உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    کلیان سنگھ کو بھاری پڑی تھی اٹل بہاری واجپئی سے عداوت، ہونا پڑا تھا پارٹی سے باہر

    کلیان سنگھ کو بھاری پڑی تھی اٹل بہاری واجپئی سے عداوت، ہونا پڑا تھا پارٹی سے باہر

    کلیان سنگھ کو بھاری پڑی تھی اٹل بہاری واجپئی سے عداوت، ہونا پڑا تھا پارٹی سے باہر

    اترپردیش کے سابق وزیراعلیٰ اورراجستھان کے سابق گورنرکلیان سنگھ کا ایودھیا میں تعمیر ہو رہی رام مندر کی بنیاد رکھنے والوں میں شمار ہوگا۔ کیونکہ ان کے وزیر اعلیٰ رہتے ہوئے 6 دسمبر 1992 کو بابری مسجد منہدم کردی گئی تھی۔ حالانکہ کلیان سنگھ نے سپریم کورٹ میں بابری مسجد کو بچانے کا حلف نامہ دیا تھا، لیکن انہوں نے کارسیوکوں پر گولی نہیں چلانے کا حکم بھی دیا۔

    • Share this:
      لکھنو: اترپردیش کے تین بار وزیر اعلیٰ رہے بی جے پی کے سینئر لیڈر کلیان سنگھ (Kalyan Singh) آج اس دنیا کو الوداع کہہ گئے ہیں۔ کلیان سنگھ نے 89 سال کی عمر میں آخری سانس لی۔ علی گڑھ کے اترولی میں پیدا ہوئے کلیان سنگھ کو ہندو ہردے سمراٹ کہا جاتا تھا۔ ایودھیا میں تعمیر ہو رہی رام مندر کے علاوہ اترپردیش میں پہلی بار بی جے پی کو جیت دلانے والے لیڈر کے طور پر بھی انہیں ہمیشہ یاد کیا جاتا رہے گا۔ کلیان سنگھ کو سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپئی (Atal Bihari Vajpayee) سے عداوت کرنا بھاری پڑ گیا تھا اور انہیں بی جے پی سے باہر کردیا گیا تھا۔

      اترپردیش کے سابق وزیراعلیٰ اورراجستھان کے سابق گورنرکلیان سنگھ کا ایودھیا میں تعمیر ہو رہی رام مندر (Ram Mandir) کی بنیاد رکھنے والوں میں شمار ہوگا۔ کیونکہ ان کے وزیر اعلیٰ رہتے ہوئے 6 دسمبر 1992 کو بابری مسجد (Babari Masjid) منہدم کردی گئی تھی۔ حالانکہ کلیان سنگھ نے سپریم کورٹ میں بابری مسجد کو بچانے کا حلف نامہ دیا تھا، لیکن انہوں نے کارسیوکوں پر گولی نہیں چلانے کا حکم بھی دیا۔ آخر کار بابری مسجد (Babari Masjid) بھی منہدم ہوگئی اور اترپردیش سے ان کی حکومت کو بھی اقتدار سے بے دخل ہونا پڑا تھا۔

      اترپردیش کے تین بار وزیر اعلیٰ رہے بی جے پی کے سینئر لیڈر کلیان سنگھ آج اس دنیا کو الوداع کہہ گئے ہیں۔
      اترپردیش کے تین بار وزیر اعلیٰ رہے بی جے پی کے سینئر لیڈر کلیان سنگھ آج اس دنیا کو الوداع کہہ گئے ہیں۔


      اٹل بہاری واجپئی سے مول لی تھی دشمنی

      بی جے پی کی لمبی جدوجہد کے بعد اترپردیش میں 24 جون 1991 میں پہلی بار حکومت بنی۔ پہلی بار بی جے پی کو ایک ایسا لیڈر ملا، جس نے نہ صرف اقتدار کا مزہ چکھایا، بلکہ ایک خود اعتمادی بھی پیدا کی، لیکن اسی زیادہ خود اعتمادی نے ایسی بھرم پیدا کردی کہ وزیر اعظم سے عداوت کرلی۔ سال 1999 اٹل بہاری واجپئی اور کلیان سنگھ کے رشتے میں کڑواہٹ آگئی۔ کلیان سنگھ نے یہاں تک کہہ دیا، ’میں چاہتا ہوں کہ وہ وزیر اعظم بنیں، لیکن انہیں وزیر اعظم بننے کے لئے پہلے رکن پارلیمنٹ بننا ہوگا‘۔

      کلیان سنگھ نے 1962 میں پہلی بار اترولی سیٹ سے الیکشن لڑا، حالانکہ انہیں جیت نہیں ملی اور شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ اس وقت کلیان سنگھ کی عمر محض 30 سال تھی۔
      کلیان سنگھ نے 1962 میں پہلی بار اترولی سیٹ سے الیکشن لڑا، حالانکہ انہیں جیت نہیں ملی اور شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ اس وقت کلیان سنگھ کی عمر محض 30 سال تھی۔


      بی جے پی میں پچھڑے-دلتوں کے پہلے لیڈر بنے کلیان سنگھ

      برہمن - بنیوں کی پارٹی مانی جانے والی بی جے پی میں پچھڑوں (پسماندہ) اور دلتوں کے پہلے لیڈر کے طور پر کلیان سنگھ کو جانا جاتا ہے۔ علی گڑھ سے گورکھپور تک لودھی ذات کی اچھی خاصی آبادی تھی۔ مانا جاتا تھا کہ یادو اور کرمی کے بعد لودھی ہی آتے ہیں۔ ایسے میں کلیان سنگھ کو لودھی ہونے کا بھی فائدہ مل گیا۔ اس کے بعد کلیان سنگھ کو کہا گیا کہ سرگرمی بڑھائیں اور پارٹی کو جیت دلائیں، جس کے بعد وہ کام پر لگ گئے۔ 1962 میں پہلی بار انہوں نے اترولی سیٹ سے الیکشن لڑا، حالانکہ انہیں جیت نہیں ملی اور شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ اس وقت کلیان سنگھ کی عمر محض 30 سال تھی۔

      لائم سنگھ یادو کی مدد سے لوک سبھا پہنچ گئے اور سال 2010 میں دوسری پارٹی بنائی، لیکن کامیابی نہیں ملی۔
      لائم سنگھ یادو کی مدد سے لوک سبھا پہنچ گئے اور سال 2010 میں دوسری پارٹی بنائی، لیکن کامیابی نہیں ملی۔


      پارٹی سے باہر ہوکر نئی پارٹی بنائی، کامیاب نہیں ہوئے تو لوٹ آئے

      اس کے بعد کلیان سنگھ کو پارٹی سے باہر نکال دیا گیا۔ اٹل بہاری واجپئی لکھنو سے لڑے اور جیتے بھی۔ وہ ملک کے وزیرا عظم بھی بنے، لیکن کلیان سنگھ کی سیاسی صورتحال خراب ہوتی گئی۔ اپنی پارٹی بنائی، کامیابی نہیں ملی تو سال 2007 میں بی جے پی میں واپسی ہوئی۔ بی جے پی نے ان کی قیادت میں الیکشن لڑا، لیکن ہار گئی۔ بی جے پی کی شکست کے بعد انہوں نے پھر پارٹی کا دامن چھوڑ دیا اور ملائم سنگھ یادو کی مدد سے لوک سبھا پہنچ گئے اور سال 2010 میں دوسری پارٹی بنائی، لیکن کامیابی نہیں ملی۔ جس کے بعد سال 2013 میں ایک بار پھر واپسی کی۔ راجستھان اور ہماچل پردیش کے گورنر بھی بنے۔ ان کے دور کے لیڈر نریندر مودی اور راجناتھ سنگھ اس وقت وزیراعظم اور وزیر دفاع ہیں، لیکن کلیان سنگھ اس عداوت کے بعد ابھر نہیں پائے۔
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: