உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Rajasthan News:راجستھان حکومت کااہم فیصلہ،مسلم علاقوں میں بلا وقفہ سپلائی ہوگی بجلی

    Youtube Video

    مسلم علاقوں (Muslim Areas)میں بلا وقفہ بجلی (Power Supply)کی فراہم کو یقینی بنایا جانا چاہیے۔ جودھ پور پاور کارپوریشن نے اپنے آڈر میں کہا کہ رمضان المبارک کے دوران مسلم علاقوں میں بجلی کی کٹوتی نہیں کی جائیگی۔ جودھ پاور پور کارپوریشن کے فیصلہ خلاف بی جے پی نے اپنی ناراضگی کا اظہار کیا ہے

    • Share this:
      راجستھان کی اشوک گہلوت حکومت(CM Ashok Gehlot) کے فیصلہ کے بعد ایک تنازعہ پیدا ہوگیاہے۔ جودھ پور پاور کارپوریشن (Jodhpur Discoms)کی جانب سے ایک آڈرجاری کیاگیاہےجس میں کہاگیاہے کہ مسلم علاقوں (Muslim Areas)میں بلا وقفہ بجلی (Power Supply)کی فراہم کو یقینی بنایا جانا چاہیے۔ جودھ پور پاور کارپوریشن نے اپنے آڈر میں کہا کہ رمضان المبارک کے دوران مسلم علاقوں میں بجلی کی کٹوتی نہیں کی جائیگی۔

      جودھ پاور پور کارپوریشن کے فیصلہ خلاف بی جے پی نے اپنی ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔ بی جے پی کا کہناہے کہ حکومت نے ووٹ بینک کی سیاست کو برقرارکھتے ہوئے مسلم علاقوں میں بجلی کی فراہمی کا فیصلہ کیاہے۔ راجستھان بی جے پی کا کہناہے کہ نوراتری کا مہینہ چل رہاہے۔ اس لیے راجستھان حکومت کو چاہیے کہ وہ تمام مذہب کے ماننے والے شہریوں کو بلا وقفہ بجلی کی فراہم کو یقینی بنائے ۔


      دوسری جانب راجستھان کے کرولی میں بائیک ریلی پر پتھراؤ کے بعد پھیلنے والے تشدد کے بعد کشیدگی میں کمی آئی ہے۔ پیر کو بھی یہاں کرفیو جاری رہا اور انٹرنیٹ بند رہا۔ پولیس کی موبائل ویان دن بھر شہر کی سڑکوں پر گشت کرتی رہی۔ کرفیو میں 7 اپریل تک توسیع کر دی گئی ہے۔ پولیس نے سڑکوں پر آنے جانے والے مسافروں سے وجہ پوچھ تاچھ کی اور شناختی کارڈ بھی چیک کیا۔ ساتھ ہی تشدد کیس کی جانچ کے لیے ایس آئی ٹی تشکیل دی گئی ہے۔ ایس آئی ٹی کی ٹیم پورے معاملے کی جانچ کرے گی۔

      پولیس نے آزاد کونسلر متعلم احمد کے خلاف بھی تشدد کے لئے اکسانے کا مقدمہ درج کر لیا ہے۔ راجستھان پولیس متعلم احمد کی تلاش میں ہے۔ پولیس نے اب تک 20 افراد کو گرفتار کیا ہے۔ ضلع میں کرفیو کو بھی 7 اپریل تک بڑھا دیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی 35 افراد بری طرح زخمی ہوئے ہیں۔ حالات کشیدہ ہیں لیکن حالات قابو میں ہیں۔ یا د رہے کہ ہندو نئے سال کے دن ہندو تنظیموں کی بائیک ریلی پر پتھراؤ کیا گیا تھا۔ تب سے یہاں تشدد بھڑک اٹھا تھا۔

      بورڈ کے امتحانات پیر کو کرفیو کے درمیان منعقد ہوئے، راجستھان بورڈ کے امتحانات امتحانی مراکز پر انتظامیہ کی طرف سے شیڈول کے مطابق کرائے گئے۔ انتظامیہ کی ہدایت پر پیر کو سرکاری دفاتر، عدالتیں کھول دی گئیں۔ سرکاری ملازمین کو شناختی کارڈ دکھا کر دفاتر جانے کی اجازت دی گئی۔ ضلعی ہیڈکوارٹرز کے مخصوص مقامات پر دن بھر پولیس فورس تعینات رہی۔ پولیس کی موبائل یونٹ بھی شہر میں گشت کرتی رہی۔ میڈیکل کے بعد گرفتار افراد کو دوپہر کو عدالت میں پیش کیا گیا۔

      جہاں سے اسے 2 روزہ پولیس ریمانڈ پر بھیج دیا گیا ہے۔ آتشزدگی سے تباہ ہونے والی عمارتوں کو گرانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ جس کے لیے سٹی کونسل کےا سکواڈ نے موقع پر پہنچ کر معائنہ کیا۔ سٹی کونسل نے عمارتوں کے آس پاس موجود لوگوں کو آگاہ کیا اور محفوظ مقام پر جانے کی اپیل کی۔ تاکہ ممکنہ نقصان سے بچا جا سکے۔ تباہ شدہ عمارت کو گرانے کے دوران نقصانات سے بچنے کے لیے ضروری تیاری کی گئی تھی۔

      میٹنگ میں امن کے لیے کرفیو کے بارے میں بات چیت ہوئی

      بتا دیں کہ پیر کو دوپہر کے بعد کلکٹریٹ میں واقع انفارمیشن سینٹر ٹاؤن ہال میں امن کمیٹی کی میٹنگ ہوئی۔ اس اجلاس میں شہر کا امن بحال کرنے کے لیے کرفیو ختم کرنے پر بات چیت ہوئی۔ اس میٹنگ میں کرولی کے ایم ایل اے لکھن سنگھ، کلکٹر راجندر سنگھ شیخاوت، ایس پی شیلیندر سنگھ انڈولیا، سابق ایم ایل اے درشن سنگھ، سریش مینا، بی جے پی کے ضلع صدر برج لال ڈکولیا، میونسپل کونسل کے چیئرمین نمائندے امین الدین خان اور شہر کے لوگوں کی بڑی تعداد موجود تھی۔ . آپ کو بتا دیں کہ کرولی میں 1200 پولیس اہلکار تعینات ہیں۔ انتظامیہ گھروں کو پہنچنے والے نقصان کا سروے کر رہی ہے۔ انتظامیہ کی طرف سے دودھ، راشن وغیرہ کی گھر۔ گھر فراہمی کے لیے کوششیں کی جا رہی ہیں۔
      Published by:Mirzaghani Baig
      First published: