تبریز انصاری کی ہجومی تشدد میں موت کے خلاف جمعیت علما ہند نے کیا احتجاج ، سخت کارروائی کا مطالبہ

تبریز انصاری کی ہجومی تشدد میں موت کے خلاف جمعیۃ علماء ہند کے زیر اہتمام رانچی کے ذاکر حسین پارک راج بھون میں احتجاجی مظاہرہ منعقد ہوا، جس میں جمعیۃ علماء ہند کے مرکزی و ریاستی قائدین سمیت بڑی تعداد میں لوگ شریک ہوئے۔

Jun 26, 2019 09:59 PM IST | Updated on: Jun 26, 2019 09:59 PM IST
تبریز انصاری کی ہجومی تشدد میں موت کے خلاف جمعیت علما ہند نے کیا احتجاج ، سخت کارروائی کا مطالبہ

جھارکھنڈ کے تبریز انصاری کی ہجومی تشدد میں موت کے خلاف جمعیت علما ہند نے کیا احتجاج

سرائے کیلا جھارکھنڈ کے رہنے والے تبریز انصاری کی ہجومی تشدد میں موت کے خلاف جمعیۃ علماء ہند کے زیر اہتمام رانچی کے ذاکر حسین پارک راج بھون میں احتجاجی مظاہرہ منعقد ہوا، جس میں جمعیۃ علماء ہند کے مرکزی و ریاستی قائدین سمیت بڑی تعداد میں لوگ شریک ہوئے۔ اس موقع پر لوگوں نے اس طرح کے واقعات پر بیک زباں شدید ناراضگی کا اظہار کیا اور ریاستی سرکار سے مطالبہ کیا کہ وہ اس طرح کے جرائم کے قصوواروں کے خلاف سخت کارروائی کرے ۔

جمعیۃ علما ہند کے جنرل سکریٹر ی مولانا محمو د مدنی نے احتجاجی مظاہرے کے انعقاد کے بعد نئی دہلی میں اس عزم کا اظہار کیا کہ اگر ر یاستی سرکاروں نے اس سلسلے میں سپریم کورٹ کی ہدایات پر عمل نہیں کیا او راس کی روک تھام کے لیے موثر تدابیر اختیار نہیں کی ، تو جمعیۃ علماء ہند ملک گیر سطح پر احتجاج کرنے پر مجبور ہو گی ۔

Loading...

رانچی میں احتجاج کے بعد ایک نمائندہ اعلی سطحی وفد نے جھارکھنڈ کی گورنر اور ریاست کے وزیر اعلی رگھوبر داس کو مطالبات پر مشتمل میمورنڈم پیش کیا۔ وفد میں جمعیۃ علماء ہند کے سکریٹری مولانا نیاز احمد فاروقی ، سپریم کورٹ کے وکیل اور رکن مجلس عاملہ جمعیۃ علما ہند ایڈوکیٹ شکیل احمد سید ، مولانا متین الحق اسامہ کانپور صدر جمعیۃ علماء یوپی، مولانا ابوبکر قاسمی ناظم اعلی جمعیۃ علماء جھارکھنڈ اور دیگر افراد شامل تھے۔

میمورنڈ م میں سرکار سے مطالبہ کیا گیا کہ تبریز انصاری کے قاتلوں، خاطی پولس افسران اور لاپروا ڈاکٹروں کے خلاف فورا مقدمہ قائم کیا جائے اور قصورواروں کو ایسی سزا دی جائے کہ وہ دوسروں کے لیے مثال بن سکے ۔ نیز مقتول کی بیوہ کو معقول معاوضہ دیا جائے اور اس کے مستقبل کے تحفظ کے لیے سرکاری ملازمت دی جائے۔

Loading...