ہوم » نیوز » وسطی ہندوستان

جھارکھنڈ کے منظور شدہ مدارس کے ملازمین فاقہ کشی کے شکار، گذشتہ 40 ماہ سے تنخواہ سے ہیں محروم

جھارکھنڈ کے منظور شدہ مدارس کے ملازمین گذشتہ 40 ماہ سے تنخواہ سے محروم ہیں۔ سابقہ بی جے پی حکومت کے ذریعہ ان مدارس کی مادی جانچ کا حکم دیا گیا تھا۔ جانچ کا عمل پورا ہونے تک ان مدارس کے ملازمین کی تنخواہ ادائیگی پر روک لگائی گئی تھی۔

  • Share this:
جھارکھنڈ کے منظور شدہ مدارس کے ملازمین فاقہ کشی کے شکار، گذشتہ 40 ماہ سے تنخواہ سے ہیں محروم
جھارکھنڈ کے منظور شدہ مدارس کے ملازمین گذشتہ 40 ماہ سے تنخواہ سے محروم ہیں۔ سابقہ بی جے پی حکومت کے ذریعہ ان مدارس کی مادی جانچ کا حکم دیا گیا تھا۔ جانچ کا عمل پورا ہونے تک ان مدارس کے ملازمین کی تنخواہ ادائیگی پر روک لگائی گئی تھی۔

رانچی: جھارکھنڈ کے منظور شدہ مدارس کے ملازمین گذشتہ 40 ماہ سے تنخواہ سے محروم ہیں۔ سابقہ بی جے پی حکومت کے ذریعہ ان مدارس کی مادی جانچ کا حکم دیا گیا تھا۔ جانچ کا عمل پورا ہونے تک ان مدارس کے ملازمین کی تنخواہ ادائیگی پر روک لگائی گئی تھی۔ واضح رہے کہ متحدہ بہار کے زمانے میں ان مدارس کو بہار مدرسہ ایجوکیشن بورڈ کے ذریعہ منظوری ملی تھی۔ علیحدہ ریاست جھارکھنڈ کا وجود عمل میں آنے کے بعد ریاست جھارکھنڈ کے حصہ میں آنے والے جملہ ١٨٦ منظور شدہ مدارس کے ملازمین کو ریاستی حکومت کے ذریعہ تنخواہ فراہم کیا جاتا رہا ہے، لیکن رگھوور داس کی قیادت والی سابقہ بی جے پی حکومت میں ان مدرسہ کی مادی جانچ کا حکم دیا گیا، ساتھ ہی جانچ کا عمل پورا ہونے تک مدرسہ ملازمین کی تنخواہ ادائیگی پر روک لگائی گئی۔


جانچ کے بعد ٧٢ مدرسوں کے ملازمین کو فراہم ہویے تنخواہ


واضح رہے کہ سابقہ بی جے پی حکومت کے ذریعہ ان مدارس کے ساتھ ساتھ سنسکرت اسکولوں اور اقلیتی تعلیمی اداروں کی بھی مادی جانچ کا حکم دیا گیا تھا۔ اقلیتی تعلیمی اداروں کے نام پر بیشتر عیسائی مشنری کے تعلیمی اداروں کی جانچ کا عمل بیحد قلیل مدت میں ہی پورا کر لیا گیا۔ ساتھ ہی ریاست میں جملہ 12 سنسکرت اسکولوں کی بھی جانچ کا عمل پورا ہو گیا۔ اس تعلق سے ان مدارس کے ملازمین کا دعویٰ ہے کہ عیسائی مشنری کے تمام اقلیتی تعلیمی ادارے اور تمام سنسکرت اسکولوں کو کلین چٹ دے دی گئی اور ان کے ملازمین چند ہی ماہ میں تنخواہ حاصل کرنے لگے، لیکن بیشتر مدارس کے ملازمین اب تک تنخواہ سے محروم ہیں۔


متحدہ بہار کے زمانے میں ان مدارس کو بہار مدرسہ ایجوکیشن بورڈ کے ذریعہ منظوری ملی تھی۔
متحدہ بہار کے زمانے میں ان مدارس کو بہار مدرسہ ایجوکیشن بورڈ کے ذریعہ منظوری ملی تھی۔


مالی بحران کی وجہ سے کئی ملازمین کا ہوا انتقال

عظیم مجاہد آزادی مولانا ابوالکلام آزاد کے ذریعہ رانچی میں قائم کردہ تاریخی مدرسہ اسلامیہ کے صدر مدرس رضوان احمد قاسمی کا کہنا ہے کہ تنخواہوں کی عدم دستیابی کی وجہ سے مدرسہ ملازمین شدید طور پر مالی بحران کے شکار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان میں سے کئی بیمار ملازمین کا بہتر علاج نہ کرا پانے کی وجہ سے انتقال ہو گیا۔ وہیں بیشتر ملازمین قرض میں ڈوب گئے ہیں۔ رضوان قاسمی کہتے ہیں کہ مدرسہ ملازمین اپنے بچوں کو نہ تو بہتر تعلیم فراہم کر پا رہے ہیں اور نہ ہی عمدہ کھانا کھلا پارہے ہیں۔ ستم ظریفی تو یہ ہے کہ دوکاندار اب انہیں قرض میں سامان دینے سے بھی کتراتے ہیں۔

کئی بیمار ملازمین کا بہتر علاج نہ کرا پانے کی وجہ سے انتقال ہو گیا۔ وہیں بیشتر ملازمین قرض میں ڈوب گئے ہیں۔
کئی بیمار ملازمین کا بہتر علاج نہ کرا پانے کی وجہ سے انتقال ہو گیا۔ وہیں بیشتر ملازمین قرض میں ڈوب گئے ہیں۔


موجودہ ریاستی حکومت نے عید سے قبل تحفہ دینے کا کیا تھا وعدہ

ان مدارس کے ملازمین کی اس بار کی عید بھی پھیکی رہی۔ انہیں یہ امید تھی کہ گذشتہ دسمبر میں وجود میں آئی ہیمنت سورین کی قیادت والی موجودہ ریاستی حکومت ان کی تنخواہ ادائیگی کرے گی۔ ماہ رمضان المبارک کے دوران ریاستی وزیر پارلیمانی امور عالمگیر عالم نے بھی عید سے قبل مدرسہ ملازمین کو تنخواہ کے طور پر تحفہ دینے کا وعدہ کیا تھا، لیکن ان کا یہ وعدہ پورا نہیں ہو سکا۔ تاہم نیوز 18 اردو نے جب اس تعلق سے انہیں وعدہ یاد دلایا تو انہوں نے یقین دلایا کہ چند دنوں میں وہ وعدہ پورا ہوگا۔ بہرحال اب دیکھنا یہ ہے سیکولر ازم کا دم بھرنے والی موجودہ ریاستی حکومت ان مدرسہ ملازمین کی تنخواہ ادائیگی میں کس طرح سنجیدہ رویہ اپناتی ہے۔

First published: Jun 02, 2020 09:02 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading