உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    کیش سے عیش، ٹیکس چوری کر کے UAEمیں جائیداد اور۔۔۔ انکم ٹیکس محکمہ نے کی قنوج واقعہ کی پوری جانچ

    IT Raid میں ملے چونکانے والے ثبوت۔

    IT Raid میں ملے چونکانے والے ثبوت۔

    انکم ٹیکس محکمہ کا کہنا ہے کہ اس بات کے ثبوت ملے ہیں کہ ہیرپھیر کر کے، منافع کو خرچ میں بدل کر دیگر طریقوں سے بے حساب انکم کو ممبئی واقع مختلف رئیل اسٹیٹ پروجیکٹوں میں انوسٹ کیا جاتا ہے۔

    • Share this:
      قنوج:اُترپردیش (Uttar Pradesh News)کے قنوج ریڈ (Kannauj IT Raid) کی گتھی اب حل ہوتی نظر آرہی ہے۔ قنوج میں عطر کاروباری اور سماج وادی پارٹی کے ایم ایل سی پشپ راج جین عرف پمپ جین (Pushpraj Jain)سمیت دو دیگر عطر کاروباریوں کے گھر پر کیے گئے چھاپوں کے بعد انکم ٹیکس محکمہ (Income Tax Department) کی ٹیم نے پورے معاملے کی جانچ کردی ہے۔ محکمہ انکم ٹیکس (IT Raid News) کی ٹیم نے بیان جاری کرکے بتایا ہے کہ پشپ راج جین اور دیگر عطر کاروباریوں کے کاروبار میں کیش میں لین دین ہوتا ہے اور اسے ریکارڈ میں شامل نہیں کیا جاتا ہے۔ اتنا ہی نہیں، ریڈ میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ ٹیکس چوری کے پیسے سے ہندوستان اور متحدہ عرب امارات میں جائیداد خریدی گئی ہے۔

      دراصل، محکمہ انکم ٹیکس نے پرفیوم تیار کرنے اور رئیل اسٹیٹ کے کاروبار کرنے والے دو گروپوں پر 31 دسمبر کو تلاشی و ضبطی مہم چلائی تھی۔ ان گروپوں میں قنوج سے سماج وادی پارٹی کے ایم ایل سی پشپ راج جین اور محمد یعقوب محمد ایوب کی کمپنیاں شامل ہیں۔ تلاشی مہم کے دوران یوپی کے قنوج، کانپور، نوئیڈا، ہاتھرس، مہاراشٹر، دلی، تمل ناڈو اور گجرات ریاستوں میں تقریباً 40 سے زیادہ ٹھکانوں پر ایک ساتھ چھاپہ ماری کی گئی تھی۔ کافی وقت تک چلی ریڈ کے بعد محکمہ انکم ٹیکس کی ٹیم نے بتایا ہے کہ کیسے دھاندلی کر کے بلیک منی چھپائی جاتی تھی۔

      کیش سے عیش
      محکمہ انکم ٹیکس کے آفیشل بیان کے مطابق، اترردیش اور ممبئی میں پشپ راج جین یعنی پمپی جین کے ٹھکانوں پر چھاپوں سے پتہ چلا ہے کہ کمپنی عطر کی فروخت، اسٹاک اور کھاتوں میں ہیراپھیری کرکے، منافع کو خرچوں میں تبدیل کر کے ٹیکس کی چوری کرتی تھی۔ کمپنی کی سیل آفس اور ہیڈکوارٹر میں پائے گئے ثبوتوں سے پتہ چلا ہے کہ گروپ اپنی فروخت کا 35 فیصد سے 40 فیصد حصہ ’کچے بلوں‘ یعنی کیش میں کرتا ہے اور ان کیش کو مقررہ رجسٹرس میں درج نہیں کیا جاتا ہے۔ پتہ چلا ہے کہ کھاتے میں کروڑوں روپے ہیں۔ فرضی پارٹیوں سے تقریباً 5 کروڑ روپے لینے کا بھی پتہ چلا ہے ۔

      ٹیکس چوری کر کے یو اے ای میں پراپرٹی
      انکم ٹیکس محکمہ کا کہنا ہے کہ اس بات کے ثبوت ملے ہیں کہ ہیرپھیر کر کے، منافع کو خرچ میں بدل کر دیگر طریقوں سے بے حساب انکم کو ممبئی واقع مختلف رئیل اسٹیٹ پروجیکٹوں میں انوسٹ کیا جاتا ہے۔ اتنا ہی نہیں، ہندوستان اور یو اے ای دونوں میں جائیدادوں کو اسی ٹیکس چوری کی انکم سے خریدا گیا ہے۔ یہ بھی پتہ چلا ہے کہ گروپ نے کروڑوں روپے کی ٹیکس کی چوری کی ہے۔ اسٹاک ان ٹریڈ کو پونجی میں بدلنے پر 10 کروڑ روپے کی انکم کا اعلان نہیں کیا گیا ہے۔

      کیسے دیا جاتا ہے دھوکہ
      انکم ٹیکس محکمہ کو ریڈ کے دوران ایسے کچھ اہم دستاویز بھی ہاتھ لگے ہیں، جو اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ گروپ کے پروموٹرس نے کچھ شیل کمپنیوں کو بھی شامل کیا ہے اور یہ شیل کمپنیاں ہندوستانی پروموٹروں کی جانب سے چلائی اور منظم کی جاتی ہے۔ حالانکہ، ایسی شیل کمپنیوں کو اُن کے متعلقہ انکم ٹیکس ریٹرن میں مطلع نہیں کیا گیا ہے۔ ایسی دو شیل کمپنیوں کے ذریعے متحدہ عرب امارات میں ایک ایک ولا کے مالک ہونے کا پتہ چلا ہے۔ یعنی یہ کمپنیاں اُن پتوں پر رجسٹر کی گئی تھیں۔ یہ بھی پتہ چلا ہے کہ متحدہ عرب امارات سے گروپ کی شیل کمپنیوں میں سے ایک نے مبینہ طور پر گروپ کی ایک ہندوستانی یونٹ میں 16 کروڑ روپے سے زیادہ کے غیر قانونی شیئر کی پیشکش کی ہے۔

      کون ہے پشپ راج جین؟
      پشپ راج جین کو 2016 میں اٹاوہ-فرخ آباد سے ایم ایل سی کے طور پر منتخب کیا گیا تھا۔ وہ پرگتی اروما آئل ڈسٹلرس پرائیوٹ لمیٹیڈ کے کواونر ہیں۔ حال کے دنوں میں یو پی کی سیاست میں سرخیاں حاصل کررہا سماج وادی عطر انہی کی کمپنی نے بنایا تھا۔ ان کے اس بزنس کی شروعات اُن کے والد سوئیل لال جین نے 1950 میں شروع کی تھی۔ پشپ راج اور اُن کے تین بھائی قنوج میں بزنس کرتے ہیں اور ایک ہی گھر میں رہتے ہیں۔ ایم ایل سی پشپ راج کا ممبئی میں ایک گھر اور آفس ہے، جہاں سے مرکزی طور پر مڈل ایسٹ کے 12 ملکوں کو ایکسپورٹ کا سودا ہوتا ہے۔ اُن کے تین بھائیوں میں سے دو ممبئی آفس میں کام کرتے ہیں، جب کہ تیسرا اُن کے ساتھ قنوج میں مینوفیکچرنگ سیٹ اپ پر کام کرتا ہے۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: