ہوم » نیوز » وطن نامہ

مودی حکومت کےدورمیں پاکستان میں گھس کردہشت گردوں کوکیاگیاہلاک،امت شاہ کا خطاب

جب ملک کے عوام نے2014 میں مرکزکی ذمہ داری نریندرمودی کی حکومت کوسونپی ہے توانہوں نے ملک کے لئے ایک مناسب دفاعی پالیسی تیارکرلی ہے۔

  • Share this:
مودی حکومت کےدورمیں پاکستان میں گھس کردہشت گردوں کوکیاگیاہلاک،امت شاہ کا خطاب
مودی حکومت کے دورمیں پاکستان میں گھس کردہشت گردوں کو کیا گیا ہلاک،امت شاہ کا خطاب

جھارکھنڈ میں اسمبلی انتخابات کی مہم کے دوران، بی جے پی کے قومی صدرامت شاہ نے جمعرات کوکانگریس پرسنگین الزامات عائد کیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یو پی اے حکومت کے دور میں، پاکستان کی سرپرستی میں دہشت گرد ملک میں حملےکرکے فرارہوجاتے تھے۔ لیکن وزیراعظم نریندرمودی کی حکومت میں دہشت گردانہ حملوں کے جواب میں ہندوستانی فوج، پاکستان میں داخل ہوئے اوراسے کرارا جواب دے رہی ہے۔جس کی وجہ سے متعدد دہشت گردوں کی ہلاکتیں ہوئی ہے۔

مرکزی وزیرداخلہ شاہ نے الزام لگایا،"دہشت گرد جب چاہیں ملک میں داخل ہوتے تھے اورحملہ کرکے فرارہوجاتے تھے۔ لیکن جب ملک کے عوام نے2014 میں مرکزکی ذمہ داری نریندرمودی کی حکومت کوسونپی ہے توانہوں نے ملک کے لئے ایک مناسب دفاعی پالیسی تیارکرلی ہے۔ اس کے تحت، دہشت گردوں کے صرف دوبڑے حملوں کے جواب میں، ہندوستانی افواج پاکستان میں داخل ہوئیں اوردہشت گردوں کے خلاف زبردست حملے کیے،امت شاہ نے کہا کہ ہندوستان نے سرجیکل اسٹرائیک کے ذریعہ دہشت گردوں کاخاتمہ کردیاہے۔

امیت شاہ نے کہا ، "کانگریس کے دور حکومت میں ، دہشت گرد ملک میں گھسے ہوئے تھے اور حملہ کرتے تھے اور وزیر اعظم کی آواز نہیں نکلی تھی۔ لیکن مودی حکومت کے دور میں ، جیسے ہی اڑی میں ہندوستانی فوج کے کیمپ پر حملہ ہوا ، ہماری افواج پاکستان کی سرحد میں داخل ہوئیں اور سرجیکل اسٹرائیک کرتے ہوئے، دہشت گردوں کے تمام ٹھکانوں کو تباہ کردیا۔ اسی طرح جب دہشت گردوں نے 14 فروری 2019 کو پلوامہ میں سینٹرل ریزرو پولیس فورس (سی آر پی ایف) کی بس پرحملہ کرکے ہمارے فوجیوں کو ہلاک کیا تو ہماری فضائیہ ایک بار پھربالاکوٹ میں پاکستان کی سرحد میں داخل ہوئی۔ دہشت گردوں کے ٹھکانوں پرمتعدد مقامات پرحملہ کیا گیا جس میں بڑی تعداد میں دہشت گرد مارے گئے۔

مرکزی وزیر داخلہ اور بی جے پی کے قومی صدرامت شاہ نے آج دعویٰ کیا کہ مرکز کی بی جے پی حکومت دیگر پسماندہ طبقات ( او بی سی ) کے لوگوں کو مزید ریزرویشن دینے کی اسکیم پر کام کر رہی ہے ۔امت شاہ نے یہاں منیکا کے ہائی اسکول میدان میں انتخابی ریلی کو خطاب کرتے ہوئے کہاکہ گذشتہ ستر سالوں میں کانگریس نے کبھی بھی او بی سی کی عزت نہیں کی ۔ یہ تووزیراعظم نریندرمودی کی حکومت ہے جس نے اوبی سی کمیشن کو آئینی درجہ عطا کیا ہے۔   بی جے پی صدر نے کہاکہ حکومت نے جموں ۔ کشمیر کو خصوصی موقف دینے والے آئین کے آرٹیکل 370 اور 35 اے کو ختم کرکے ملک میں دہشت گردوںکے انٹری گیٹ کو ہمیشہ کیلئے بند کر دیا ہے ۔انہوں نے رام جنم بھومی کا معاملہ اٹھاتے ہوئے کہاکہ سبھی چاہتے تھے کہ رام مندر اجودھیا میں بنے ۔ اس سے متعلق سپریم کورٹ کے حال ہی میں آئے فیصلہ نے مندر تعمیر کا راستہ صاف کردیاہے۔   امت شاہ نے دعویٰ کیاکہ مرکز کی نریندر مودی حکومت میں ملک کے مسائل کا ایک ۔ ایک کرحل نکالا جارہا ہے ۔ انہوںنے کہاکہ جب سارا ملک برٹش حکومت کے خلاف لڑرہا تھا اس وقت اس علاقہ کے لوگ بھی ایک بڑی لڑائی لڑرہے تھے۔اس دوران اس علاقہ کے انوراگ شکلا اور بیجے سورینگ نے عظیم قربانی دی تھی ۔بی جے پی صدر نے کانگریس پر مزید حملہ کرتے ہوئے کہاکہ جب تک کانگریس اقتدار میں رہی تب تک جھارکھنڈ ریاست کی تشکیل نہیں ہوسکی لیکن جب مرکزمیں اٹل بہارواجپئی کی حکومت بنی تب یہ ممکن ہوا۔ انہوں نے کہاکہ جھارکھنڈ کے عظیم مجاہدین کی قربانیوں کا نتیجہ ہے کہ ریاست کے لوگ تعلیم یافتہ ہو پائے اور ان کی زندگی میں خوشحالی آپائی۔ لیکن گذشتہ 14 سال میں اس ریاست میں کانگریس اور جھارکھنڈمکتی مورچہ ( جے ایم ایم ) کی حکومت میں ریاست کا سیاسی استحکام چوپٹ رہا ۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا قدرتی وسائل سے مالا مال جھارکھنڈ کے لوگوں کو کوئی فائدہ نہیں مل پایا ۔ امت شاہ نے کہاکہ کانگریس اور جے ایم ایم دونوں اب غریب قبائلیوں اور اوبی سی کے فلاح کی بات کر رہے ہیں لیکن اس طبقہ کے لوگوں کو سوچنا ہوگا کہ ان جماعتوں کی حکومت نے کیوں انہیں گھر ، بجلی ، رسوئی گیس ، ہیلتھ کارڈ ، بیت الخلاءاور روزگار دستیاب نہیں کرایا ۔ انہوں نے کہاکہ جھارکھنڈمیں گذشتہ پانچ سال میں ترقی کے کام ہوئے ہیں ۔ ریاست میں بی جے پی حکومت نے گذشتہ پانچ سال میں وہ کر دکھایا ہے جو کانگریس سترسال میںبھی نہیںکر پائی ۔ نیوزایجنسی یواین آئی کے ان پٹ کے ساتھ نیوز18 کی رپورٹ
First published: Nov 21, 2019 09:10 PM IST