ہوم » نیوز » وسطی ہندوستان

مدھیہ پردیش میں جونیئرڈاکٹروں نےدیا اجتماعی استعفی،حکومت نےایسماقانون کےنفاذکادیاتھاانتباہ

مدھیہ پردیش کے وزیر برائے میڈیکل ایجوکیشن وشواس سارنگ کہتے ہیں کہ اگر جونیئر ڈاکٹر کام پر نہیں لوٹتے ہیں تو ان کے خلاف کاروائی کرنے کو لیکر وہ مجبور ہونگے ۔ سرکار ہائی کورٹ کے احکام پر نفاذ کریگی ۔جونیئر ڈاکٹروں کو اپنی ضد کو چھوڑکر کام پر واپس لوٹنا چاہیے۔

  • Share this:
مدھیہ پردیش میں جونیئرڈاکٹروں نےدیا اجتماعی استعفی،حکومت نےایسماقانون کےنفاذکادیاتھاانتباہ
جونیئر ڈاکٹر اپنے چھ نکاتی مطالبات کو لیکر گزشتہ تین سالوں سے وقت وقت پر احتجاج کرتے رہے ہیں

مدھیہ پردیش میں جونیئر ڈاکٹروں نے حکومت کے سخت موقف سے ناراض ہوکر اجتماعی استعفی دیدیا ہے۔ چھ نکاتی مانگوں کو لیکر جونیئر ڈاکٹروں کی چار روز سے ہڑتال جاری تھی ۔ جونیئر ڈاکٹروں کی ہڑتال پر مفاد عامہ کے تحت دائرکی گئی عرضی پر سماعت کرتے ہوئے جب جبلپور ہائی کورٹ نے جونیئر ڈاکٹروں کی ہڑتال کو غیر واجب قرار دیا تو حکومت نے بھی ہڑتال کو لیکر اپنے موقف کو اور سخت کیا اور جونیئر ڈاکٹروں سے ہڑتال ختم کرکے کام پر واپس آنے کی جہاں اپیل کی وہیں یہ بھی انتباہ دیا کہ اگر جونیئر ڈاکٹر ہڑتال ختم نہیں کرتے ہیں تو ان کے خلاف ایسما کے تحت سخت کاروائی کی جائے گی ۔ وہیں جونیئر ڈاکٹروں کی ہڑتال کو کانگریس کے ذریعہ حمایت کا اعلان کرنے کے بعد مدھیہ پردیش میں ایک اور سیاسی گھمسان شروع ہوگیا ہے ۔


واضح رہے کہ مدھیہ پردیش میں جونیئر ڈاکٹر اپنے چھ نکاتی مطالبات کو لیکر گزشتہ تین سالوں سے وقت وقت پر احتجاج کرتے رہے ہیں ۔جونیئر ڈاکٹروں نے اپنے مطالبات کو لیکر انتیس مئی کو حکومت کو میمورنڈم پیش کیاتھا اور مطالبات پورے نہیں ہونے پر اکتیس مئی سے ایمرجنسی سروس اور یکم جون سے کووڈ مریضوں کا علاج بند کر ہڑتال شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔ حکومت کے ذریعہ اس بیچ جونیئرڈاکٹروں کے مطالبات کو لیکر کئی زبانی اعلان تو کیاگیا لیکن تحریری طور پر کچھ نہیں کیاگیا ۔ جبکہ جونیئر ڈاکٹر حکومت سے مطالبات کو لیکر تحریری طور پر لکھ کر دینے کا مطالبہ کرتے رہے ۔ اسی بیچ جونیئر ڈاکٹروں کی ہڑتال کے خلاف سماجی کارکن شیلیندر سنگھ کے ذریعہ جبلپور ہائی کورٹ میں مفاد عامہ کے تحت عرضی دائر کی گئی جس پر سماعت کرتے ہوئے جبلپور ہائی کورٹ نے ہڑتال کو غیر واجب قرار دیا بلکہ جونیئر ڈاکٹروں کی سرزنش کرتے ہوئے انہیں چوبیس گھنٹے کے اندر کام پر لوٹنےکی ہدایت دی ۔ ہائی کورٹ کی سرزنش کے بعد حکومت نے اپنا سخت موقف اختیار کرتے ہوئے جونیئر ڈاکٹروں کو کام پر واپس لوٹنے کی ہدایت دیتے ہوئے جب ان کے خلاف ایسما کے تحت کاروائی کرنے کی دھمکی دی تو جونیئر ڈاکٹروں کا غصہ بھڑک گیا اور انہوں نے اجتماعی استعفی پیش کرتےہوئے اپنے حقوق کو لیکر ہڑتال جاری رکھنے کا اعلان کردیا ۔


مدھیہ پردیش کے تین ہزار جونینئر ڈاکٹروں نے اپنا اجتماعی استعفی پیش کردیا ہے۔
مدھیہ پردیش کے تین ہزار جونینئر ڈاکٹروں نے اپنا اجتماعی استعفی پیش کردیا ہے۔


وہیں کانگریس نے جونیئر ڈاکٹروں کی ہڑتال کی حمایت کرتے ہوئے حکومت کے موقف کی مخالفت کی ہے ۔جونیئر ڈاکٹرس ایسو سی ایشن کی سکریٹری انکتا ترپاٹھی کہتے ہیں کہ حکومت کا رویہ نا قابل قبول ہے ۔ جونیئر ڈاکٹروں پر غور کرنے کے بجائے حکومت مسلسل زدو کوب کر رہی ہے ۔ہمارے صدر ہریش پاٹھک کے والدین کو دو گھنٹے پولیس اسٹیشن میں بیٹھا کر ٹارچرکیاگیا اور بوڑھے ماں باپ پر یہ دباؤ بنایاگیا کہ ان کا بچہ ہڑتال سے نام واپس لے لے ۔ جب حکومت ہمارے مطالبات پر بات کرنے کو تیار نہیں ہے اور ہمیں مرنا ہی ہے تو ہم اپنے حقوق کے لئے لڑتے ہوئے مرنا پسند کرینگے۔ریاست کے تین ہزار جونینئر ڈاکٹروں نے اپنا اجتماعی استعفی پیش کردیا ہے۔ ہم اپنے حقوق کو لیکر ہڑتال جاری رکھیں گے ۔

سینئر کانگریس لیڈر وسابق وزیر پی سی شرما کہتے ہیں کہ کورونا قہر میں جونیئر ڈاکٹروں نے جان کی بازی لگا کرکام کیا ہے اور خود وزیر اعلی شیوراج سنگھ نے جونیئر ڈاکٹروں کو کورونا جانباز کہا ہے ۔ اب اگر جونیئر ڈاکٹر اپنی چھوٹی چھوٹی مانگوں کو لیکر حکومت سے بات کرنا چاہتے ہیں تو حکومت کو ان سے بات کر کے مسائل کو حل کرنا چاہیے ناکہ تاناشاہی رویہ اختیار کر کے انہیں دھمکایا جائے ۔حکومت کو جونیئر ڈاکٹروں کا احترام کرنا چاہیے۔

وہیں مدھیہ پردیش کے وزیر برائے میڈیکل ایجوکیشن وشواس سارنگ کہتے ہیں کہ اگر جونیئر ڈاکٹر کام پر نہیں لوٹتے ہیں تو ان کے خلاف کاروائی کرنے کو لیکر وہ مجبور ہونگے ۔ سرکار ہائی کورٹ کے احکام پر نفاذ کریگی ۔جونیئر ڈاکٹروں کو اپنی ضد کو چھوڑکر کام پر واپس لوٹنا چاہیے۔مدھیہ پردیش حکومت نے ان کے چار مطالبات کو منظور کرلیا ہے اور جہاں تک ان کے اسٹائپنڈمیں اضافہ کاسوال ہے تو حکومت نے اس کو بھی بڑھانے کا اعلان کیا ہے ۔مدھیہ پردیش حکومت کے موقف کے خلاف جونیئر ڈاکٹروں نے سخت قدم اٹھاتے ہوئے جس طرح سے اجتماعی استعفی دیا ہے اس سے ریاست گیر سطح پر طبی خدمات کے مفلوج ہونے کاخطرہ بڑھ گیا ہے۔
Published by: Mirzaghani Baig
First published: Jun 03, 2021 11:09 PM IST