ہوم » نیوز » وسطی ہندوستان

جھارکھنڈ اسمبلی انتخابات نتائج :کس کے سر پرسجے گاتاج ،ووٹوں کی گنتی کاآغاز

جھارکھنڈ میں اسمبلی کی کل 81 سیٹوں کیلئے پیر کو سخت حفاظتی انتظامات کے مابین صبح آٹھ بجے سے گنتی شروع ہوگئی ہے

  • Share this:
جھارکھنڈ اسمبلی انتخابات نتائج :کس کے سر پرسجے گاتاج ،ووٹوں کی گنتی کاآغاز
جھارکھنڈ چناؤ نتائج، کانگریس و جے ایم ایم اتحاد اکثریت کے قریب

جھارکھنڈ میں اسمبلی کی کل 81 سیٹوں کیلئے پیر کو سخت حفاظتی انتظامات کے مابین صبح آٹھ بجے سے گنتی شروع ہوگئی ہے ۔ ابتدائی رجحانات میں بی جے پی  اور جے ایم ایم کانگریس اتحاد کے درمیان سخت کاٹنے کی ٹکرنظرآرہی ہے ۔ الیکشن کمیشن کے مطابق شام سات بجے تک آخری نتائج آنے کی امید ہے ۔


 




سب سے پہلے تورپا اور چندن کیاری اسمبلی سیٹ کی وہیں سب سے بعد میں چترہ سیٹ کے نتائج آنے کی امید ہے ۔ کیونکہ ان دو سیٹوں میں سب سے کم 13-13 راﺅنڈ کی گنتی ہوگی جبکہ چترہ میں سب سے زیادہ 28 راﺅنڈ میں گنتی پوری کی جائے گی ۔ چیف الیکشن افسر نے بتایاکہ ہر ایک راﺅنڈ کی رپورٹ فائنل ہونے کے بعد دوسرے راﺅنڈ کی گنتی شروع ہوگی ۔ ہر ایک ٹیبل پر رائے شماری اسسٹنٹ ، سپر وائزر اور مائیکرو آبزرور موجود رہیں گے۔ مختلف سیاسی جماعتوں کے ایجنٹ بھی گنتی اور پریزائیڈنگ آفیسر کے ٹیبل پر موجود رہیں گے ۔ انہوں نے بتایاکہ پوسٹل بیلٹ کی گنتی کے وقت ایک اور رائے شماری اسسٹنٹ کو دیاجائے گا۔
 



چوبے نے بتایاکہ ووٹر ویریفائڈ پیپر آڈٹ ٹریل ( وی وی پیٹ ) سے ملان کے بعد ہی آخری نتائج جاری کئے جائیں گے۔ آخری دور کی گنتی کے بعد متعلقہ اسمبلی حلقوں کے پانچ ۔ پانچ پولنگ مراکز کی رینڈملی جانچ کی جائے گی ۔ درست نتائج آنے کے بعد ہی آخری نتائج کا اعلان کیاجائے گا۔

واضح رہے کہ جھارکھنڈ کے وزیراعلیٰ رگھور داس ، اپوزیشن لیڈر اور جھارکھنڈ مکتی مورچہ ( جے ایم ایم) کے کارگذار چیئر مین ہیمنت سورین ، سابق وزیراعلیٰ اور جھارکھنڈ ویکاس مورچہ ( جے وی ایم) سپریمو بابو لال مرانڈی ، بھارتیہ جنتا پارٹی ( بی جے پی) کے باغی لیڈر اور سابق وزیر سوریو رائے ، اسمبلی اسپیکر دنیش اڑاﺅں ، جھارکھنڈ بی جے پی کے صدر لکشمن گیلوا ، آل جھارکھنڈ اسٹوڈینٹس یونین ( آجسو) سپریمو اور سابق نائب وزیراعلیٰ سودیش مہتو اور سماجی فلاح کی وزیر لوئس مرانڈی کی قسمت کا فیصلہ ہوجائے گا۔

جھارکھنڈ میں سال 2014 کے اسمبلی انتخاب میں بی جے پی کو 37 اور آجسو کو پانچ سیٹیں ملی تھیں۔ بعد میں جے وی ایم کے چھ اراکین اسمبلی بی جے پی میں شامل ہوگئے ۔ ابھی بی جے پی کے پاس 43 اراکین اسمبلی ہیں ۔ وہیں اس انتخاب میں کانگریس نے چھ اور جے ایم ایم نے 19 نشستیں جیتی تھیں۔
First published: Dec 22, 2019 10:32 PM IST