உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    ہمیں ملنی چاہئے تھی پاکستانی علاقوں پر قبضہ کی اجازت : سابق فوجی سربراہ

    ہمیں ملنی چاہئے تھی پاکستانی علاقوں پر قبضہ کی اجازت : سابق فوجی سربراہ ۔ (Photo- CNN-News18)

    Kargil Vijay Diwas: سال 1999 میں ہندوستان اور پاکستان کے درمیان ہوئی جنگ کے 22 سال بعد سابق فوجی سربراہ وی پی ملک نے کہا کہ آپریش وجے سیاسی ، فوجی اور سفارت کاری کے طور پر مضبوط کارروائی تھی ، جس نے ہمیں خراب صورتحال کو بھی مضبوط فوجی اور سفارتی جیت میں بدلنے میں مدد کی ۔

    • Share this:
      نئی دہلی : سابق فوجی سربراہ جنرل وی پی ملک نے کہا ہے کہ کارگل میں جنگ بندی سے پہلے سیکورٹی فورسیز کو ایل او سی کے پاس پاکستانی علاقوں پر قبضہ کرنے کی اجازت دی جانی چاہئے تھی ۔ سال 1999 میں ہندوستان اور پاکستان کے درمیان ہوئی جنگ کے 22 سال بعد ملک نے کہا کہ آپریش وجے سیاسی ، فوجی اور سفارت کاری کے طور پر مضبوط کارروائی تھی ، جس نے ہمیں خراب صورتحال کو بھی مضبوط فوجی اور سفارتی جیت میں بدلنے میں مدد کی ۔ جبکہ پاکستانی کو سیاسی اور فوجی سطح پر اس کی بڑی قیمت چکانی پڑی ۔ سابق فوجی سربرہ نے کہا کہ ہندوستانی فوج نے خراب انٹلی جنس اور نامکمل سرویلانس کی بنیاد پر حالات کا اندازہ لگانے اور مناسب کارروائی کرنے میں تھوڑا وقت لیا ۔

      انگریزی اخبار ٹائمس آف انڈیا کے مطابق ملک نے کہا کہ جب جنگ شروع ہوئی ، ہم پاکستان کے ذریعہ بنائی گئی 'سرپرائز سوچئیشن' پر جواب دے رہے تھے ۔ انٹلی جینس اور سرویلانس میں ناکام ہونے کی وجہ سے سرکار کے اندر دراندازوں کی شناخت کو لے کر کنفیوزن تھا ، ہماری فرنٹ لائن ، دراندازی کا پتہ لگانے میں ناکام رہی اور ان کے ٹھکانوں کے بارے میں کوئی سراغ نہیں تھا ، اس لئے وافر  جانکاری حاصل کرنا ، حالات کو مستحکم کرنا اور پھر پہل کرنا ضروری ہوگیا ۔

      انہوں نے کہا کہ کچھ وقت بعد جب ہندوستانی فوج کو کارگل میں فوجی کامیابی کا بھروسہ ہوا تو انہیں جنگ بندی کیلئے رضامند ہونے سے پہلے کنٹرول لائن کے پار کچھ پاکستانی علاقوں پر قبضہ کرنے کی اجازت دی جانی چاہئے تھی ۔

      سابق فوجی سربراہ نے کہا کہ کارگل جنگ ہندوستان اور پاکستان سیکورٹی تعلقات میں ایک اہم موڑ تھا ۔ ہندوستان میں بھروسہ تقریبا پوری طرح سے ٹوٹ گیا تھا اور یہ احساس ہوگیا تھا کہ پاکستانی لاہور اعلامیہ جیسے کسی بھی سمجھوتہ سے آسانی سے منحرف ہوسکتا ہے ، جس پر اس نے صرف دو مہینے پہلے ہی دستخط کئے تھے ۔ یہ وزیر اعظم واجپئی ( اور کابینہ) کیلئے ایک بڑا جھٹکا تھا ، جنہوں نے یہ ماننے میں کافی وقت لگایا کہ درانداز پاکستانی دہشت گرد نہیں بلکہ فوجی تھے ۔ واجپئی نے نواز شریف سے کہا کہ آپ نے پیٹھ میں چھرا گھونپ دیا ۔

      ممبئی حملوں سے وابستہ ایک سوال پر ملک نے کہا کہ جب ممبئی حملہ ہوا تھا تب میں ریٹائر ہوگیا تھا ، لیکن تب بھی میرا ماننا تھا کہ ہندوستان کو جوابی کارروائی کی ضرورت ہے ۔ اگر پاکستان پھر سے ایسے حالات پیدا کرتا ہے تو ہمیں جوابی کارروائی کرکے پرزور جواب دینا چاہئے ۔
      Published by:Imtiyaz Saqibe
      First published: