உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    جے این یو تشدد : دہلی پولیس نے ملزمین کی جاری کی تصاویر ، طلبہ یونین صدر آئشی گھوش کا بھی نام

    جے این یو تشدد : دہلی پولیس نے ملزمین کی جاری کی تصاویر ، طلبہ یونین صدر آئشی گھوش کا بھی نام

    جے این یو تشدد : دہلی پولیس نے ملزمین کی جاری کی تصاویر ، طلبہ یونین صدر آئشی گھوش کا بھی نام

    ڈی سی پی جوائے ترکی نے کہا کہ جے این یو طلبہ یونین کی صدر آئشی گھوش نے اس ہجوم کی قیادت کی جس نے نے پانچ جنوری کی شام کو پریار ہاسٹل پر حملہ کیا تھا ۔

    • Share this:
    جواہر لال نہرو یونیورسٹی میں تشدد کے معاملہ میں دہلی پولیس نے کچھ تصاویر جاری کی ہیں ۔ دہلی پولیس کے پی آر او ایم ایس رندھاوا نے تصاویر اور 9 ملزمین کے نام جاری کرتے ہوئے کہا کہ ابھی جانچ جاری ہے ۔ ملزمین میں جے این یو کی طلبہ یونین صدر آئشی گھوش کا نام بھی شامل ہے ۔ وہیں سابرمتی ہاسٹل میں توڑ پھوڑ کا جو ویڈیو سب سے زیادہ وائرل ہوا تھا ، اس کی تصاویر جاری نہیں کی گئی ہیں ۔ پولیس کا کہنا ہے کہ بہت سارے طلبہ پڑھنا چاہتے ہیں ، لیکن لیفٹ کے چار گروپ کے طلبہ انہیں رجسٹریشن نہیں کرانے دے رہے ہیں ۔ اسٹاف کے ساتھ دھکامکی کررہے ہیں ۔ سرور بند کردیا گیا ہے ۔




    ادھر ڈی سی پی جوائے ترکی نے کہا کہ جے این یو طلبہ یونین کی صدر آئشی گھوش نے اس ہجوم کی قیادت کی جس نے نے پانچ جنوری کی شام کو پریار ہاسٹل پر حملہ کیا تھا ۔ انہوں نے کہا کہ اب تک تین کیس درج کئے گئے ہیں اور ہم نے ان کی جانچ کی ہے ۔


    دہلی پولیس کے ذریعہ ملزم بنائے جانے پر جے این یو طلبہ یونین کی صدر آئشی گھوش نے کہا کہ دہلی پولیس اپنی جانچ کرسکتی ہے ، میرے پاس بھی ثبوت موجود ہیں کہ مجھ پر کیسے حملہ کیا گیا ۔




    آئشی گھوش نے مزید کہا کہ ہم نے کچھ غلط نہیں کیا ہے ۔ ہم دہلی پولیس سے خوفزدہ نہیں ہیں ۔ ساتھ ہی ساتھ انہوں نے اپنی مہم کو پر امن طریقہ سے جاری رکھنے کا بھی اعلان کیا ۔
    First published: