உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    الوداع کمال خان! صرف نام ہی نہیں، کام بھی کمال کا تھا

    الوداع کمال خان! صرف نام ہی نہیں، کام بھی کمال کا تھا

    الوداع کمال خان! صرف نام ہی نہیں، کام بھی کمال کا تھا

    RIP Kamal Khan: تقریباً 35 سال سے صحافت کے میدان میں کام کررہے کمال خان اس پیشے سے جڑے کئی فریق سے دور رہے۔ پارٹیوں میں انہیں سادگی سے الگ بیٹھے دیکھا جاسکتا ہے۔ سماجی اور انسانی خبروں کو پیش کرنے میں ان کا کوئی مقابلہ نہیں تھا۔ بے حد سادہ اور آسان انسان کے طور پر جانے جانے والے کمال خان کو اکثر لکھنؤ کی ثقافتی اور سماجی سرگرمیوں میں دیکھا جاتا تھا۔ گوکہ ان کی موجودگی لازمی تھی۔ لکھنو یونیورسٹی کے اساتذہ، مقامی رائٹروں، فنکاروں، سینئر آئی اے ایس افسران، بڑے تاجروں اور لیڈروں کے درمیان وہ نظر آجاتے تھے۔ وہ صحافیوں میں بیباک صحافی تھے۔

    • Share this:
      راجکمار سنگھ (صحافی اور مصنف)

      الوداع کمال خان: صرف نام ہی نہیں، کام بھی کمال کا تھا تقریباً 35 سال سے صحافت کے میدان میں کام کررہے کمال خان اس پیشے سے جڑے کئی فریق سے دور رہے۔ پارٹیوں میں انہیں سادگی سے الگ بیٹھے دیکھا جاسکتا ہے۔ سماجی اور انسانی خبروں کو پیش کرنے میں ان کا کوئی مقابلہ نہیں  تھا۔ بے حد سادہ اور آسان انسان کے طور پر جانے جانے والے کمال خان کو اکثر لکھنؤ کی ثقافتی اور سماجی سرگرمیوں میں دیکھا جاتا تھا۔ گوکہ ان کی موجودگی لازمی تھی۔ لکھنو یونیورسٹی کے اساتذہ، مقامی رائٹروں، فنکاروں، سینئر آئی اے ایس افسران، بڑے تاجروں اور لیڈروں کے درمیان وہ نظر آجاتے تھے۔ وہ صحافیوں میں بیباک صحافی تھے۔

      بہت کم لوگ ہوتے ہیں جو اپنے نام کے مطابق جیتے ہیں۔ ایسے ہی بہت کم لوگوں میں ایک تھے ہمارے کمال بھائی۔ نام بھی کمال اور اور کام بھی کمال۔ کمال خان ایک عام سی خبر کو بھی اپنے طریقے سے جب ٹی وی کے پردے پر لے کر آتے تھے تو وہ کمال کی خبر بن جاتی۔ پی ٹی سی کرنے کا ان کا طریقہ تو صحافت کے طلبا کے لئے ایک درس ہے۔ لکھنو کے تھے، تو تہذیب نہ صرف زبان میں تھی، بلکہ ان کی خبروں کی دنیا میں بھی نظر آتی تھی۔ ان کی خبروں میں بے وجہ کی جارحیت نہیں ہوتی تھی۔ نہ ہی چیخنا اور چلانا۔ ہاں تیور تیز، سخت سے سخت بات کو سلیقے سے کہنا ان سے سیکھا جاسکتا تھا۔

      کمال بھائی نے پرنٹ سے صحافت شروع کی تھی۔ 90 کی دہائی میں وہ نوبھارت ٹائمس کی طرف سے لکھنو یونیورسٹی کور کرنے آتے تھے۔ تب ہم لوگ طالب علم تھے اور کبھی کبھی انہیں خبروں پر کام کرتے دیکھا کرتے تھے۔ بعد میں جب میں بھی صحافت میں آیا تو ان سے مسلسل رابطہ بنا رہا۔ کام کے دوران فیلڈ میں ان کے ساتھ ملنا ہوتا رہتا۔ کمال بھائی کی بیوی روچی کمار بھی سینئر ٹی وی جرنلسٹ ہیں۔ کام کے دوران دونوں کا اپنی اپنی خبر سے متعلق جنون دیکھ کر کئی بار ہم لوگ مذاق بھی کرتے کہ کمال بھائی آج تو روچی جی کی خبر زیادہ اچھی رہی۔

      سیاسی اور سماجی میدان میں ان کا علم شاندار تھا۔ اترپردیش کی سیاست کا انسائیکلو پیڈیا کہہ سکتے ہیں۔ چونکہ وہ ٹی وی صحافت سے شروعاتی دور سے ہی جڑ گئے تھے۔ اس لئے سبھی بڑے لیڈران سے ان کا تعلق بے حد اچھا تھا۔ کبھی کبھی کسی لیڈر نے جب بائٹ لینا مشکل ہوتا تھا، تو ہم لوگ کمال بھائی کو آگے کر دیتے تھے۔ این ڈی ٹی وی کے لئے وہ ایک خزانہ سے کم نہیں تھے۔ انہوں نے کبھی بنا ثبوت یا یا پوری جانکاری کے خبر نہیں دی، بھلے ہی بریکنگ نیوز کے اس دور میں وہ تھوڑا پیچھے ہی کیوں نہ رہ جائیں۔ اس کی ایک وجہ ان کا پرنٹ میں کام کرنا بھی تھا۔

      صحافت کے ساتھ ساتھ پڑھنے لکھنے کا شوق انہیں ہمیشہ رہا۔ ان کے گھر میں آپ کو ایک لائبریری مل جائے گی۔ حضرت گنج میں یونیورسل بک ڈپو پر کوئی کتاب تلاش کرتے یا خریدتے مل جاتے تھے۔ لکھنو بک فیئر میں کتابوں کے درمیان کمال خان کو اکثر دیکھا جاسکتا تھا۔

      یوں تو بے حد سادہ اور بہترین انسان تھے، لیکن لکھنو کے ایک سیلبرٹی بھی تھے۔ شہر کی تہذیب اور سماجی سرگرمیوں میں ان کی موجودگی لازمی تھی۔ لکھنو یونیورسٹی کے اساتذہ، مقامی رائٹروں، فنکاروں، سینئر آئی اے ایس افسران، بڑے تاجروں اور لیڈروں کے درمیان ان کو اکثر دیکھا جاسکتا تھا۔ وہ صحافیوں میں سیلبرٹی جرنلسٹ تھے۔ کئی بار ہم دیکھتے کہ کہیں فیلڈ میں رپورٹنگ کرتے وقت لوگ انہیں گھیر لیتے اور ان کے ساتھ سیلفی لیتے۔ میں نے لکھنو میں کسی صحافی کے لئے عام لوگوں میں یہ کریز نہیں دیکھا۔

      ہاں ان کی شخصٰات کا ایک پہلو صحافت اور اپنے احترام کے لئے لڑ جانا بھی تھا۔ کئی بار پریس کانفرنس میں کسی لیڈر کے قابل اعتراض برتاو پر کمال بھائی پورے تیور کے ساتھ اس کو بیان کرتے۔ صحافیوں کی پریشانیوں پر ہمیشہ ساتھ ساتھ کھڑے رہتے۔ اتنے سینئر ہونے کے باوجود نئے صحافیوں کو عزت دیتے اور گائیڈ کرتے۔

      سماجی اور انسانی خبرون کو پیش کرنے میں ان کا کوئی مقابلہ نہ تھا۔ ریاست کے دور دراز کے گاوں میں جاکر انہوں نے انسانی خبریں کی۔ غریبوں کے استحصال اور طاقتور لوگوں کے ظلم کی خبریں کرنے وہ اکثر پسماندہ علاقوں میں نظر آجاتے تھے۔ ان کی ان خبرون نے کئی بار ہلچل پیدا کی۔ اپنی بہترین صحافت کے لئے انہیں رامناتھ گوینکا ایوارڈ اور ہندوستان کے صدر جمہوریہ کے ذریعہ گنیش شنکر ودیارتھی سمان سے نوازا گیا تھا۔

      تقریباً 35 سال سے صحافت کر رہے کمال خان اس پیشے سے جڑے کئی دوسرے فریق سے دور رہے۔ پارٹیوں میں انہیں ساگی سے الگ بیٹھے دیکھا جاسکتا تھا۔ اپنی ذاتی زندگی میں بھی ہمیشہ سادگی سے رہے۔ وہ اکثر ساتھی صحافیوں کو مستقل واک کرنے، شاکاہاری (ویج) کھانا کھانے اور صحافت سے متعلق کشیدگی سے نمٹنے کے ٹپس دیتے تھے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ اپنے تن اور من کا اتنا خیال رکھنے والے کمال بھائی کو دل کا دورہ پڑاور وہ بھی اتنا تیز کہ انہیں اسپتال لے جانے کا بھی موقع ان کے اہل خانہ کو نہیں ملا۔ کمال خان اور روچی کمار کی جوڑی ایک آئیڈیل جوڑی کے طور پر دیکھی جاتی رہی ہے۔ لکھنو کی اس پیاری اور سیلبرٹی جوڑی کو جانے کس کی نظر لگ گئی؟ میرا دل روچی جی کے لئے بھر بھر جا رہا ہے۔ خدا انہیں اس بڑے دکھ کو برداشت کرنے کی طاقت فراہم کرے۔ کمال بھائی اپنی پی ٹی سی کا خاتمہ کسی نہ کسی شعر سے کرتے تھے۔ کمال بھائی کے جانے پر شاعر منظر لکھنوی کا یہ شعر یاد آرہا ہے۔

      جانے والے جا خدا حافظ مگر یہ سوچ لے

      کچھ سے کچھ ہوجائے گی دیوانگی تیرے بغیر

      الوداع کمال بھائی

      (ڈسکلیمر: یہ رائٹر کے ذاتی خیال ہیں۔ مضمون میں دی گئی کسی بھی جانکاری کی تصدیق یا درستگی کے تئیں مصنف خود جوابدہ ہے۔ اس کے لئے نیوز 18 اردو کسی بھی طرح جوابدہ نہیں ہے)
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: