உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    کانپور تشدد: پولیس کمشنر سے ملے سماجوادی پارٹی کے 3 اراکین اسمبلی، کہا- یہ پولیس کی ناکامی

    سماجوادی پارٹی کے اراکین اسمبلی امیتابھ باجپئی، عرفان سولنکی اور حسن رومی نے پولیس کمشنر سے مل کر کہا کہ یہ خفیہ محکمہ کی ناکامی ہے کہ انہیں اتنی بڑی سازش کا پتہ نہیں چل سکا۔

    سماجوادی پارٹی کے اراکین اسمبلی امیتابھ باجپئی، عرفان سولنکی اور حسن رومی نے پولیس کمشنر سے مل کر کہا کہ یہ خفیہ محکمہ کی ناکامی ہے کہ انہیں اتنی بڑی سازش کا پتہ نہیں چل سکا۔

    سماجوادی پارٹی کے اراکین اسمبلی امیتابھ باجپئی، عرفان سولنکی اور حسن رومی نے پولیس کمشنر سے مل کر کہا کہ یہ خفیہ محکمہ کی ناکامی ہے کہ انہیں اتنی بڑی سازش کا پتہ نہیں چل سکا۔

    • Share this:
      کانپور: کانپور تشدد کو لے کر سیاست بھی عروج ہے۔ اسی کے درمیان پولیس کمشنر سے بدھ کے روز سماجوادی پارٹی کے تین اراکین اسمبلی ملنے پہنچے۔ تینوں اراکین اسمبلی نے کانپور تشدد کے حادثہ کو پولیس انٹلی جنس کی ناکامی سے تعبیر کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ حادثہ انٹلی جنس کی ناکامی کے سبب پیش آیا۔ انہوں نے پولیس کمشنر سے سوال کیا کہ خفیہ محکمہ کو اس بڑی سازش کی جانکاری کیوں نہیں تھی۔ کمشنر سے ملنے پہنچے امیتابھ باجپئی، عرفان سولنکی اور حسن رومی نے کہا کہ س پورے معاملے کی جانچ سٹنگ جج سے کروائی جانی چاہئے۔

      اسی کے ساتھ انہوں نے کمشنر سے اپیل کی کہ سبھی قصورواروں کے خلاف سخت سے سخت کارروائی ہو، لیکن اس پورے معاملے میں بے قصور واروں لوگوں کو پولیس زبردستی نہ پھنسائے۔



      وہیں معاملے میں پولیس نے بی جے پی یوتھ ونگ کے لیڈر ہرشت شریواستو کو گرفتار کرنے کے ساتھ معاملہ درج کیا ہے۔ بی جے پی لیڈر نے کانپور تشدد کو لے کر سوشل میڈیا پر متنازعہ پوسٹ ڈالا تھا۔ جانکاری کے مطابق، ہرشت شریواستو بی جے پی یوتھ مورچہ کانپور مہانگر میں ضلع منتری ہیں۔

      اس کے علاوہ وہ ریاستی ورکنگ کمیٹی کے رکن، اکھل بھارتیہ ودیارتھی پریشد (اے بی وی پی) میں شہری منتری اور ڈی اے وی کالج کانپور یونیورسٹی میں اے بی وی پی کے صدر کی ذمہ داری سنبھال چکے ہیں۔ بی جے پی لیڈر پر پیغمبر محمد پر قابل اعتراض اور قابلو توہین پوسٹ ڈالنے کا الزام ہے۔ جبکہ کانپور پولیس نے منگل کو بی جے پی لیڈر سمیت  13 لوگوں کو گرفتار کیا ہے۔ انہیں اب عدالتی حراست میں بھیج دیا گیا ہے۔

      کانپور تشددپر سی پی وجے سنگھ مینا نے بتایا کہ اب تک کل 51 لوگوں کو گرفتار کیا جاچکا ہے۔ اس کے علاوہ تقریباً 10 اور مشتبہ افراد کو پوچھ گچھ کے لئے حراست میں لیا گیا ہے۔ ایک پرنٹنگ پریس کے مالک سے بھی پوچھ گچھ کی گئی کہ اشتعال انگیز پوسٹر کہاں سے چھاپہ گیا۔ ہم نے عوام سے اپیل کی تھی کہ وہ ہمیں تصویر اور ویڈیو بھیجیں، جو ہماری مدد کرسکیں۔ اس کے ساتھ انہوں نے کہا کہ SIT ٹیم بھی جانچ کر رہی ہے۔ کانپور تشدد کو لے کر چار ایس آئی ٹی ٹیموں کی تشکیل کی ہے، جوکہ الگ الگ معاملوں کی جانچ کر رہی ہیں۔

       
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: