ہوم » نیوز » وسطی ہندوستان

جھارکھنڈ اسمبلی انتخابات:تیسرے مرحلے کے تحت 17 سیٹوں پرووٹنگ جاری، سخت حفاظتی انتظامات

جھارکھنڈ میں اسمبلی کی 81 میں سے تیسرے مرحلے کی 17 نشستوں کے لئے سخت سیکورٹی انتظامات کے درمیان آج صبح 7 بجے سے پولنگ جاری ہے۔

  • Share this:
جھارکھنڈ اسمبلی انتخابات:تیسرے مرحلے کے تحت 17 سیٹوں پرووٹنگ جاری، سخت حفاظتی انتظامات
جھارکھنڈ اسمبلی انتخابات:تیسرے مرحلے کے تحت 17 سیٹوں پرووٹنگ جاری، سخت حفاظتی انتظامات۔(فائل فوٹو، تصویر:نیوز18)۔

جھارکھنڈ میں اسمبلی کی 81 میں سے تیسرے مرحلے کی 17 نشستوں کے لئے سخت سیکورٹی انتظامات کے درمیان آج صبح 7 بجے سے پولنگ جاری ہے۔ الیکشن کمیشن کے مطابق تیسرے مرحلے کے لئے کوڈرما، بركٹھا، برهي، بركاگاؤں، رام گڑھ، مانڈو، ہزاری باغ، سمريا (محفوظ)، دھن وار، گوميا، بیرمو،ا يچاگڑھ، سلی، كھجري (ایس یو)، رانچی، هٹيا اور کانکے (ایس یو) میں سخت حفاظتی انتظامات کے درمیان آج صبح 7 بجے سے پولنگ جاری ہو گئی۔




ان 17 نشستوں میں سے بركٹھا، رام گڑھ، رانچی، هٹيا اور کانکے سیٹ کے لئے صبح7 بجے سے شام5 بجے تک ووٹر اپنے ووٹ کے حق کااستعمال کر سکیں گے۔ وہیں، کوڈرما، برهي، مانڈو، ہزاری باغ، سمريا، بڑكاگاؤں، دھن وار، گوميا، بیرمو،ا يچاگڑھ،سلی اور كھجري سیٹ کے لئے صبح 7 بجے سے شام3 بجے تک پولنگ ہوگی۔ جن اسمبلی سیٹوں کیلئے ووٹنگ کے اختتام کا وقت شام 3 اور5 بجے تک ہے، وہاں اس وقت تک موجود تمام ووٹرز ووٹ دے سکیں گے۔



غور طلب ہے کہ تیسرے مرحلے کی 17 اسمبلی سیٹوں کے لیے ہونے والے انتخابات میں جن سرکردہ لیڈروں کی ساکھ داؤ پر لگی ہے ان میں شہری ترقیات کے وزیر سی پی سنگھ، انسانی وسائل اور ترقیات کے وزیر نیرا یادو، جھارکھنڈ کے پہلے وزیراعلیٰ اور جھارکھنڈ وکاس مورچہ (جے وی ایم ) کے صدر بابولال مرانڈی اور سابق نائب وزیراعلیٰ اور آل جھارکھنڈ اسٹوڈنٹس یونین (آجسو)کے سربراہ سدیش مہتو شامل ہیں۔



اس مرحلہ میں 32 خواتین سمیت کل 309 امیدوار انتخابی میدان میں ہیں۔ ان میں سے سب سے زیادہ 31 امیدوارا يچاگڑھ اور سب سے کم 12-12 امیدوار رانچی اور کانکے اسمبلی سیٹ کے لئے ہیں۔ان کی قسمت کا فیصلہ 5606743 ووٹرز آج شام تک 7016 پولنگ مراکز پر اپنے ووٹ کا استعمال کر کے الیکٹرانک ووٹنگ مشین (ای وی ایم) میں قید کر دیں گے۔ ووٹروں میں 2932657 مرد، 2673991 خواتین اور 95 خواجہ سرا ووٹرز شامل ہیں۔ شہری علاقے میں 1293 اور دیہی علاقوں میں 5723 پولنگ بوتھ بنائے گئے ہیں۔ 2014 مراکز پر ویب كاسٹنگ کا انتظام کیا گیا ہے وہیں 329 ماڈل پولنگ اسٹیشن اور 44 خواتین پولنگ بوتھ بنائے گئے ہیں۔

 



الیکشن کمیشن نے بتایا کہ 17 سیٹوں پر ہونے والی ووٹنگ کو لے کر سیکورٹی کے زبردست انتظامات کئے گئے ہیں۔ تمام پولنگ مراکز پر جوان تعینات کئے گئے ہیں اور مسلسل گشت کی جا رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس مرحلہ میں جن اسمبلی نشستوں کے لیے انتخابات ہو رہے ہیں، ان میں سے بہت سے نکسل متاثرہ ہیں۔ اس کی وجہ سے انتہائی حساس اور حساس ترین ووٹنگ مراکز کی حفاظت کے لئے سیکورٹی فورسز کو تعینات کیا گیا ہے۔ پولنگ مراکز کو نکسل اور غیر نکسل بنیاد پر حساس اور انتہائی حساس پولنگ اسٹیشنوں کے زمرے میں رکھا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ نکسل متاثرہ علاقوں میں 1008 انتہائی حساس اور 543 حساس پولنگ اسٹیشن ہیں وہیں غیر نکسل حساس پولنگ اسٹیشنوں کی تعداد 1119 اور انتہائی حساس پولنگ اسٹیشنوں کی تعداد 2672 ہے۔ ان کے علاوہ عام پولنگ مراکز کی تعداد 1674 ہے۔ حساس اور انتہائی حساس پولنگ اسٹیشنوں میں سیکورٹی فورس کے جوان تعینات کئے گئے ہیں۔





First published: Dec 12, 2019 10:00 AM IST