உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Hijab:کرناٹک کے اوڈوپی کے کالج میں لڑکیوں کے حجاب پہننےپر لڑکوں نے پہنا زعفرانی شال، جانیے کیا ہے معاملہ

    کرناٹک کے کالج میں باحجاب طالبات کا معاملہ گرماتا جارہا ہے۔ (فائل فوٹو)

    کرناٹک کے کالج میں باحجاب طالبات کا معاملہ گرماتا جارہا ہے۔ (فائل فوٹو)

    اس معاملے کی پہلی سماعت اس ہفتے کے آخر تک ہونے کا امکان ہے۔ اوڈوپی کے ایم ایل اے اور کالج ڈیولپمنٹ کمیٹی کے صدر کے رگھوپتی بھٹ نے حجاب پہننے کے حق کے لیے احتجاج کرنے والی طالبات کے ساتھ میٹنگ کے بعد واضح طور پر کہا کہ محکمہ تعلیم کے فیصلے کے تحت طالبات کو ’حجاب‘ پہن کر کلاس میں داخل ہونے کی اجازت نہیں ہوگی۔

    • Share this:
      اوڈوپی:کرناٹک (Karnataka) کے اڈوپی میں کالج میں لڑکیوں کے حجاب (Hijab) پہننے پر جاری تنازعہ کے درمیان کنڈاپور میں بھی ایسا ہی معاملہ سامنے آیا ہے۔ درحقیقت بدھ کے روز جب اُڈوپی سے 40 کلومیٹر دور کنڈا پور کے ایک کالج میں کچھ لڑکیاں حجاب پہن کر پہنچیں تو جواب میں تقریباً 100 لڑکوں نے زعفرانی شالیں پہن کر احتجاج کیا۔ صورتحال کی سنگینی کو محسوس کرتے ہوئے کنڈاپور کے ایم ایل اے ہلادی سرینواس شیٹی نے کالج کے حکام اور طلبہ کے ساتھ میٹنگ کی۔

      اس ملاقات میں دونوں فریقوں کے درمیان اتفاق رائے نہیں ہو سکا کیونکہ لڑکیوں کے والدین کا کہنا تھا کہ ان کے بچوں کو حجاب پہننے کا حق ہے۔ عہدیداروں نے واضح کیا کہ طلباء کو یونیفارم پہننے کے اصول پر عمل کرنا چاہئے۔ آپ کو بتاتے چلیں کہ کرناٹک کے منگلورو شہر کے اوڈوپی ضلع میں واقع ایک سرکاری خواتین کالج کی طالبہ نے کرناٹک ہائی کورٹ میں ایک رٹ پٹیشن دائر کی ہے جس میں کلاس روم کے اندر حجاب پہننے کا حق دینے کی درخواست کی گئی ہے۔ یہ درخواست طالبہ ریشم فاروق نے دائر کی ہے۔ ریشم کی نمائندگی ان کے بھائی مبارک فاروق نے کی۔

      درخواست گزار نے کہا ہے کہ طالبات کا حجاب پہننے کا حق آئین کے آرٹیکل 14 اور 25 کے تحت دیا گیا بنیادی حق ہے اور یہ اسلام کے تحت ایک ضروری عمل ہے۔ درخواست گزار نے استدعا کی کہ اسے اور اس کے دیگر ہم جماعتوں کو کالج انتظامیہ کی مداخلت کے بغیر حجاب پہن کر کلاس میں بیٹھنے کی اجازت دی جائے۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ کالج نے آٹھ طالبات کو مذہب اسلام کی پیروی کرنے کی اجازت نہیں دی۔ اس میں کہا گیا کہ چونکہ یہ طالبات حجاب پہنے ہوئے تھیں، اس لیے انہیں تعلیم کے بنیادی حق سے محروم رکھا گیا۔

      اس ہفتے کے آخر تک اس کیس پر ہوسکتی ہے سماعت
      درخواست گزار کی طرف سے شتھابیش شیواننا، ارناو اے بگلواڑی اور ابھیشیک جناردن عدالت میں پیش ہوئے۔ اس معاملے کی پہلی سماعت اس ہفتے کے آخر تک ہونے کا امکان ہے۔ اوڈوپی کے ایم ایل اے اور کالج ڈیولپمنٹ کمیٹی کے صدر کے رگھوپتی بھٹ نے حجاب پہننے کے حق کے لیے احتجاج کرنے والی طالبات کے ساتھ میٹنگ کے بعد واضح طور پر کہا کہ محکمہ تعلیم کے فیصلے کے تحت طالبات کو ’حجاب‘ پہن کر کلاس میں داخل ہونے کی اجازت نہیں ہوگی۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: