ہوم » نیوز » جنوبی ہندوستان

کرناٹک ضمنی انتخابات: کانگریس، جے ڈی ایس نے گنوائی اپنی اپنی سیٹ، بی جے پی کو ملی بڑی کامیابی

حزب اختلاف کانگریس اور جے ڈی ایس کو بڑا جھٹکا لگا ہے۔ بنگلورو کے آر آر نگر اسمبلی حلقہ میں کانگریس کے باغی ایم ایل اے منی رتنا نے بی جے پی کے ٹکٹ پر الیکشن لڑتے ہوئے ایک بار پھر بڑی کامیابی حاصل کی ہے۔ سرا اسمبلی حلقہ میں بی جے پی اور کانگریس کے درمیان کانٹے کی ٹکر دیکھنے کو ملی۔ آخر کار بی جے پی کے امیدوار ڈاکٹر بی ایم راجیش گوڈا نے 12949 ووٹوں سے کانگریس کے سینئر لیڈر ٹی بی جئے چندرا کو شکست دی ہے۔

  • Share this:
کرناٹک ضمنی انتخابات: کانگریس، جے ڈی ایس نے گنوائی اپنی اپنی سیٹ، بی جے پی کو ملی بڑی کامیابی
کرناٹک ضمنی انتخابات: کانگریس، جے ڈی ایس نے گنوائی اپنی اپنی سیٹ، بی جے پی کو ملی بڑی کامیابی

کرناٹک میں دو اسمبلی حلقوں کے ضمنی انتخابات کے نتائج ریاست کی حکمراں سیاسی جماعت بی جے پی کے حق میں آئے ہیں۔ دونوں نشستوں پر بی جے پی کے امیدوار کامیاب ہوئے ہیں۔ جبکہ حزب اختلاف کانگریس اور جے ڈی ایس کو بڑا جھٹکا لگا ہے۔ بنگلورو کے آر آر نگر اسمبلی حلقہ میں کانگریس کے باغی ایم ایل اے منی رتنا نے بی جے پی کے ٹکٹ پر الیکشن لڑتے ہوئے ایک بار پھر بڑی کامیابی حاصل کی ہے۔ منی رتنا نے 57936 ووٹوں کے فاصلے سے جیت درج کرتے ہوئے کانگریس کی امیدوار کسما کو شکست دی ہے۔ منی رتنا نے ایک لاکھ 25 ہزار 734 ووٹ حاصل کئے ہیں۔ جبکہ کانگریس کی امیدوار کسما کو  67 ہزار 798 ووٹ ملے ہیں۔ وہیں جے ڈی ایس کے امیدوار کرشنا مورتی محض 10251 ووٹ حاصل کرتے ہوئے یہاں تیسرے مقام پر رہے ہیں۔ آر آر نگر (راج راجیشوری نگر) اسمبلی حلقے میں منی رتنا نے تیسری مرتبہ جیت حاصل کی ہے۔ پچھلے عام انتخابات میں  انہوں نے کانگریس کے امیدوار کے طور پر الیکشن لڑا تھا۔ چند دیگر باغی ایم ایل ایز کے ساتھ انہوں نے کانگریس چھوڑ کر بی جے پی میں شمولیت اختیار کی۔ اس کے بعد یہاں ضمنی انتخابات کا اعلان کیا گیا۔ 3 نومبر 2020 کو بنگلورو کے آر آر نگر اور ٹمکور ضلع کے سرا میں ضمنی انتخابات کے تحت ووٹ ڈالے گئے تھے۔


کرناٹک میں دو اسمبلی حلقوں کے ضمنی انتخابات کے نتائج ریاست کی حکمراں سیاسی جماعت بی جے پی کے حق میں آئے ہیں۔ دونوں نشستوں پر بی جے پی کے امیدوار کامیاب ہوئے ہیں۔ جبکہ حزب اختلاف کانگریس اور جے ڈی ایس کو بڑا جھٹکا لگا ہے۔
کرناٹک میں دو اسمبلی حلقوں کے ضمنی انتخابات کے نتائج ریاست کی حکمراں سیاسی جماعت بی جے پی کے حق میں آئے ہیں۔ دونوں نشستوں پر بی جے پی کے امیدوار کامیاب ہوئے ہیں۔ جبکہ حزب اختلاف کانگریس اور جے ڈی ایس کو بڑا جھٹکا لگا ہے۔


سرا اسمبلی حلقہ میں بی جے پی نے اپنی کامیابی سے سب کو چونکا دیا ہے۔ اس حلقے میں بی جے پی اور کانگریس کے درمیان کانٹے کی ٹکر دیکھنے کو ملی۔ آخر کار بی جے پی کے امیدوار ڈاکٹر بی ایم راجیش گوڈا نے 12949 ووٹوں کے فاصلے سے جیت حاصل کرتے ہوئے کانگریس کے سینئر لیڈر ٹی بی جئے چندرا کو شکست دی ہے۔ ڈاکٹر راجیش گوڈا کو 74522 ووٹ ملے ہیں۔ جبکہ ٹی بی جئے چندرا کو 61573 ووٹ حاصل ہوئے ہیں۔ جے ڈی ایس کی امیدوار اور آنجہانی ایم ایل اے ستیہ نارائن کی اہلیہ اماں جماں 35982 ووٹ حاصل کرتے ہوئے تیسرے مقام پر رہی ہیں۔ اس ضمنی الیکشن  سے قبل سرا اسمبلی حلقہ پر جے ڈی ایس کا  قبضہ تھا۔ جے ڈی ایس کے ایم ایل اے ستیہ نارائن کی موت کے بعد یہاں ضمنی انتخابات کا اعلان کیا گیا۔ اب یہ حلقہ بی جے پی کے کھاتے میں چلا گیا ہے۔ پہلی مرتبہ سرا میں بی جے پی نے جیت درج کی ہے۔


کرناٹک کے دونوں اسمبلی حلقوں پر بی جے پی نے قبضہ جماتے ہوئے اپنی پوزیشن کو مضبوط کیا ہے۔ اس جیت کے ساتھ وزیر اعلی بی ایس یدی یورپا نے نہ صرف کانگریس اور جے ڈی ایس کے لیڈروں کی بولتی بند کر دی ہے۔
کرناٹک کے دونوں اسمبلی حلقوں پر بی جے پی نے قبضہ جماتے ہوئے اپنی پوزیشن کو مضبوط کیا ہے۔ اس جیت کے ساتھ وزیر اعلی بی ایس یدی یورپا نے نہ صرف کانگریس اور جے ڈی ایس کے لیڈروں کی بولتی بند کر دی ہے۔


اس طرح کرناٹک کے دونوں  اسمبلی حلقوں پر بی جے پی نے قبضہ جماتے ہوئے اپنی پوزیشن کو مضبوط کیا ہے۔ اس جیت کے ساتھ وزیر اعلی بی ایس یدی یورپا نے نہ صرف کانگریس اور جے ڈی ایس کے لیڈروں کی بولتی بند کر دی ہے۔ بلکہ اپنی ہی پارٹی میں مخالفت کرنے والوں کو کرارا جواب دیا ہے۔   ضمنی انتخابات سے قبل وزیر اعلی یدی یورپا کی کرسی بدل سکتی ہے، یہ گپ شپ سیاسی گلیاروں میں جاری تھی۔ لیکن سرا اسمبلی حلقہ کی جیت کے پیچھے وزیر اعلی کے فرزند وجیندرا کی حکمت عملی رہی ہے۔ وجیندرا جو اب بی جے پی کے ایک ریاستی نائب صدر ہیں، پارٹی کو پہلی مرتبہ سرا میں کامیابی دلاتے ہوئے، اپنے اثر و رسوخ کو ثابت کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔
Published by: Nisar Ahmad
First published: Nov 10, 2020 10:19 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading