உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Karnataka Hijab Row: فیصلہ سنانے والے High Court کے تینوں ججوں کو ’وائی‘ زمرے کی سیکورٹی، وزیراعلیٰ نے کیا اعلان

    حجاب تنازعہ: فیصلہ سنانے والے ہائی کورٹ کے تینوں ججوں کو ’وائی‘ زمرے کی سیکورٹی

    حجاب تنازعہ: فیصلہ سنانے والے ہائی کورٹ کے تینوں ججوں کو ’وائی‘ زمرے کی سیکورٹی

    Y category security to Karnataka HC Judges: حجاب تنازعہ میں فیصلہ سنانے والے کرناٹک ہائی کورٹ کے تینوں ججوں کو وائی زمرے کی سیکورٹی فراہم کی جائے گی۔ کرناٹک کے وزیر اعلیٰ بسوراج بومئی نے اس سے متعلق اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ حجاب کو اسکولوں میں پہن کر نہ آنے کے کرناٹک حکومت کے فیصلے کو برقرار رکھنے والے ہائی کورٹ کے تینوں ججوں کو وائی زمرے کی سیکورٹی دی جائے گی۔

    • Share this:
      نئی دہلی: حجاب تنازعہ میں فیصلہ سنانے والے کرناٹک ہائی کورٹ کے تینوں ججوں کو وائی زمرے کی سیکورٹی فراہم کی جائے گی۔ کرناٹک کے وزیر اعلیٰ بسوراج بومئی نے اس سے متعلق اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ حجاب کو اسکولوں میں پہن کر نہ آنے کے کرناٹک حکومت کے فیصلے کو برقرار رکھنے والے ہائی کورٹ کے تینوں ججوں کو وائی زمرے کی سیکورٹی دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ سبھی تینوں ججوں کو وائی زمرے کی سیکورٹی دی جائےگی۔ بسوراج بومئی نے کہا، ہم نے ڈی جی اور آئی جی کو حکم دیا کہ ججوں کو جان سے مارنے کی دھمکی دینے کے معاملے میں فوری جانچ کریں۔

      بسوراج بومئی نے کہا، ودھان سبھا پولیس اسٹیشن میں فیصلہ سنانے والے ججوں کو جان سے مارنے کی دھمکی کے خلاف شکایت درج کی گئی۔ اس معاملے میں ڈی جی اور آئی جی کو حکم دیا گیا ہے کہ فوراً معاملے کی باریکی سے جانچ کریں اور معاملے کی تہہ تک جائیں۔

      یہ بھی پڑھیں۔

      کیا چندرا بابو نائیڈو نے خریدا تھا جاسوسی سافٹ ویئر پیگاسس؟

      جج کے خلاف تمل ناڈو میں بھی احتجاج

      حجاب تنازعہ کو لے کر کئی ریاستوں میں فیصلے سنانے والے ججوں کے خلاف ناراضگی بھی دیکھنے کو مل رہی ہے۔ کئی مقامات پر احتجاجی مظاہرے بھی کئے جا رہے ہیں۔ ہفتہ کو اس معاملے میں تمل ناڈو کے دو لوگوں کو گرفتار کیا ہے۔ تمل ناڈو پولیس کے مطابق کووئی رحمت اللہ کو ترونیلویلی میں گرفتار کیا گیا، جبکہ 44 سالہ ایس جمال محمد عثمانی (S Jamal Mohammed) کو تنجاور میں حراست میں لیا گیا۔

      ایک وائرل ویڈیو میں تمل ناڈو توحید جماعت (ٹی این ٹی جے) آڈیٹنگ کمیٹی کے رکن کووئی رحمت اللہ  (Kovai Rahmathullah) مبینہ طور پر کہہ رہا ہے کہ جھارکھنڈ میں مارننگ واک کے دوران غلط فیصلہ دینے والے جج کا قتل کردیا گیا ہے۔ اس نے جج کو بالواسطہ طور پر دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ ہمارے معاشرے میں کچھ لوگ جذبات میں بہکے ہوئے ہیں۔ اس نے کہا کہ اگر کرناٹک کے ججوں کے ساتھ کچھ ہوتا ہے تو بی جے پی ہم پر الزام لگانے کے لئے تیار بیٹھی ہے۔
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: