உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    OMG: تنتر منتر کے چکر میں خاتون کے پستان اور پرائیویٹ پارٹ کو کاٹا، پھر کیا ایسا خوفناک کام، پانچ گرفتار

    OMG: تنتر منتر کے چکر میں خاتون کے پستان اور پرائیویٹ پارٹ کو کاٹا، پھر کیا ایسا خوفناک کام، پانچ گرفتار

    OMG: تنتر منتر کے چکر میں خاتون کے پستان اور پرائیویٹ پارٹ کو کاٹا، پھر کیا ایسا خوفناک کام، پانچ گرفتار

    Jharkhand News: جھارکھنڈ کے گڑھوا ضلع سے ایک دل دہلا دینے والا معاملہ سامنے آیا ہے۔ یہاں ایک خاتون کو توہم پرستی میں بے دردی سے موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔

    • Share this:
      گڑھوا : جھارکھنڈ کے گڑھوا ضلع سے ایک دل دہلا دینے والا معاملہ سامنے آیا ہے۔ یہاں ایک خاتون کو توہم پرستی میں بے دردی سے موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔ یہ واقعہ نگر اوٹاری تھانہ علاقہ کے جنگی پور گاؤں میں پیش آیا ۔ سات دن پہلے گڑیا نامی ایک خاتون کو اس کی اپنی بہن اور بہنوئی دنیش اوراوں نے تنتر منتر کی تکمیل کے لیے استعمال کیا ۔ پہلے دن انہوں نے گڑیا کی زبان کاٹ دی۔ اس کے بعد دوسرے دن اس کے پستان اور پرائیویٹ پارٹ کو کاٹ کر اس کو موت کے گھاٹ اتار دیا ۔ یہ سب کچھ مقتولہ خاتون کے شوہر کے سامنے کیا گیا ۔

       

      یہ بھی پڑھئے: عاشق کے ساتھ تعلقات بنا رہی تھی ماں، بیٹے نے رنگے ہاتھوں پکڑا تو اٹھایا ایسا خوفناک قدم


      شوہر نے بتایا کہ وہ اپنی اور بچوں کی جان بچانے کیلئے یہ سب کچھ ہوتا ہوا دیکھتا رہا۔ اوجھا بہن اور بہنوئی خاتون کی لاش کو تھانہ رانکا علاقہ کے کھورا گاؤں لے گئے اور اسے جلا دیا اور خاموشی سے گھر لوٹ گئے۔ حالانکہ جب شوہر کو اپنی بیوی کی یاد آنے لگی تو اس نے لوگوں کو پورے واقعہ کی جانکاری دی ۔

       

      یہ بھی پڑھئے: چار سال کے بچے کو کاٹتے ہی زہریلے کوبرا کی تڑپ تڑپ کر موت، معصوم پوری طرح صحتمند


      واقعہ کی اطلاع ملتے ہی نگر اوٹاری پولیس فوری طور پر متاثرہ کے گھر پہنچی اور اس کے شوہر سے پوچھ گچھ کی ۔ پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے پانچ افراد کو گرفتار کر لیا ہے اور ان سے پوچھ گچھ کی جا رہی ہے ۔ اس واقعہ سے علاقہ میں خوف و ہراس کا ماحول ہے۔ سب سے بڑی بات یہ ہے کہ واقعہ کے پانچ دن گزرنے کے بعد بھی پولیس کو اس کا علم تک نہیں ہوا ۔

      مقتولہ خاتون کے شوہر نے بتایا کہ ملزم نے اس کے سامنے پوری واردات انجام دی۔ پولیس افسر پرمود کیشری نے بتایا کہ خاتون کا قتل کیا گیا ہے ۔ ہم اس کی جانچ کر رہے ہیں۔
      Published by:Imtiyaz Saqibe
      First published: