ہوم » نیوز » وسطی ہندوستان

اقلیتی طلباء کے لئے مختص مرکزی حکومت کی اسکالر شپ اسکیم، ہیمنت سورین کا بڑا فیصلہ

وزیر اعلیٰ ہیمنت سورین نے میڈیا میں آئی خبروں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اقلیتی طلباء کی تعلیمی ترقی کے لئے چلائے جا رہے مرکزی حکومت کی اسکالر شپ اسکیم میں بڑے پیمانے پر فرضی واڑے کا انکشاف ہوا ہے۔

  • Share this:
اقلیتی طلباء کے لئے مختص مرکزی حکومت کی اسکالر شپ اسکیم، ہیمنت سورین کا بڑا فیصلہ
اقلیتی طلباء کی تعلیمی ترقی کے لئے چلائے جا رہے مرکزی حکومت کی اسکالر شپ اسکیم گھوٹالہ معاملہ، جھارکھنڈ کے وزیر اعلیٰ ہیمنت سورین کا جانچ کرانےکا فیصلہ

رانچی: جھارکھنڈ کے وزیر اعلیٰ ہیمنت سورین نے مرکزی حکومت کی اسکالر شپ اسکیم گھوٹالہ معاملہ میں جانچ کرانے کا فیصلہ لیا ہے۔ وزیر اعلیٰ ہیمنت سورین نے میڈیا میں آئی خبروں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اقلیتی طلباء کی تعلیمی ترقی کے لئے چلائے جا رہے مرکزی حکومت کی اسکالر شپ اسکیم میں بڑے پیمانے پر فرضی واڑے کا انکشاف ہوا ہے۔ انہوں نے تمام معاملوں کی جانچ کرانے کی بات کہتے ہوئے سابقہ بی جے پی حکومت اور اس وقت کے وزیر اقلیتی فلاح و بہبود ڈاکٹر لوئیس مرانڈی پر نشانہ سادھا ہے۔


واضح رہے کہ اقلیتی طلباء کی تعلیمی ترقی کے لئے چلائے جا رہے مرکزی حکومت کی اسکالر شپ اسکیم یعنی پری میٹرک ۔ پوسٹ میٹرک اور میرٹ کم مینس اسکالر شپ اسکیم میں بڑے پیمانے پر گھوٹالے کا انکشاف کی خبر نیوز 18 اردو کے ذریعہ گذشتہ ٢٨ ستمبر کو بڑی اہمیت کے ساتھ نشر کی گئی تھی۔ اس کے بعد مختلف مڈیا کے ذریعہ بھی اس معاملے کو اجاگر کیا گیا۔ جھارکھنڈ طلباء یونین کے صدر شمیم علی نے الزام لگایا کہ گذشتہ تین سالوں سے ایک گروہ کے ذریعہ فرضی ڈاکومنٹس کی بنیاد پر آن لائن اپلائی کرکے اسکالر شپ کی رقم حاصل کی جا رہی ہے۔


انہوں نے دعویٰ کیا کہ جو طلباء و طالبات اپنی تعلیم منقطع کر چکے ہیں ان کے نام پر اسکالرشپ کی رقم حاصل کی جا رہی ہے۔ بوکارو کے سماجی کارکن افضل انیس نے دعویٰ کیا کہ ریاست کے تقریباً تمام اضلاع میں ایک گروہ کے ذریعہ طلباء اور ان کے سرپرستوں کو بیرون ممالک سے رقم فراہمی کا لالچ دے کر آدھار کارڈ اور بینک اکاؤنٹ کا ڈیٹیلس حاصل کیا جا رہا ہے اور اکاؤنٹ میں رقم آنے پر نصف رقم دینے کے شرط پر پورے فرضی واڑے کا کھیل کھیل جا رہا ہے۔


دلچسپ بات تو یہ ہے کہ فارم بھرنے کے وقت اس گروہ کے ذریعہ 200 سے پانچ سو روپئے بھی وصولے گئے ہیں ۔ ان تمام دعووں کو پیش کرتے ہوئے افضل انیس نے کہا کہ اس فرضی واڑے کے ذریعہ کروڑوں روپئے حاصل کئے گئے اور حقدار طلباء اور طالبات کو اس اسکیم کے فائدے سے محروم کیا گیا۔ اب اس معاملے میں وزیر اعلیٰ ہیمنت سورین کے فیصلے سے اقلیتوں میں خوشی دیکھی جا رہی ہے ساتھ ہی یہ امید پیدا ہوئی ہے کہ اب اقلیتی طلباء کو اس منصوبے کا خاطر خواہ فائدہ حاصل ہوگا اور ان کی تعلیمی ترقی کا امکان روشن ہوگا۔
Published by: Nisar Ahmad
First published: Nov 02, 2020 11:57 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading