ہوم » نیوز » وسطی ہندوستان

جھارکھنڈ میں اب تک مدرسہ امتحانات 2020 کا نہیں ہوا انعقاد، مدارس کے طلباء اور اساتذہ سخت پریشان

کورونا وبا کی وجہ سے 23 مارچ سے لاک ڈاؤن نے امتحانات کے انعقاد پر رخنہ ڈال دیا۔ اب جبکہ تمام بورڈ کے 10 ویں اور 12 ویں امتحانات کے نتائج کا اعلان ہو گیا ہے، لیکن مدرسہ امتحان کی تاریخ کا بھی اعلان نہیں ہوا جس وجہ سے طلباء اور اساتذہ سمیت سرپرست بھی سخت پریشان ہیں۔

  • Share this:
جھارکھنڈ میں اب تک مدرسہ امتحانات 2020 کا نہیں ہوا انعقاد، مدارس کے طلباء اور اساتذہ سخت پریشان
جھارکھنڈ میں اب تک مدرسہ امتحانات 2020 کا نہیں ہوا انعقاد، مدارس کے طلباء اور اساتذہ سخت پریشان

رانچی: جھارکھنڈ میں مدرسہ امتحانات 2020 کا انعقاد اب تک نہیں ہو پایا ہے۔ گذشہ فروری اور مارچ کے اوائل میں وسطانیہ تا مولوی درجہ کے امتحانات میں شرکت کے لئے ہزاروں کی تعداد میں طلباء اور طالبات نے فارم بھرے تھے، لیکن کورونا وبا کی وجہ سے 23 مارچ سے لاک ڈاؤن نے امتحانات کے انعقاد پر رخنہ ڈال دیا۔ اب جبکہ تمام بورڈ کے 10 ویں اور 12 ویں امتحانات کے نتائج کا اعلان ہو گیا ہے، لیکن مدرسہ امتحان کی تاریخ کا بھی اعلان نہیں ہوا جس وجہ سے طلباء اور اساتذہ سمیت سرپرست بھی سخت پریشان ہیں۔ واضح رہے کہ جھارکھنڈ میں مدرسہ بورڈ کا وجود نہیں ہے۔ ریاست کی تشکیل کے 19 سال سے زائد کا عرصہ گزرنے کے باوجود جھارکھنڈ کے مسلمانوں کا یہ دیرینہ مطالبہ اب تک پورا نہیں ہو پایا ہے۔


ریاست میں مدرسہ امتحانات کا انعقاد 15 نومبر 2000 میں ریاست کی تشکیل کے بعد سے ہی جھارکھنڈ اکیڈمک کونسل کے تحت ہوتے رہی ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ انٹرمیڈیٹ امتحانات تک کے اسناد فراہم کرنے کی اہلیت رکھنے والے اس کونسل کے ذریعہ عالم و فاضل تک کے امتحانات کے انعقاد بھی کئے جاتے رہے۔ کونسل کے ذریعہ فراہم کردہ عالم و فاضل امتحانات کے اسناد کا دیگر صوبوں میں اہمیت نہیں ملنے کی شکایت بھی جاتی رہیں، لیکن تمام شکایتوں کے باوجود تقریباً 18 سالوں تک کونسل کے ذریعہ وسطانیہ تا فاضل درجہ تک کے امتحانات کے انعقاد کئے جاتے رہے۔ حالانکہ گذشتہ سال ریاستی حکومت نے رانچی یونیورسٹی کے ذریعہ عالم و فاضل امتحانات کے انعقاد کرنے کے تعلق سے احکامات جاری کئے۔


تمام بورڈ کے 10 ویں اور 12 ویں امتحانات کے نتائج کا اعلان ہو گیا ہے، لیکن مدرسہ امتحان کی تاریخ کا بھی اعلان نہیں ہوا جس وجہ سے طلباء اور اساتذہ سمیت سرپرست بھی سخت پریشان ہیں۔
تمام بورڈ کے 10 ویں اور 12 ویں امتحانات کے نتائج کا اعلان ہو گیا ہے، لیکن مدرسہ امتحان کی تاریخ کا بھی اعلان نہیں ہوا جس وجہ سے طلباء اور اساتذہ سمیت سرپرست بھی سخت پریشان ہیں۔


یونیورسٹی کے ذریعہ ان انتخابات کے لئے سیلیبس بھی مرتب کئے گئے، لیکن اس موضوع پر یونیورسٹی نے عالم و فاضل امتحانات کے لئے فارم بھرنے والے طلباء کے مدارس کے لئے ایسے شرائط پیش کردیئےکہ ان شرائط پر کوئی بھی مدرسہ کھرے نہیں اترے۔ مدرسہ کے نام سے پانچ ایکڑ زمین کا ہونا ان شرائط میں ایک شرط تھے، نتیجتاً حکومت اپنے دوسرے حکم نامہ کے ذریعہ عالم و فاضل امتحانات کے انعقاد کا ذمہ ریاست کے ہزاری باغ واقع سدھو کانہو یونیورسٹی کو سونپ دیا گیا، لیکن اس یونیورسٹی کے ذریعہ اس معاملہ پر خاموشی اختیار کر لی گئی۔ یعنی عالم و فاضل امتحانات کے انعقاد کے تعلق سے اب تک نہ تو اکیڈمک کونسل کو اور نہ ہی محکمہ تعلیم کو اطلاع دی گئی۔

وہیں جھارکھنڈ اکیڈمک کونسل نے امسال سے عالم و فاضل امتحانات کے انعقاد سے اپنے ہاتھ کھڑے کر لئے ہیں۔ کونسل کے چیئرمین ڈاکٹر اروند پرساد کا واضح طور پرکہنا ہے کہ ان کا یہ ادارہ انٹرمیڈیٹ تک کے امتحانات کے اسناد فراہم کرنے کی اہلیت رکھتی ہے، ایسے میں عالم و فاضل امتحانات کے انعقاد کیسے ممکن ہے۔ یعنی ایک جانب ریاست کے عالم و فاضل درجہ کے سینکڑوں طلباء اور طالبات امتحانات کے انعقاد کے تعلق سے واضح احکامات نہ ملنے سے پریشان ہیں۔ وہیں ہزاروں کی تعداد میں وسطانیہ تا مولوی درجہ کے طلباء اور طالبات امتحانات کے انعقاد کی تاریخ کے اعلان نہ ہونے سے پریشان ہیں۔ ایسے میں حکومت کے رویہ سے ریاست کے مدرسہ طلباء اور طالبات کے مستقبل کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔
Published by: Nisar Ahmad
First published: Jul 20, 2020 06:00 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading