نوبل انعام یافتہ سماجی کارکن کیلاش ستیارتھی کی مذہبی رہنما سے زانیوں کو مذہب سے خارج کرنے کی اپیل

بچوں کے حقوق کی لڑائی لڑنے والے سماجی کارکن اور نوبل انعام سے سرفراز کیلاش ستیارتھی نے آج کہا کہ سماج میں جنسی زیادتی اور زنا کے حادثات کو روکنے کے لئے مذہبی رہنماؤں کو آگے آکر کہنا چاہئے کہ زانیوں کو مذہب سے باہر نکال دیا جائے گا۔

Mar 20, 2018 07:15 PM IST | Updated on: Mar 20, 2018 07:15 PM IST
نوبل انعام یافتہ سماجی کارکن کیلاش ستیارتھی کی مذہبی رہنما سے زانیوں کو مذہب سے خارج کرنے کی اپیل

کیلاش ستیارتھی ۔ فائل فوٹو

نئی دہلی : بچوں کے حقوق کی لڑائی لڑنے والے سماجی کارکن اور نوبل انعام سے سرفراز کیلاش ستیارتھی نے آج کہا کہ سماج میں جنسی زیادتی اور زنا کے حادثات کو روکنے کے لئے مذہبی رہنماؤں کو آگے آکر کہنا چاہئے کہ زانیوں کو مذہب سے باہر نکال دیا جائے گا۔کیلاش ستیارتھی نے چلڈرن فاؤنڈیشن کے ذریعہ یہاں میڈیا کے لئے منعقد ایک ورکشاپ میں کہا کہ بچوں کے خلاف جرائم اور جنسی زیادتی کے حادثات روکنے کا کام صرف پولیس، این جی او اور عدالت نہیں کرسکتی ہے۔ اسے روکنے کے لئے مذہبی رہنماؤں کو بھی آگے آنا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ مندروں، مسجدوں اور گرودواروں میں یہ اعلان کرنا ہوگا کہ اگر کسی نے اس طرح کی گھناؤنی حرکت کی تو اسے مذہب سے خارج کردیا جائے گا۔

انہوں نے بچوں سے متعلق جرائم کے معاملات کو جلد نمٹانے کے لئے ضلعی سطح پر خصوصی عدالتوں کی تشکیل اور ایک قومی اطفال اتھارٹی قائم کرنے کے مطالبہ کو دہرایا۔ انہوں نے کہا کہ یہ دونوں مطالبات پورے ہونے کے بعد قانون اور اس کے نفاذ میں رکاوٹ بن رہی ادارتی رکاوٹ کی خلیج کو کم کیا جاسکتا ہے۔ نوبل انعام یافتہ ستیارتھی نے میڈیا کو بھی صرف سنسنی خیز خبروں سے ہٹ کر ان معاملات میں عدالتی پیش رفت اور اس کی تفصیلات سے لوگوں کو آگاہ کرنے کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا کہ میڈیا اور عدالت کی سوچ حکومت اور پورے سیاسی نظام کی سوچ سے آگے ہوتی ہے۔ میڈیا کو اپنا پیشہ وارانہ کردار نبھانا ہوگا اور پوری لگن کے ساتھ ایک مقصد کے تئیں کام کرنا ہوگا۔

بچوں کے خلاف جرائم اور ان سے مزدوری کو سماجی اور تہذیبی مسئلہ قرار دیتے ہوئے مسٹر ستیارتھی نے کہا کہ 38برس پہلے پنجاب میں بندھوا مزدوروں اور ان کنبوں سمیت 36 لوگوں کو ایک اینٹ کے بھٹہ سے چھڑانے کے کام سے انہوں نے جس مہم کا آغاز کیا تھا وہ ابھی مکمل نہیں ہوئی ہے۔انہوں نے کہا کہ ابھی یہ مسئلہ ختم نہیں ہوا ہے۔ 2 برس کی ،8 ماہ کی بیٹیوں کے ساتھ زنا کیا جارہا ہے اور 8 بچوں کے غائب ہونے کے معاملے سامنے آتے ہیں۔ اسکولوں میں 6 برس اور 8 برس کے بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کی جارہی ہے۔ ہر گھنٹے ملک میں چار زنا کے واقعات رونما ہوتے ہیں۔

مسٹر ستیارتھی نے کہا کہ عدالتوں میں ان معاملات کی سماعت تیزرفتاری سے ہونی چاہئے کیونکہ نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو کے اعداد و شمار کے مطابق پوسکو کے تحت جو معاملے زیرالتواء ہیں، اگر ان کی شنوائی اسی رفتار سے ہوتی رہی تو ان کو نمٹانے میں ہی 50 برس لگ جائیں گے۔

Loading...

Loading...