ہوم » نیوز » جنوبی ہندوستان

بنگلورو میں بلال باغ کے احتجاج نے 15 دن مکمل کرلئے ، سی اے اے کے خلاف خواتین کا دن و رات احتجاج

سی اے اے ، این آرسی اور این پی آر کے خلاف کرناٹک کے دارالحکومت بنگلورو میں شاہین باغ کے طرز پر بلال باغ بنایا گیا ہے۔ شہر کے ٹیانری روڈ میں بنائے گئے اس بلال باغ سے کئی اہم شخصیات نے خطاب کیا ہے ۔

  • Share this:
بنگلورو میں بلال باغ کے احتجاج  نے 15 دن مکمل کرلئے ، سی اے اے کے خلاف خواتین کا دن و رات احتجاج
بنگلورو میں بلال باغ کے احتجاج نے 15 دن مکمل کرلئے ، سی اے اے کے خلاف خواتین کا احتجاج

بنگلورو میں سی اے اے کے خلاف جاری بلال باغ کے احتجاج نے 15 دن مکمل کر لئے ہیں۔ پندرہ ویں دن کے احتجاج میں سکھ برداری کے نمائندوں نے بھی حصہ لیا ۔  سکھ برادری  کے لوگوں نے بھجن کیرتن کے ذریعہ احتجاج پر بیٹھی خواتین کی حوصلہ افزائی کی ۔ ان لوگوں نے کافی دیر تک بلال باغ میں اپنا وقت گزارا ۔ دن اور رات احتجاج کررہی خواتین کے جذبہ کو سلام پیش کیا ۔


واضح رہے کہ سی اے اے ، این آرسی اور این پی آر کے خلاف کرناٹک کے دارالحکومت بنگلورو میں شاہین باغ کے طرز پر بلال باغ بنایا گیا ہے۔ شہر کے ٹیانری روڈ میں بنائے گئے اس بلال باغ سے کئی اہم شخصیات نے خطاب کیا ہے ۔  معروف فلم اداکار نصیرالدین شاہ ، معروف تاریخ داں رام چندر گوہا ، معروف سوشل ایکٹو یسٹ میدھا پاٹکر ، سوراج ابھیان کے صدر یوگیندر یادو، معروف دلت لیڈر جگنیش میوانی سمیت کئی اہم شخصیات نے خطاب کیا ۔


کنڑا زبان کے ترقی پسند ادیب ، اردو کے شعرا ، علما بھی بنگلورو کے بلال باغ سے خطاب کررہے ہیں ۔ اہم بات یہ ہے کہ بنگلورو کے بلال باغ میں سیاستدانوں کو خطاب کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ سیاستدانوں کو چھوڑ کر سبھی شعبہ حیات کے لوگوں کو خطاب کرنے کا موقع دیا جارہا ہے ۔


گھریلو خواتین اور ملازمت پیشہ خواتین کے علاوہ  بڑی تعداد میں کالجوں کی طالبات بھی اس احتجاجی مظاہرے میں حصہ لے رہی ہیں ۔
گھریلو خواتین اور ملازمت پیشہ خواتین کے علاوہ بڑی تعداد میں کالجوں کی طالبات بھی اس احتجاجی مظاہرے میں حصہ لے رہی ہیں ۔


کرناٹک کی اسمبلی سے تقریبا پانچ کلومیٹر کی دوری پر بنگلورو میں  بلال باغ بنایا گیا ہے ۔ مرکز اہل سنت جامعہ حضرت بلال اور مسجد حضرت بلال سے لگی سڑک پر یہ احتجاجی مظاہرہ ہورہا ہے ، اس لئے اس احتجاجی مظاہرہ کو بلال باغ کا نام دیا گیا ہے ۔ حالانکہ اس بلال باغ کو ختم کرنے کیلئے پولیس بار بار دباؤ ڈال رہی ہے ۔ لیکن بنگلورو کی خواتین پورے جوش اور جذبہ کے ساتھ احتجاج پر ڈٹی ہوئی ہیں ۔ سی اے اے ، این آرسی اور این پی آر کے منسوخ ہونے تک احتجاج کا سلسلہ جاری رکھنا چاہتی ہیں۔

گھریلو خواتین اور ملازمت پیشہ خواتین کے علاوہ  بڑی تعداد میں کالجوں کی طالبات بھی اس احتجاجی مظاہرے میں حصہ لے رہی ہیں ۔ بنگلورو میں مقیم دیگر ریاستوں کی خواتین بھی احتجاج میں شامل ہورہی ہیں ۔ بنگلورو کے اس بلال باغ کے منظر کو دیکھنے کیلئے ہردن بڑی تعداد میں لوگ یہاں آرہے ہیں۔
First published: Feb 23, 2020 11:18 PM IST