ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

جے این یو تشدد : ویڈیو میں نظر آنے والی نقاب پوش لڑکی کی ہوئی شناخت ، دہلی پولیس جلد بھیجے گی نوٹس

دہلی پولیس نے بتایا کہ نقاب پوش لڑکی دہلی یونیورسٹی کی ہے ۔ اس طالبہ کو پولیس جلد ہی نوٹس جاری کرکے پوچھ گچھ کیلئے طلب کرے گی ۔

  • Share this:
جے این یو تشدد : ویڈیو میں نظر آنے والی نقاب پوش لڑکی کی ہوئی شناخت ، دہلی پولیس جلد بھیجے گی نوٹس
دہلی پولیس نے بتایا کہ نقاب پوش لڑکی دہلی یونیورسٹی کی ہے ۔ اس طالبہ کو پولیس جلد ہی نوٹس جاری کرکے پوچھ گچھ کیلئے طلب کرے گی ۔

جواہر لال نہرو یونیورسٹی میں پانچ جنوری کو ہوئے تشدد کے سلسلہ میں دہلی پولیس کی جانب سے تشکیل دی گئی ایس آئی ٹی نے نیا انکشاف کیا ہے ۔ پولیس نے تشدد سے وابستہ ویڈیو میں نظر آنے والی نقاب پوش لڑکی کی شناخت کرلینے کا دعوی کیا ہے ۔ دہلی پولیس نے بتایا کہ نقاب پوش لڑکی دہلی یونیورسٹی کی ہے ۔ اس طالبہ کو پولیس جلد ہی نوٹس جاری کرکے پوچھ گچھ کیلئے طلب کرے گی ۔ بتادیں کہ جے این یو تشدد میں کئی طلبہ زخمی ہوگئے تھے ۔ ساتھ ہی ساتھ پولیس کے رول پر بھی سوالات اٹھے تھے ۔ اس واقعہ کے بعد سے ہی یونیورسٹی کیمپس میں مسلسل احتجاج ہورہا ہے ۔


جے این یو تشدد سے وابستہ ویڈیو میں نقاب پوش لڑکی نظر آنے کے بعد تنازع مزید بڑھ گیا تھا۔ میڈیا رپورٹس میں اس کے ای بی وی پی سے ساتھ وابستہ ہونے کا دعوی کیا جارہا ہے ، لیکن پولیس نے ابھی تک اس بات کی تصدیق نہیں کی ہے کہ دہلی یونیورسٹی کی اس طالبہ کا کس طلبہ تنظیم کے ساتھ تعلق ہے ۔ خیال رہے کہ جے این یو تشدد کے سلسلہ میں بائیں بازو کی طلبہ تنظیموں اور اے بی وی پی کے درمیان الزام تراشیوں کا سلسلہ جاری ہے ۔ دونوں ایک دوسرے پر تشدد کو بھڑکانے کا الزام لگا رہے ہیں ۔



قابل ذکر ہے کہ جے این یو تشدد میں درجنوں طلبہ زخمی ہوگئے تھے ۔ طلبہ نے دہلی پولیس پر بروقت تشدد روکنے میں ناکام رہنے کا بھی الزام لگایا ہے ۔ جے این یو کیمپس میں تشدد کے بعد سے مظاہروں میں مزید شدت آگئی ہے۔ پرتشدد واقعات پیش آئے آٹھ دن ہوگئے ہیں ، مگر ابھی تک اس تشدد کیلئے ذمہ دار افراد کے خلاف کارروائی نہ ہونے کو لے کر بھی سوالات اٹھائے جارہے ہیں ۔

جے این یو تشدد میں درجنوں طلبہ زخمی ہوگئے تھے ۔ فائل فوٹو ۔


تاہم دہلی پولیس نے اس معاملہ میں 9 ملزم طلبہ کی نشاندہی کی ہے اور انھیں پوچھ گچھ کے لئے طلب کیا ہے ۔ ملزمین میں جے این یو طلبہ یونین کی صدر آئیشی گھوش بھی شامل ہیں ۔
First published: Jan 13, 2020 10:07 AM IST