ہوم » نیوز » وطن نامہ

جے این یو میں طلبا کا احتجاج جاری: وائس چانسلرایم جگدیش کمار کے استعفیٰ کامطالبہ

طلبہ کیمپس میں ہونے والے تشدد کے لئے وائس چانسلر ایم جگدیش کمار کو ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے ان کے استعفی کے مطالبہ پراڑگئے ہیں۔

  • Share this:
جے این یو میں طلبا کا احتجاج جاری: وائس چانسلرایم جگدیش کمار کے استعفیٰ کامطالبہ
جے این یو میں طلبا کا احتجاج۔(تصویر:اے این آئی)۔

جے این یو کے طلباء جواہر لال نہرو یونیورسٹی (JNU) میں تشدد اوراپنے مطالبات کی حمایت کے خلاف احتجاج کررہے ہیں۔ احتجاجی طلبا، پیدل مارچ کرتے ہوئے جے این یو سے منڈی ہاؤس تک جانا چاہتے ہیں۔ لیکن دہلی پولیس اپنی نئی حکمت عملی کے تحت احتجاجی طلباء اور پروفیسرز کو بسوں میں منڈی ہاؤس لے جارہی ہے۔ وہاں انہیں میٹرو اسٹیشن کے قریب روکا جائیگا۔ اس موقع پر پولیس اپنی گاڑیوں میں بسوں کا تعاقب کریگی۔ طالبات کو پیدل چل کر منڈی ہاؤس کی طرف جانے سے روکنے کے لئے ، پولیس نے یونیورسٹی کے نارتھ گیٹ سے آنے والے تمام دروازوں پر سیکیورٹی بڑھا دی ہے۔




بسیں جے این یو پہنچ گئیں، نہیں بیٹھے طلباء اور پروفیسر

دہلی پولیس کی حکمت عملی کے تحت ، خالی بسیں جے این یو کیمپس پہنچ گئیں۔ پولیس طلبہ اور پروفیسرز سے اپیل کررہی ہے کہ وہ بسوں میں بیٹھ جائیں۔ لیکن طلباء اور پروفیسر بسوں میں بیٹھنے کو تیار نہیں ہیں۔ احتجاجی طلبا حکومت مخالف نعرے بازی کررہے ہیں۔ طلبہ کیمپس میں ہونے والے تشدد کے لئے وائس چانسلر ایم جگدیش کمار کو ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے ان کے استعفی کے مطالبہ پراڑگئے ہیں۔

جے این یو طلبا یونین کی جانب سے کہا گیا ہے کہ جب تک وائس چانسلر استعفی نہیں دیں گے تب تک اگلے سمسٹر کے لئے ہونے والے رجسٹریشن کا بائیکاٹ کیا جائے گا۔ وائس چانسلر کے استعفی کا مطالبہ اورعام ہڑتال کے ساتھ یکجہتی دکھانے کے لئے کیمپس میں طلباء اور اساتذہ نے مارچ نکالا ہے۔اس موقع پر دہلی پولیس اور نیم فوجی دستے بڑی تعداد میں موجود ہے۔ پولیس کے بہت سے سینئر افسر بھی جے این یو پہنچ چکے ہیں۔



پولیس ذرائع کے مطابق ، دہلی پولیس نے 10 بسوں کا بندوبست کیا ہے تاکہ وہ مظاہرین کو منڈی ہاؤس لے جائیں۔ جبکہ 2 بسوں میں پروفیسر اور طلبہ کولیے جایاجائیگا۔ پولیس طلبا کے ساتھ بھی جائے گی، لیکن پولیس اپنی اپنی گاڑیوں سے طلباء اور پروفیسرز کی بسوں کے پیچھے چلی جائے گی۔ بسیں کہیں نہیں رکیں گیں۔ اس کے ساتھ ہی پولیس نے جے این یو کے تمام دروازوں پر سکیورٹی کا گھیرا سخت کردیا ہے۔ کسی بھی مظاہرین کو پیدل یا گاڑی سے منڈی ہاؤس نہیں چلنے دیا جائے گا۔
First published: Jan 09, 2020 01:22 PM IST