ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

کانپور: ایسے شیلٹر ہوم پہنچیں حاملہ لڑکیاں، کسی سے گھر والوں نے نہیں رکھا تعلق، کچھ نے خود ہی گھر چھوڑ دیا

Kanpur Shelter Home: پانچ لڑکیوں نے عدالت میں اپنے اہل خانہ کے ساتھ جانے سے انکار کردیا تھا جبکہ دو لڑکیوں کے گھر والوں نے عدالت میں کہہ دیا تھا کہ اب ان کا بیٹیوں سے کوئی رشتہ نہیں ہے۔

  • Share this:
کانپور: ایسے شیلٹر ہوم پہنچیں حاملہ لڑکیاں، کسی سے گھر والوں نے نہیں رکھا تعلق، کچھ نے خود ہی گھر چھوڑ دیا
کانپور: ایسے شیلٹر ہوم پہنچیں حاملہ لڑکیاں، کسی سے گھر والوں نے نہیں رکھا تعلق، کچھ نے خود ہی گھر چھوڑ دیا

کانپور: سوروپ نگر واقع گرلس شیلٹر ہوم (Girls Shelter Home) میں 7 لڑکیوں کے حاملہ ہونے کے معاملے نے  طول پکڑ لیا ہے۔ سیاسی حملوں کے بعد اب حقوق انسانی کمیشن (NHRC) نے بھی یوپی کے چیف سکریٹری اور ڈی جی پی کو نوٹس بھیج کر معاملے میں جواب طلب کیا ہے۔ اس درمیان تب تک انتظامیہ کی طرف کی گئی جانچ میں کئی انکشاف ہوئے ہیں۔ ایس پی (مغرب) کے مطابق 7 حاملہ لڑکیوں میں سے 5 نے گھر جانے سے منع کردیا تھا، جبکہ دو کو ان کے گھر والوں نے ہی ٹھکرا دیا تھا، جس کے بعد انہیں یہاں لایا گیا۔


ضلع انتظامیہ کا دعویٰ ہے کہ گرلس شیلٹر ہوم (Girls Shelter Home) لائے جانے سے پہلے ہی سبھی حاملہ تھیں۔ انتطامیہ کے مطابق یہاں لانے سے پہلے پولیس نے سبھی کا میڈیکل کروایا تھا، جس میں ان کے حاملہ ہونے کی تصدیق ہوئی تھی۔ اتنا ہی نہیں لڑکیوں کو بھی اس بات کی جانکاری تھی۔ فی الحال پولیس نے ریکارڈ روم سے سبھی کی میڈیکل رپورٹ طلب کی ہے، تاکہ یہ پتہ لگایا جاسکےکہ سبھی جب یہاں لائی گئیں تو کتنے ماہ کی حاملہ تھیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ گرلس شیلٹر ہوم سیل ہونے کی وجہ سے میڈیکل رپورٹ ملنے میں تاخیر ہو رہی ہے۔


ساتوں معاملوں میں پاکسو ایکٹ کے تحت درج ہے معاملہ


پولیس کے مطابق، سبھی ساتوں حاملہ لڑکیوں کے معاملے میں آبروریزی، چھیڑ چھاڑ، بھگا لے جانے اور پاکسو ایکٹ کے تحت معاملہ درج ہے۔ پانچ معاملے میں پولیس چارج شیٹ داخل کرچکی ہے، جبکہ دو معاملوں کی تفتیش چل رہی ہے۔ ان میں سے پانچ لڑکیوں نے عدالت میں اہل خانہ کے ساتھ جانے سے انکار کردیا، جبکہ دو لڑکیوں کے گھر والوں نے عدالت میں کہہ دیا تھا کہ اب ان کا بیٹیوں سے کوئی رشتہ نہیں ہے، جس کے بعد سبھی کو گرلس شیلٹر ہوم بھیج دیا گیا تھا۔

پولیس کے مطابق، سبھی ساتوں حاملہ لڑکیوں کے معاملے میں آبروریزی، چھیڑ چھاڑ، بھگا لے جانے اور پاکسو ایکٹ کے تحت معاملہ درج ہے۔
پولیس کے مطابق، سبھی ساتوں حاملہ لڑکیوں کے معاملے میں آبروریزی، چھیڑ چھاڑ، بھگا لے جانے اور پاکسو ایکٹ کے تحت معاملہ درج ہے۔


اس دن شیلٹر ہوم میں پہنچیں لڑکیاں

ایس پی انل کمار نے بتایا کہ دو لڑکیوں کے بارے میں یہ طے ہوچکا ہے کہ وہ داخل ہونے سے پہلے حاملہ تھیں۔ باقی پانچ کی پروبیشن افسر سے میڈیکل رپورٹ مانگی گئی ہے۔ پولیس ریکارڈ کے مطابق 30 نومبر 2019 کو کانپور کے چوبے پور سے 18 سال کی ایک لڑکی کو لایا گیا۔ وہ کورونا پازیٹیو پائی گئی ہے۔ دوسری لڑکی جس کی عمر 16 سال ہے، 3 دسمبر 2019 کو آگرہ سے لائی گئی تھی، یہ بھی کورونا سے متاثر ہے۔ 19 دسمبر 2019 کو قنوج سے 17 سال کی لڑکی کو داخل کیا گیا، یہ بھی کورونا پازیٹیو ہے۔ 23 جنوری 2020 کو ایٹہ سے 17 سال کی لڑکی کو داخل کیا گیا، یہ بھی کورونا پازیٹیو ہے۔ 16 فروری 2020 کو فیروزآباد سے 16 سال کی لڑکی کو داخل کیا گیا، یہ بھی کورونا پازیٹیو ہے۔ 23 فروری 2020 کو ایٹہ سے 17 سال کی لڑکی کو یہاں لایا گیا، اس کی رپورٹ نگیٹیو ہے۔ 09 جون 2020 کو کانپور شہر سے 15 سال کی لڑکی کو داخل کیا گیا، اس کی رپورٹ بھی نگیٹیو ہے۔
First published: Jun 23, 2020 11:41 AM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading