உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    ایس سی-ایس ٹی اور او بی سی کے لئے77فیصد ریزرویشن،مستقل رہائشی کے لئے1932 کے زمینی ریکارڈ کو بنایا بنیاد

    Jharkhand: ہیمنت سورین حکومت نے ایس سی ، ایس ٹی کے ریزرویشن کو لے کر لیا یہ بڑا فیصلہ۔

    Jharkhand: ہیمنت سورین حکومت نے ایس سی ، ایس ٹی کے ریزرویشن کو لے کر لیا یہ بڑا فیصلہ۔

    وزیراعلیٰ ہیمنت سورین کی صدارت میں ریاستی کابینہ کی میٹنگ میں او بی سی ریزرویشن کو موجودہ 14 فیصد سے بڑھا کر 27 فیصد کردیا گیا۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Ranchi, India
    • Share this:
      جھارکھنڈ کی ہیمنت سورین حکومت نے ریاست میں سیاسی عدم استحکام کے منڈرا رہے خطرے کے درمیان کل بدھ کو ریاستی حکومت کی نوکریوں میں ایس سی، ایس ٹی، پچھڑا طبقہ، او بی سی اور اقتصادی طور سے کمزور طبقے کے ارکان کے لئے 77 فیصد ریزرویشن دینے کی تجویز کو اپنی منظوری دے دی ہے۔ ایک عہدیدار نے یہ جانکاری دی۔ وزیراعلیٰ ہیمنت سورین کی صدارت میں ریاستی کابینہ کی میٹنگ میں او بی سی ریزرویشن کو موجودہ 14 فیصد سے بڑھا کر 27 فیصد کردیا گیا۔ ساتھ ہی اے سی اور ایس ٹی طبقے کے ریزرویشن میں دو دو فیصد کا اضافہ کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا۔

      ریاست کی قبائلی تنظیموں نے مسلسل مطالبہ کیا تھا کہ 1932 کھتیان کو بنیاد بنانے کی مانگ کی تھی کیونکہ ان کے مطابق ریاست کے زمینی ریکارڈ کا آخری بار برطانوی حکومت نے 1932 میں سروے کیا تھا۔ یہ فیصلہ ان کے مطالبے کی بنیاد پر کیا گیا۔ سی ایم ہیمنت سورین کا یہ فیصلہ منافع بخش عہدوں کے معاملے میں ایم ایل اے کے طور پر نااہل ٹھہرائے جانے کو لے کر جاری قیاس آرائیوں اور ریاست میں سیاسی بحران کے درمیان آیا ہے۔

      یہ بھی پڑھیں:
      ’کون کیاکھائےاورکون کیانہ کھائےاس پرکوئی پابندی نہیں لگاسکتا‘ آر ایس ایس لیڈر

      یہ بھی پڑھیں:
      شاہین باغ بلڈوزر معاملے میں عارفہ خانم ایڈوکیٹ اورامانت اللہ خان کو دہلی ہائی کورٹ سے راحت

      جھارکھنڈ حکومت کی کابینہ سکریٹری وندنا ڈاڈیل نے کابینہ کی میٹنگ کے بعد ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ’ کابینہ نے ایس سی، ایس ٹی، پچھڑا طبقہ، دیگر پچھڑا طبقہ اور اقتصادی طور سے کمزور طبقوں کے لئے 77 فیصد ریزرویشن کے لئے ریاست کی سرکاری خدمات میں عہدوں میں کے ریزرویشن ایکٹ 2001 میں ترمیم کے لئے ریزرویشن بل کو منظوری دے دی ہے۔ سی ایم ہیمنت سورین کی صدارت میں ہوئی ریاستی کابینہ کی میٹنگ میں اس تعلق سے فیصلے لیے گئے۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: