உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Kanpur Violence:فیس بک-ٹوئٹر پر فرضی اور اشتعال انگیز پوسٹ ڈالنے والے 8لوگوں کے خلاف FIRدرج

    Kanpur Violence: فرضی اور اشتعال انگیز پوسٹ کرنے والوں کے خلاف کارروائی جاری۔

    Kanpur Violence: فرضی اور اشتعال انگیز پوسٹ کرنے والوں کے خلاف کارروائی جاری۔

    Kanpur Violence: ایڈیشنل کمشنر آف پولیس (امن و قانون) آنند پرکاش تیواری نے کہا کہ ڈی سی پی تیاگی نے فورنسک ماہرین کے ساتھ جائے حادثہ کا دورہ کیا اور حقیقت کا جائزہ لیا اور شواہد اکٹھے کئے۔

    • Share this:
      Kanpur Violence:یوپی کی کانپور پولیس نے جمعہ (3 جون) کے تشدد کے سلسلے میں سوشل میڈیا پر فرضی اور اشتعال انگیز پوسٹ کرنے کے الزام میں آٹھ لوگوں کے خلاف ایف آئی آر درج کی ہے۔ پولیس کے مطابق ان افراد نے فیس بک اور ٹوئٹر پر فرضی اور اشتعال انگیز مواد پوسٹ کیا تھا۔ اس معاملے میں کانپور کے ایڈیشنل کمشنر آف پولیس (کرائم) سریش راؤ اے کلکرنی نے بتایا کہ سوشل میڈیا کا استعمال کرنے والے بہت سے لوگوں کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔

      اس کے ساتھ، ایڈیشنل کمشنر آف پولیس (کرائم)، کانپور نے کہا کہ سوشل میڈیا صارفین نے مبینہ طور پر اشتعال انگیز مواد پوسٹ کیا، جس سے عام لوگ مشتعل ہوگئے۔ ان لوگوں کے خلاف تعزیرات ہند کی دفعہ 505 (عوامی فساد کا باعث بننے والے بیانات)، 507 (گمنام مواصلات کے ذریعے مجرمانہ دھمکی) اور انفارمیشن ٹیکنالوجی ایکٹ کی دفعہ 66 کے تحت ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔

      کانپور تشدد میں درج ہوئی چوتھی ایف آئی آر
      کانپور تشدد کے سلسلے میں یہ چوتھی ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔ یہ ایف آئی آر کوتوالی پولیس اسٹیشن کے انچارج انسپکٹر (ایس ایچ او) ارون کمار تیواری کی شکایت کی بنیاد پر درج کی گئی ہے۔ دریں اثنا، ڈپٹی کمشنر آف پولیس (جنوبی) سنجیو تیاگی کی سربراہی میں ایک خصوصی تحقیقاتی ٹیم (ایس آئی ٹی) نے تشدد کے واقعہ کی تحقیقات شروع کر دی ہے۔

      یہ بھی پڑھیں:
      جموں-کشمیر:بارہمولہ میں سیکورٹی فورس کے ساتھ انکاونٹرمیں لشکرکاایک دہشت گرد ہواڈھیر،3 فرار

      یہ بھی پڑھیں:
      Kanpur Violence: پولیس نے جاری کیا 40 مشتبہ افراد کا پوسٹر، لوگوں سے کی یہ اپیل

      ایڈیشنل کمشنر آف پولیس (امن و قانون) آنند پرکاش تیواری نے کہا کہ ڈی سی پی تیاگی نے فورنسک ماہرین کے ساتھ جائے حادثہ کا دورہ کیا اور حقیقت کا جائزہ لیا اور شواہد اکٹھے کئے۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: