ایودھیا فیصلہ کی بینچ میں شامل جسٹس عبد النظیر کو ملے گی زیڈ کٹیگری کی سیکورٹی ، جانیں کیوں ! ۔

مرکزی حکومت نے سپریم کورٹ کے جسٹس عبد النظیر اور ان کے کنبہ کو زیڈ زمرہ کی سیکورٹی دینے کا فیصلہ کیا ہے ۔

Nov 17, 2019 10:55 PM IST | Updated on: Nov 17, 2019 10:55 PM IST
ایودھیا فیصلہ کی بینچ میں شامل جسٹس عبد النظیر کو ملے گی زیڈ کٹیگری کی سیکورٹی ، جانیں کیوں ! ۔

ایودھیا فیصلہ کی بینچ میں شامل جسٹس عبد النظیر کو ملے گی زیڈ کٹیگری کی سیکورٹی ، جانیں کیوں ! ۔

مرکزی حکومت نے سپریم کورٹ کے جسٹس عبد النظیر اور ان کے کنبہ کو زیڈ زمرہ کی سیکورٹی دینے کا فیصلہ کیا ہے ۔ جسٹس عبد النظیر سپریم کورٹ کی اس بینچ کا حصہ تھے ، جس نے حال ہی میں ایودھیا کو لے کر فیصلہ سنایا ہے ۔ یہ فیصلہ ان کو ملی دھمکیوں کے بعد کیا گیا ہے ۔  جسٹس عبد النظیر کو ملی دھمکیوں کے بعد سیکورٹی ایجنسیوں سے وارننگ ملنے پر وزارت داخلہ نے سی آر پی ایف اور مقامی پولیس کو ہدایت دی ہے کہ وہ جسٹس عبد النظیر اور ان کے کنبہ کو سیکورٹی فراہم کریں ۔

ذرائع کے حوالے سے ملی جانکاری کے مطابق ہدایت ملنے کے بعد جسٹس عبد النظیر اور ان کے اہل خانہ کو کرناٹک اور ملک کے دیگر حصوں میں سیکورٹی فراہم کردی گئی ہے اور سیکورٹی فورسیز کے جوانوں اور مقامی پولیس کو تعینات کردیا گیا ہے ۔ جسٹس عبد النظیر کو کرناٹک کوٹے سے زیڈ کٹیگری کی سیکورٹی بنگلورو ، منگلورو اور ریاست کے دیگر حصوں میں دی جائے گی ۔ ساتھ ہی ساتھ بنگلورو اور منگلورو میں رہ رہے ان کے اہل خانہ کو بھی یہ سیکورٹی دی جائے گی ۔ زیڈ کٹیگری کی سیکورٹی میں پیرا ملیٹری اور پولیس اسکارٹ کے 22 جوان ہوتے ہیں ۔

Loading...

سپریم کورٹ نے ہفتہ کو اپنے تاریخی فیصلہ میں متنازع زمین پر ایک نیاس کے ذریعہ مندر کی تعمیر کا فیصلہ سنایا تھا اور ایودھیا میں مسجد کی تعمیر کیلئے پانچ ایکڑ زمین دینے کیلئے کہا تھا ۔ پانچ ججوں کی آئینی بینچ میں جسٹس ایس اے بوبڑے ، جسٹس ڈی وائی چندر چوڑ ، جسٹس اشوک بھوشن اور جسٹس ایس عبد النظیر بھی شامل تھے ۔

ایودھیا تنازع کے علاوہ جسٹس عبد النظیر سپریم کورٹ کی اس بینچ کا بھی حصہ تھے ، جس نے 2017 میں تین طلاق کو غیر آئینی قرار دیا تھا ۔ خیال رہے کہ جسٹس عبد النظیر نے ایس ڈی ایم لا کالج کوڈیال بیل منگلورو سے ڈگری حاصل کی ہے ۔ انہوں نے 18 فروری 1983 میں بنگلورو میں کرناٹک ہائی کورٹ میں ایک وکیل کے طور پر اپنے کیریئر کی شروعات کی تھی ۔ انہوں نے مئی 2003 میں کرناٹک ہائی کورٹ میں ہی ایڈیشنل جج کے طور پر عہدہ سنبھالا تھا۔

Loading...