உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    دیورانی کو گھر سے باہر نکالنے کے لئے جیٹھانی کی شرمناک حرکت، 15 ماہ کی معصوم بچی کے ساتھ بربریت

    دیورانی کو گھر سے نکالنے کے لئے اس کی معصوم بچی کی جیٹھانی کے ہاتھوں پٹائی

    دیورانی کو گھر سے نکالنے کے لئے اس کی معصوم بچی کی جیٹھانی کے ہاتھوں پٹائی

    میرا روڈ کے نیا نگر سے ایک حیران کر دینے والا معاملہ سامنے آیا ہے۔ ایک 15 ماہ کی بچی کی گہری نیند میں ایک خاتون کے ہاتھوں پٹائی کا ویڈیو تیزی سے سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہا ہے۔ وائرل ویڈیو نیا نگر کے بانیگرا سکول کے قریب عبداللہ ٹاور کا ہے۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Share this:
    ممبئی: میرا روڈ کے نیا نگر سے ایک حیران کر دینے والا معاملہ سامنے آیا ہے۔ ایک 15 ماہ کی بچی کی گہری نیند میں ایک خاتون کے ہاتھوں پٹائی کا ویڈیو تیزی سے سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہا ہے۔ وائرل ویڈیو نیا نگر کے بانیگرا سکول کے قریب عبداللہ ٹاور کا ہے۔  اطلاعات کے مطابق، جس 15 مہینے کی لڑکی کی پٹائی کی گئی وہ 23 سالہ عاصمہ فردوس شیخ کی بیٹی ہے، جو عبداللہ ٹاور کے کمرہ نمبر 501 میں رہتی ہے، جسے اس کی جیٹھانی ریشمہ محمد فیروز مار رہی ہے۔



    ویڈیو کے ساتھ موصول ہونے والی معلومات کے مطابق ملزم ریشمہ محمد فیروز اپنی دیورانی کو گھر سے نکالنے کے لئے یہ ہتھکنڈے اپنا رہی ہے۔ خاندانی جھگڑے کا غصہ نکالنے اور دیورانی کو سسرال سے نکالنے کے لئے میرا روڈ کے نیا نگر میں رہنے والی ایک خاتون اپنی دیورانی کی 15 ماہ کی بچی کو چوری چھپے اکیلے پاکر اکثر مارتی تھی۔ 14 ستمبر کی سہ پہر کو، باتھ روم جاتے ہوئے پریشان ماں اپنے بچے پر نظر رکھنے کے لئے اپنے شوہر کی پینٹ میں اپنا موبائل آن کرکے باتھ روم گئی۔ جب عاصمہ فردوس شیخ نے باہر آکر موبائل دیکھا تو حیران رہ گئی۔ دراصل گہری نیند میں سوئی ہوئی لڑکی کی ماں جیسے ہی بیت الخلا گئی، جیٹھانی نے بیٹی کو بری طرح زدوکوب کیا۔ اس پورے سانحہ کو کیمرے نے قید کرلیا۔



    موبائل کے ذریعہ پکڑی گئی پٹائی کی فوٹیج کی بنیاد پر ملزم جیٹھانی ریشمہ محمد فیروز کے خلاف نیا نگر پولیس اسٹیشن میں مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ لڑکی کے والدین اور دادا کی جانب سے دی گئی شکایت اور ویڈیو فوٹیج کی بنیاد پر نیا نگر پولیس نے ریشمہ محمد فیروز کے خلاف چلڈرن جسٹس ایکٹ 1986 کے تحت مقدمہ درج کرلیا ہے۔ ریشمہ اپنے شوہر محمد فیروز کے ہمراہ  گھر چھوڑ کر بھاگ گئی ہے۔ حالانکہ ویڈیو کے ذریعے واقعہ کا انکشاف ہوا ہے اور پولیس ملزمین کی تلاش کر رہی ہے۔
    Published by:Nisar Ahmad
    First published: