جے این یوکے طلباء کا زبردست احتجاج، فیس اضافہ سے ناراض طلباء اورپولیس کے درمیان جھڑپ

حال ہی میں جے این یوکےہاسٹل میں نئی گائڈ لائن جاری کی گئی ہے۔ اس کے بعد پیرکی صبح طلباء نےاس کی زبردست طریقے سے مخالفت شروع کردی۔ طلباء کو ٹیچرس یونین کی بھی حمایت حاصل ہے۔

Nov 11, 2019 07:11 PM IST | Updated on: Nov 11, 2019 07:15 PM IST
جے این یوکے طلباء کا زبردست احتجاج، فیس اضافہ سے ناراض طلباء اورپولیس کے درمیان جھڑپ

فیس اضافہ کے خلاف جےاین یو کے طلباء کا زبردست احتجاج۔ تصویر: پی ٹی آئی

نئی دہلی: فیس اضافہ کولےکرجواہرلال نہرو یونیورسٹی (جے این یو) کے طلباء کے احتجاج کےدوران پولیس اہلکاروں نے طلباء کو ہٹانے کی کوشش کی۔ جے این یومیں فیس اضافہ کو لےکرطلباء وطالبات طویل وقت سے احتجاج کررہے ہیں۔ حال ہی میں جے این یوکے ہاسٹل کے لئے نئی گائڈ لائن جاری کی گئی ہے۔ اس کے بعد پیرکی صبح طلباء نےاس کی زبردست طریقے سےمخالفت شروع کردی۔

اس سے قبل طلباء اورپولیس کےدرمیان دھکا مکی کا ویڈیو بھی سامنے آیا تھا۔ یونیورسٹی کےباہراحتجاج کررہے طلباء کوپولیس نے پیچھے ہٹانے کی کوشش کی۔ بڑی تعداد میں پولیس اہلکاروں کوتعینات کیا گیا تھا۔  وہیں دوسری طرف پیرکی صبح جے این یومیں جلسہ تقسیم اسناد کی تیاری چل رہی تھی۔ تقریباً 10 بجے نائب صدرجمہوریہ وینکیا نائیڈوبھی اس میں شامل ہونے کے لئے پہنچ چکے تھے، جیسے ہی نائب صدرجمہوریہ ہال میں داخل ہوئے، ویسے ہی باہرطلباء نے نعرے بازی شروع کردی۔

ہاسٹل کی نئی گائڈ لائن کوواپس لینے کا مطالبہ

جے این یوکے طلباء نے ہاسٹل کی نئی گائڈ لائن کوواپس لینے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔ طلباء کا الزام ہےکہ اس نئی گائڈ لائن میں ہاسٹل کی فیس میں کئی گنا تک اضافہ کردیا گیا ہے۔ نائب صدرجمہوریہ کی موجودگی میں نعرے بازی ہونے سےانتظامیہ کےہاتھ پاؤں پھول گئے۔ فوراً ہی دہلی پولیس کے جوان طلباء کوروکنےکےلئے پہنچ گئے، جہاں طلباء اورپولیس کے درمیان جھڑپ بھی ہوگئی۔ اس دوران جواہرلال نہرو ٹیچرس یونین نے بھی ان طلباء کے احتجاج کی حمایت کی ہے۔ جے این یوانتظامیہ نےنہ صرف ہاسٹل کی فیس بڑھائی ہےبلکہ ہاسٹل سے متعلق ضابطوں میں بھی تبدیلی کی ہے، جس کے خلاف یہ طلباء مخالفت کررہے ہے۔  

مرکزی وزیرنشنک سے ملے طلباء

جواہرلا ل نہرو یونیورسٹی کے احتجاج کرنے والے طلباء نےآج مرکزی وزیر برائے فروغ انسانی وسائل رمیش پوکھریال نشنک سے مل کر ان سے ہاسٹل فیس اضافہ وغیرہ کے معاملے میں فوری مداخلت کرنے کا مطالبہ کیا۔ ڈاکٹرنشنک نےان طلباءکے مسائل کوغورسےسنا اور یقین دہانی کرائی کہ ان کے مطالبات پرمثبت طریقے سےغورکیا جائے گا۔ واضح ر ہےکہ یہ طلباء گزشتہ 15 دنوں سےفیس میں اضافہ کرنےکےمعاملے میں احتجاجی مظاہرہ کررہے تھے۔ آج ان طلباء نےاتنا زبردست مظاہرہ کیا کہ پولیس کے ساتھ ان کی جھڑپ بھی ہوئی۔ پولیس نے چاروں طرف بیر ی کیٹنگ کردی تھی۔ طلباء کا کہنا ہےکہ کم از کم چالیس فیصد طلبا ء اقتصادی طورپرکمزورطبقےسےآتےہیں اورفیس بڑھ جانےسے ان کےلئےیہاں تعلیم حاصل کرنا مشکل ہو جائےگا۔

Loading...