کملیش تیواری قتل معاملہ: پاکستان بھاگنے کی فراق میں قتل کے ملزمان، سرحد سے 285 کلو میٹر دور ملا آخری لوکیشن

جمعہ کو قتل کی واردات انجام دینے کے بعد دونوں ہردوئی، بریلی، مرادآباد اور غازی آباد کے راستے چندی گڑھ کی طرف گئے ہیں۔

Oct 21, 2019 10:17 AM IST | Updated on: Oct 21, 2019 10:31 AM IST
کملیش تیواری قتل معاملہ: پاکستان بھاگنے کی فراق میں قتل کے ملزمان، سرحد سے 285 کلو میٹر دور ملا آخری لوکیشن

اسکرین فوٹیج

لکھنئو۔ ہندو سماج پارٹی کے قومی صدر کملیش تیواری قتل معاملہ میں شامل دونوں اصل ملزمان شیخ اشفاق حسین اور پٹھان معین الدین احمد عرف فرید ابھی بھی پولیس کی گرفت سے دور ہیں۔ پولیس کو اندیشہ ہے کہ دونوں سرحد پار کر پاکستان پہنچنے کی فراق میں ہیں۔ دونوں کا آخری لوکیشن بھی انبالہ کے پاس ملا ہے جو واگھہ سرحد سے 285 کلومیٹر دور ہے۔

اتوار دیر شام کو دونوں کا لوکیشن دہلی۔ امرتسر روٹ پر ملا۔ اس کے بعد یوپی پولیس اور گجرات پولیس کی ٹیم نے رات ساڑھے 10 بجے چندی گڑھ ریلوے اسٹیشن پر تلاشی مہم بھی چلائی۔ لیکن، دونوں کا کچھ بھی پتہ نہیں چل سکا۔ پولیس ذرائع کے مطابق، دونوں مسلسل پہچان بدل رہے ہیں۔ دونوں کی منشا سرحد پار کرنے کی ہے۔

Loading...

جمعہ کو قتل کی واردات انجام دینے کے بعد دونوں ہردوئی، بریلی، مرادآباد اور غازی آباد کے راستے چندی گڑھ کی طرف گئے ہیں۔ دونوں ملزمان سات سے آٹھ گھنٹے میں اپنا فون آن کر رہے ہیں اور پھر اسے سوئچ آف کر دے رہے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق، تیواری پر حملہ کرنے والے دو کلیدی ملزموں نے 16 اکتوبر کو مٹھائی کا ڈبہ خریدا تھا اور اس میں پستول رکھ کر ٹرین کے ذریعہ لکھنؤ پہنچے۔ گزشتہ جمعہ کو وہ لوگ تیواری کی رہائش گاہ پہنچے اور اس پر فائرنگ کرنے کی کوشش کی لیکن پستول سے گولی نہیں چلی بعد میں انہوں نے چاقو کے ذریعہ تیواری پر حملہ کر دیا اور وہاں سے فرار ہوگئے۔ ملزمین سی سی ٹی وی فوٹیج میں بھگوا کرتا زیب تن کئے نظر آرہے ہیں۔ تیواری پر حملہ کرنے سے قبل دونوں نے ہندووادی لیڈر سے تقریبا 30 منٹوں تک بات چیت بھی کی تھی۔

Loading...