ہوم » نیوز » وطن نامہ

جے این یو تشدد: دہلی پولیس نےایف آئی آرمیں تسلیم کیا، ان کے سامنے سے دو بار بھاگ گئے 50-40 نقاب پوش

جے این یو تشدد معاملے میں درج کی گئی دہلی پولیس کی ایف آئی آر میں پولیس کی ایف آئی آر میں پولیس نے تسلیم کیا ہے کہ ان کے سامنے سےدوبار 50-40 نقاب پوش بھاگ گئے۔

  • Share this:
جے این یو تشدد: دہلی پولیس نےایف آئی آرمیں تسلیم کیا، ان کے سامنے سے دو بار بھاگ گئے 50-40 نقاب پوش
جے این یو تشدد معاملے میں دہلی پولیس نے ایف آئی آر درج کرلی ہے۔ فائل فوٹو

نئی دہلی: جواہرلال نہرویونیورسٹی (جےاین یو) میں اتوارکی شب ہوئےتشدد معاملے میں ایف آئی آردرج کرلی گئی ہے۔ دہلی پولیس نے پیرکونامعلوم لوگوں کےخلاف فساد بھڑکانے اور جائیدادکونقصان پہنچانےکا کیس درج کیا ہے۔ دہلی پولیس نے جےاین یو معاملےمیں درج کی گئی ایف آئی آرمیں مانا ہےکہ ان کےسامنےسےدوبارتقریباً 40 سے50 نقاب پوش بھاگ گئے۔ واضح رہےکہ جےاین یومیں داخلے کےلئےدوگیٹ ہیں۔


ایف آئی آرکےمطابق، جےاین یوکےطلباء گزشتہ کچھ دنوں سےہاسٹل فیس اضافہ کےخلاف احتجاج کررہےہیں۔ ہائی کورٹ کےحکم کےمطابق، ایڈمنسٹریشن بلاک کے 100 میٹرکے دائرے میں کسی بھی احتجاجی مظاہرے کی اجازت نہیں ہے۔ ایک انسپکٹرکی قیادت میں ایک  پولیس ٹیم کو5 جنوری کودوپہربعد 3:45 بجےایڈمنسٹریشن بلاک میں تعینات کیا گیا، کچھ طلباء کےبارے میں اطلاع ملی کہ پیریارہاسٹل میں اکٹھا ہوئےہیں اوران کےدرمیان لڑائی ہوئی ہےاوروہ جائیداد کونقصان پہنچا رہے ہیں۔ اس پرانسپکٹردیگرپولیس اہلکاروں کےساتھ پیریارہاسٹل پہنچے، جہاں انہوں نےتقریباً 50 لوگوں کونقاب پہنےاورلاٹھیوں سےلیس پایا۔ بھیڑہاسٹل میں طلباء کوپیٹ رہی تھی اورجائیداد کونقصان پہنچا رہی تھی، لیکن پولیس کودیکھ کروہ سبھی بھاگ گئے۔


درج کی گئی ایف آئی آر


درج ایف آئی آرکےمطابق، شام تقریباً 7 بجے پولیس کواطلاع ملی کہ سابرمتی ہاسٹل میں کچھ شرپسندعناصرگھس گئےہیں، جووہاں کےطلباء کے ساتھ مارپیٹ کررہے ہیں۔ اس پرپولیس ٹیم موقع پرپہنچی، جہاں پرتقریباً 60-50 شرپسند لوگ ہاتھوں میں ڈنڈے لےکروہاں توڑپھوڑکر رہےتھے، جنہیں ایسا نہ کرنےکی وارننگ دی گئی تھی۔ وارننگ کےبعد شرپسند عناصر ہاتھوں میں ڈنڈے لئےجائیداد کو نقصان پہنچا رہے تھےاورطلباء کی پٹائی کررہے تھے، وہ سب بھاگ گئے۔ حادثہ میں کئی طلباء کوچوٹیں آئیں اورانہیں ایمس لےجایا گیا۔ عوامی جائیداد  کےنقصان کی روک تھام میں آئی پی سی کی دفعہ 145, 147, 148, 149, 151 اوردفعہ کے3 تحت ایف آئی آردرج کی گئی ہے۔
First published: Jan 06, 2020 11:55 PM IST