کملیش تیواری قتل معاملہ: آج یوگی اہل خانہ سے کریں ملاقات، گوگل میپ کی مدد سے پہنچے تھے قاتل

اس سےپہلےسنیچرکوکملیش تیورای کےاہل خانہ کولکھنؤ ڈی ایم اورایس ایس پی نےاس تعلق سےتحریری یقین دہانی کرائی تھی۔

Oct 20, 2019 09:16 AM IST | Updated on: Oct 20, 2019 09:16 AM IST
کملیش تیواری قتل معاملہ: آج یوگی اہل خانہ سے کریں ملاقات، گوگل میپ کی مدد سے پہنچے تھے قاتل

کملیش تیواری قتل معاملہ : آج یوگی اہل خانہ سے کریں ملاقات-(تصویر:نیوز18)۔

یوپی کےوزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ آج کملیش تیواری کےاہل خانہ سےملاقات کریں گے۔ سی ایم یوگی کےساتھ اس ملاقات میں کملیش تیواری کےاہل خانہ کےتمام افراد موجود رہیں گے۔۔ساتھ ہی ہندوسماج پارٹی کےکچھ کارکنان بھی شامل ہوں گے۔اس سےپہلےسنیچرکوکملیش تیورای کےاہل خانہ کولکھنؤ ڈی ایم اورایس ایس پی نےاس تعلق سےتحریری یقین دہانی کرائی تھی۔لکھنؤ کےڈی ایم نےکملیش تیواری کےافراد خانہ کومعاشی مدد دینےکےساتھ ساتھ بڑے بیٹے کےلیے سرکاری نوکری کی سفارش کرنےکابھی دعویٰ کیاہے۔وہیں لکھنؤ کےاندرایک محفوظ جگہ پرمکان دینےکابھی وعدہ کیاگیاہے۔

گوگل میپ نے کی قاتلوں کی مدد

Loading...

لکھنؤمیں ہندومہاسبھا کے سابق صدر کملیش تیواری قتل کے بارے میں نئے انکشافات ہورہے ہیں۔ اب پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ گوگل میپ کی مدد سے قاتل ان کے گھر پہنچ گئے۔ اس کے علاوہ پولیس نے یہ بھی کہا ہے کہ تیواری کے قاتل ٹرین کے ذریعہ لکھنؤ آئے تھے۔پولیس کے مطابق ، دونوں قاتل چارباغ ریلوے اسٹیشن سے کملیش کے گھر کا پتہ پوچھتے ہوئے گنیش گنج پہنچ گئے۔ دونوں قاتلوں کا لوکیشن ہردوئی سے غازی آباد میں مرادآباد کے راستے سےدکھایاجارہاہے۔ کہا جارہا ہے کہ قاتلوں نے گوگل کی مدد سے کملیش تیواری کی معلومات اکٹھی کیں۔گوگل میپ سے کملیش تیواری کے مقام کی تلاشی کے بعد قاتل خورشیدباغ پہنچ گئے۔

اترپردیش پولیس : 3 موبائل نمبرس کی جارہی ہے جانچ

پولیس نے قاتلوں کی تلاش کے لیے 3 موبائل نمبرس کی جانچ کی جارہی ہے۔پولیس کا کہناہے کہ ایک موبائل نمبرجو17 اکتوبرکوایکٹیویٹ کیاگیاتھا اور اسے راجستھان سے خریدا گیاتھا۔ پولیس نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ کملیش کو واقعے سے ایک دن پہلے رات 12:30 بجے فون کیا گیا تھا۔ تفتیش کرتے ہوئے پتہ چلا کہ یہ موبائل کانپورگاؤں کے ٹیکسی ڈرائیورکاہے۔

پولیس کی 10 ٹیمیں تشکیل

قاتلوں کی گرفتاری کے لئے پولیس کی 10 ٹیمیں تشکیل دی ہے جو قاتلوں کی تلاش کررہے ہیں ۔دہلی اورلکھنؤ سے آنے والے پرواز کے مسافروں سے بھی پوچھ گچھ کی گئی ہے۔ پچھلے 22 گھنٹوں کے دوران ،3 سازشی افراد کو گرفتارکیاگیا ہے۔ شوٹروں کی شناخت کے لئے 60 سے زائد کیمروں کی فوٹیج تلاش کی گئی ہیں۔ پولیس نے 150 سے زیادہ افراد سے پوچھ گچھ کی ہے۔اس کے علاوہ کل 12 پولیس اہلکاروں سمیت 12 افسران کو مختلف ذمہ داریوں پرلگایا گیا تھا۔ فرانسنک لیب کے 3 ماہرین سے بھی مدد لی گئی ہے۔

Loading...