ہوم » نیوز » وطن نامہ

کرناٹک :ریاست میں سیاسی صورت حال جوں کی توں قائم رکھنے کا سپریم کورٹ نے دیا حکم

سپریم کورٹ نے کرناٹک میں 10 ایم ایل ایز کے استعفی کے معاملے میں منگل کو اگلی سماعت ہونے تک صورت حال جوں کی توں برقراررکھنے کا حکم دیا ہے۔

  • Share this:
کرناٹک :ریاست میں سیاسی صورت حال جوں کی توں قائم رکھنے کا سپریم کورٹ نے دیا حکم
کرناٹک اسمبلی کی فائل فوٹو

سپریم کورٹ نے کرناٹک میں 10 ایم ایل ایز کے استعفی کے معاملے میں منگل کو اگلی سماعت ہونے تک صورت حال جوں کی توں برقراررکھنے کا حکم دیا ہے۔ چیف جسٹس رنجن گگوئی کی زیر صدارت ایک بینچ نے جمعہ کو کہا کہ وہ اس معاملے میں کچھ بڑے مسائل اٹھے ہیں اور اس پر منگل کو اگلی سماعت کرکے فیصلہ سنائیں گے ۔ عدالت نے کہا کہ اگلی سماعت تک اس معاملے کی صورت حال جوں کی توں برقرار رکھا جائے۔


کرناٹک میں حکمراں کانگریس- جنتا دل (ایس) اتحاد کے 10 ایم ایل ایز نے اسمبلی کی رکنیت سے چند دن قبل استعفی دے دئے تھے لیکن اسپیکر نے ان پر فوری طور پر کوئی فیصلہ نہیں کیا تھا۔ استعفی دینے کے بعد یہ ایم ایل اے ممبئی چلے گئے تھے۔ ان قانون سازوں نے سپریم کورٹ میں ایک درخواست دائر کر کے کہا تھا اسمبلی کے اسپیکر جان بوجھ کر استعفی قبول نہیں کررہے ہیں ۔ جمعرات کو ان کی عرضی پر سماعت کرتے ہوئے، عدالت نے انہیں 6 بجے تک اسمبلی کے اسپیکر کے سامنے حاضر ہونے کے لئے کہا تھا۔ اس کے ساتھ ہی اس نے یہ بھی ہدایت دی تھی کہ اسمبلی کے اسپیکر اس معاملے میں جمعہ کو سماعت کے دوران پیش رفت سے مطلع کریں ۔ یہ باغی اراکین اسمبلی جمعرات کو عدالت کی ہدایت کے مطابق اسپیکر کے سامنے پیش ہوئے تھے اور انہیں پھر سے اپنے استعفی سونپے تھے۔


عدالت کے حکم پر عمل کروں گا: کمار


کرناٹک اسمبلی کے صدر کے آر رمیش کمار نے جمعہ کو کہا کہ عدلیہ کا وہ مکمل احترام کرتے ہیں اور عدالت کے حکم کو نہ ماننے کی کوئی وجہ نہیں ہے۔کمار کا بیان اس وقت آیا ہے جب ریاست کی کانگریس۔ جے ڈی ایس کے اتحاد کی حکومت اپنے 14 اراکین اسمبلی کے استعفیٰ کے بعد بحران کا سامنا کر رہی ہے اور سپریم کورٹ نےباغی اراکین اسمبلی کے معاملے کی سماعت کرتے ہوئے انھیں (اسپیکر کو)حکم دیا کہ وہ استعفیٰ کےبارے میں فیصلہ کریں۔ سپریم کورٹ نے باغی اراکین اسمبلی کی سماعت جمعرات کی شام چھ بجے تک پوری کرنے اور فیصلہ کرکے عدالت کو مطلع کرنے کا بھی حکم دیا تھا۔
کرناٹک اسمبلی کا 10 روزہ مانسون سیشن شروع

کرناٹک میں اراکین اسمبلی کی وجہ سے پیدا ہونے والے سیاسی بحران کے دوران اسمبلی کا 10 روزہ مانسون سیشن جمعہ کو شروع ہوا جس میں 11 باغی اراکین اسمبلی موجود نہیں تھے جبکہ اپوزیشن بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے ’انتظارکرو اور دیکھو‘ کی پالیسی کے تحت حصہ لیا۔ دراصل سپریم کورٹ کی جانب سے 11 باغی اراکین اسمبلی (جن میں کانگریس کے آٹھ اور جے ڈی ایس کے تین شامل ہیں) کے اسمبلی کی رکنیت سے استعفیٰ کے بارے میں فیصلہ سنانےکے اسپیکر کو دیے گئے حکم کے بعد عدالت کے اگلے قدم پر بی جے پی کی نظر ٹکی ہوئی ہے۔ اس تعلق سے فیصلہ سنانے کے صدر کو دیے گئے حکم کے بعد عدالت کے حکم پر بھی سب کی نگاہیں ٹکی ہوئی ہیں۔

لیڈرآف اپوزیشن اور بی جے پی کے ریاستی صدر بی ایس یدی یورپا نے اسمبلی کے اجلاس میں حصہ لینے سے پہلے صحافیوں سے کہا،’ہم سپریم کورٹ کے فیصلے کا انتظار کریں گے اور پارٹی کے چیف وہپ کوٹا پجاری نے پارٹی کے تمام اراکین اسمبلی کو اسمبلی کے سیشن میں موجود رہنے کے لیے وہپ جاری کیا ہے۔برسر اقتدار اتحاد کے فریقوں کانگریس اور جے ڈی ایس نے بھی اپنی اپنی پارٹی کے اراکین اسمبلی کو وہپ جاری کرکے کہا ہے کہ وہ ہرحال میں اسمبلی میں موجودرہیں۔
First published: Jul 12, 2019 06:25 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading