکلتے ہیں تو دھیرے دھیرے اپنے ہی پاس جا کر رک جاتے ہیں۔

کل ایک دوست ملنے آئے۔ میں نے پوچھا، بڑے بھیا کیسے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سب ٹھیک ہی ہو گا۔ کافی دنوں سے بات نہیں ہوئی۔ مجھے تھوڑا تعجب ہوا۔ میں نے واضح کرتے ہوئے کہا کہ میں آپ کے بھیا کی بات کر رہا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ ہاں میں سمجھ گیا۔ لیکن میں بھی مصروف رہتا ہوں اور وہ بھی۔ اس لئے کئی بار بات چیت کئے ہوئے مہینوں ہو جاتے ہیں۔ آپ کی اطلاع کے لئے بتاتا چلوں کہ دونوں بینکنگ شعبہ میں کام کرتے ہیں۔ جہاں اتوار کو قطعی طور پر اور ہفتہ کو کچھ ضوابط کے ساتھ چھٹی ہوتی ہے۔ میں نے بات بدلتے ہوئے کہا، چھٹی کے دن کیا کرتے ہیں؟ انہوں نے کہا’’ اکثر کہیں باہر گھومنے، شاپنگ کرنے اور فلم دیکھنے میں وقت گزر جاتا ہے‘‘۔

Loading...

آپ سمجھئے، اپنے بھائی سے بات کرنے کا وقت نہیں مل پا رہا ہے لیکن خریداری، سنیما اور گھومنے کے لئے پورا وقت ہے۔ بھائی ہماری ترجیح فہرست سے باہر ہو گئی ہے۔ ایسا انہوں نے کہا نہیں، لیکن واضح طور پر ہم سمجھ سکتے ہیں۔

یہ اکیلے ان کی کہانی نہیں ہے، ہم سب کچھ اسی طرح کی طرز زندگی اپنا رہے ہیں۔ اپنے بھائی، کنبہ، ماں۔ باپ اور رشتہ دار سے بات کئے ہوئے بغیر ہمارے دن آسانی سے گزرتے رہتے ہیں۔ ہم بہت چھوٹی سی دنیا میں سمٹتے جا رہے ہیں۔ آپ کو میری بات تھوڑی عجیب لگ سکتی ہے لیکن سچائی یہی ہے کہ اسی وجہ سے ہم بہت سے پرسنل لون، کریڈٹ کارڈ اور قرض وغیرہ سے گھرتے جا رہے ہیں۔

جیسے جیسے ہمارا سمواد کم ہوتا جاتا ہے ہم لوگوں سے دور ہوتے جاتے ہیں۔ نظروں سے دور ہونے پر’ نظر‘ سے دور ہوتے دیر نہیں لگتی۔ اس لئے، جب کبھی ہمیں کسی طرح کے معاشی تعاون کی ضرورت ہوتی ہے تو ہم کسی کی طرف دیکھنے کی ہمت نہیں کرتے۔ کیونکہ کوئی ہماری طرف دیکھنے کی ہمت نہیں کرتا۔ سب ایک دوسرے سے ایسے پس وپیش میں رہنے لگے ہیں کہ مانئے کسی دوسرے ملک کے شہری ہیں۔

خود کو ہم نے اپنی ضرورتوں کی نظر سے باندھ لیا ہے۔ ایسا کرتے ہوئے ہم اپنے لئے ایک اکیلاپن بن رہے ہوتے ہیں۔ جہاں ہمارے( شوہر، بیوی اور بچوں) کے علاوہ کسی کے لئے جگہ نہیں ہے۔

اس لئے، جتنا ممکن ہو ان سے کبھی سمواد کم مت کیجئے، جن سے روح کے تار جڑے ہیں۔ بچپن سے سوتر گتھے ہوئے ہیں۔ ہم اپنے کنبہ، رشتہ دار اور دوستوں کے ساتھ ہی خوش ہو سکتے ہیں۔ ہماری خوشی تب تک ادھوری ہے جب تک اس کے حصہ دار نہیں ہیں۔ یہ حصے دار سمواد کی کمی سے الگ ہو رہے ہیں۔ ایسے سبھی لوگوں سے جو آپ کی زندگی کا محور ہیں، ان میں مسلسل پیار اور قربت کی سرمایہ کاری کرتے رہئے۔ کسی اور کے لئے نہیں، اپنے لئے۔ اپنی زندگی کو خوشنما اور پرلطف بنائے رکھنے کی سمت میں اس سے بڑھ کر کچھ اور کام نہیں ہے۔

Email: dayashankarmishra2015@gmail.com

Address: Jeevan Sanvad (Dayashankar Mishr)

Network18

Express Trade Tower,3rd Floor, A Wing,

Sector 16, A, Film City, Noida (UP)

اپنے سوالات اور مشورے انباکس میں شئیر کریں۔

(https://twitter.com/dayashankarmi )(https://www.facebook.com/dayashankar.mishra.54 )

 

 

Loading...