ہوم » نیوز » جنوبی ہندوستان

این پی آر کو لے کر قومی سطح پر کوئی ایک فیصلہ لیا جائے :کرناٹک امیرشریعت مولانا صغیر احمد رشادی

امیرشریعت کرناٹک نے کہا کہ این پی آر کے حتمی سوالات کیا ہوں گے؟ این پی آر میں کیا تبدیلیاں کی گئی ہیں؟ این پی آر کا خدوخال کیسا ہوگا ؟ اس سلسلے میں مرکزی حکومت عوام کو وضاحت فراہم کرے۔

  • Share this:
این پی آر کو لے کر قومی سطح پر کوئی ایک فیصلہ لیا جائے :کرناٹک امیرشریعت مولانا صغیر احمد رشادی
این پی آر کو لے کر قومی سطح پر کوئی ایک فیصلہ لیا جائے :کرناٹک امیرشریعت مولانا صغیر احمد

این پی آر کے سلسلے میں قومی سطح پر کوئی ایک فیصلہ  لینے کی ضرورت ہے۔ ریاست کرناٹک کے امیرشریعت مولانا صغیراحمد رشادی نے بنگلورو میں یہ بات کہی ۔ امیرشریعت نے کہا کہ اپریل سے این پی آر یعنی نیشنل پاپولیشن رجسٹر کی کارروائی شروع ہونے والی ہے ۔ سی اے اے مخالف احتجاج کررہی چند تنظیمیں این پی آر کا بائیکاٹ کرنے کی بات کہہ رہی ہیں ۔ جبکہ کئی تنظیموں نے اس سلسلے میں کوئی فیصلہ نہیں لیا ہے۔ مولانا نے کہا کہ فیصلہ خواہ مثبت ہو یا منفی ، ملک گیر سطح پر کوئی ایک فیصلہ لیاجانا چاہئے ۔ امیرشریعت نے ملک کی بڑی ملی تنظیموں سے یہ اپیل کی ۔ اُنہوں نے کہا کہ ہندو، دلت، سکھ، عیسائی اور دیگر مذاہب کی تنظیموں سے مذاکرات کرتے ہوئے این پی آر کے متعلق فیصلہ کیا جائے۔ تاکہ عوام میں کسی طرح کی تشویش اور کنفوزن پیدا نہ ہو۔


امیرشریعت کرناٹک نے کہا کہ این پی آر کے سلسلہ میں وزیرداخلہ امت شاہ کا بیان وضاحت طلب ہے۔ این پی آر کے حتمی سوالات کیا ہوں گے؟ این پی آر میں کیا تبدیلیاں کی گئی ہیں؟ این پی آر کا خدوخال کیسا ہوگا ؟ اس سلسلے میں مرکزی حکومت عوام کو وضاحت فراہم کرے۔ کورونا وائرس کی وبا پر بات کرتے ہوئے امیرشریعت نےکہا کہ عوام حکومت کی ہدایات پرپوری طرح عمل کریں ۔ اس مرض کو کسی بھی صورت میں پھیلنے سے روکنے کیلئے حکومت اور انتظامیہ کے ساتھ تعاون کریں ۔ گھروں، محلوں، عوامی مقامات پرصاف صفائی کا پوری طرح خیال رکھیں۔


قابل ذکر ہے کہ مولانا صغیراحمد رشادی جنوبی ہند کی مشہور دینی درسگاہ دارالعلوم سبیل الرشاد کے مہتمم بھی ہیں ۔ مولانا نے کہا کہ 4 سال کے وقفہ کے بعد دارالعلوم سبیل الرشاد کا جلسہ دستاربندی اور تقسیم اسناد منعقد ہورہا ہے۔ 5 اپریل بروز اتوار ہونے والے اس جلسہ کیلئے مدرسہ کے احاطہ میں بڑے پیمانے پرتیاریاں شروع ہوچکی ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ اس تقریب میں ممتاز عالم دین مولانا محمد قمرالزماں الہ آبادی ، مولانا مفتی عبدالوہاب نیلوراور چند دیگر اہم علما شرکت کریں گے ۔ اس جلسہ میں 338 علما ،حفاظ اور قرا کی دستاربندی عمل میں آئے گی ۔ مدرسہ کے سابق مہتمم و ریاستِ کرناٹک کے سابق امیرشریعت مولانا محمد مفتی اشرف علی اور اُن کے فرزند مولانا احمد معاذ رشادی کے انتقال کے بعد دارالعلوم سبیل الرشاد کا یہ پہلا جلسہ دستار بندی ہوگا۔

First published: Mar 16, 2020 10:34 PM IST