உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    یو پی کے سابق وزیراعلی کلیان سنگھ کا انتقال ، وزیر اعظم نے کہا : میرے پاس غم کے اظہار کیلئے الفاظ نہیں

    یو پی کے سابق وزیراعلی کلیان سنگھ کا انتقال ، وزیر اعظم نے کہا : میرے پاس غم کے اظہار کیلئے الفاظ نہیں

    یو پی کے سابق وزیراعلی کلیان سنگھ کا انتقال ، وزیر اعظم نے کہا : میرے پاس غم کے اظہار کیلئے الفاظ نہیں

    Kalyan Singh Death: کلیان سنگھ 1991 اور 1997 میں اترپردیش کے وزیراعلی رہ چکے ہیں جبکہ 2014 میں انہیں راجستھان کے گورنر مقرر کیا گیا تھا۔ اس کے بعد 2015 میں انہیں ہماچل پردیش کے گورنر کی اضافی ذمہ داری سونپی گئی تھی ۔

    • UNI
    • Last Updated :
    • Share this:
      نئی دہلی : بھارتیہ جنتاپارٹی کے سینئر لیڈر اور اترپردیش کے سابق وزاعلی کلیان سنگھ کا طویل علالت کے بعد سنیچر کی دیر شام اترپریش کی راجدھانی میں سنجے گاندھی پوسٹ گریجویٹ انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (ایس جی پی جی آئی) میں انتقال ہوگیا۔ وہ 89 برس کے تھے۔ گزشتہ تین جولائی کو طبیعت بگڑنے پر انہیں لکھنٔو کے رام منوہر لوہیا اسپتال میں داخل کرایا گیا تھا جبکہ چار جولائی کو انہیں ایس جی پی جی آئی شفٹ کیا گیا۔ اس دوران کئی بار مسٹر سنگھ کی صحت میں تار چڑھاؤ آئے لیکن جمعہ کو ان کی طبیعت ایک بار پھر بگڑ گئی تھی اور ڈاکٹروں کے سخت کوششوں کے باوجود بھی نہیں بچایا نہیں جاسکا۔

      اتر پردیش کے سابق وزیر اعلیٰ کلیان سنگھ کے انتقال پر وزیر اعظم نریندر مودی سمیت ملک کی سرکردہ سیاسی شخصیات نے تعزیت کا اظہار کیا ہے۔ ہفتہ کے روز اپنے ٹویٹر پیغام میں وزیر اعظم مودی نے کہا کہ میں اپنے رنج کو الفاظ میں بیان نہیں کر سکتا ۔ کلیان سنگھ جی ایک سیاستدان ، سینئر ایڈمنسٹریٹر ، زمینی سطح کے رہنما اور ایک عظیم انسان تھے۔ انہوں نے اترپردیش کی ترقی میں اپنی شراکت سے انمٹ نقوش چھوڑے ہیں۔ ان کے بیٹے راج ویر سنگھ سے بات کرکے اظہار تعزیت کیا ہے۔ اوم شانتی‘‘۔


      امت شاہ نے کیا تعزیت کا اظہار

      مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے ٰ کلیان سنگھ کے انتقال پر تعزیت کا اظہار کیا ہے۔ ہفتہ کے روز اپنے ٹویٹ پیغام میں مسٹر شاہ نے کہا ’’کلیان سنگھ جی کے انتقال سے ملک نے آج ایک سچے محب وطن ، ایماندار اور دیانت دار سیاستدان کو کھو دیا ہے۔ بابوجی ایک ایسے بڑے درخت تھے جن کے سائے میں بی جے پی تنظیم پھلتی پھولتی اور پھیلتی گئی ۔ ثقافتی قوم پرستی کے ایک سچے پرستار کی حیثیت سے ، انہوں نے زندگی بھر ملک اور عوام کی خدمت کی‘‘۔






      ایک دیگر ٹویٹ میں انہوں نے کہا ’’اترپردیش کے وزیر اعلی کی حیثیت سے ، کلیان سنگھ جی نے اپنی ایمانداری اور سیاسی مہارت سے اچھی حکمرانی کے تصور کو حقیقت میں تبدیل کرکے عوام کو خوف اور جرائم سے آزاد ایک عوامی فلاحی حکومت دی اور تعلیم کے شعبے میں بے مثال اصلاحات کرکے ،آّنے والی حکومتوں کے لیے بہترین رول ماڈل قائم کیے۔

      لوک سبھا اسپیکر کا اظہار تعزیت

      لوک سبھا اسپیکر اوم برلا نے بھی کلیان سنگھ کے انتقال پر تعزیت کا اظہار کیا ہے۔ اپنے پیغام میں برلا نے کہا کہ کلیان سنگھ جی کے انتقال کے ساتھ آج ہم نے ایک ایسی عظیم شخصیت کو کھو دیا ہے جس نے اپنی سیاسی ذہانت ، انتظامی تجربے اور ترقی پر مبنی نقطہ نظر سے قومی سطح پر انمٹ نقوش چھوڑے ۔ وہ پسماندہ افراد کی بہتری اور تمام طبقات کی فلاح و بہبود کے لیے وقف رہے ۔ انہوں نے کہا کہ وہ اپنی سادگی کی وجہ سے عوام میں کافی مقبول تھے۔ اترپردیش کے وزیراعلیٰ کی حیثیت سے انہوں نے ریاست کی ترقی کو ایک نئی رفتار دی۔ دونوں ریاستوں نے راجستھان اور ہماچل پردیش کے گورنر کے طور پر ان کے طویل تجربے سے بھی فائدہ اٹھایا۔ ان کی موت سیاست کے ایک دور کا اختتام ہے ۔ خدا ان کی روح کو سکون عطا فرمائے۔

      بتادیں کہ کلیان سنگھ 1991 اور 1997 میں اترپردیش کے وزیراعلی رہ چکے ہیں جبکہ 2014 میں انہیں راجستھان کے گورنر مقرر کیا گیا تھا۔ اس کے بعد 2015 میں انہیں ہماچل پردیش کے گورنر کی اضافی ذمہ داری سونپی گئی تھی ۔ بابوجی کے نام سے سیاست میں مشہور کلیان نے چھ دسمبر 1992 کو اجودھیا میں بابری مسجد منہدم کے بعد سے صرف اپنے اقتدار کے قربانی نہیں بلکہ اس معاملے میں سزا پانے والے وہ واحد شخص تھے ۔
      Published by:Imtiyaz Saqibe
      First published: