کرناٹک بحران: یہ 4 باغی ارکان اسمبلی ہی بچا سکتے ہیں کمار سوامی کی حکومت!۔

باغی ممبران اسمبلی میں بنگلورو علاقہ سے آنے والے چار ممبران اسمبلی ایس ٹی سوم شیکھر، بی باسوراجو، این منرتنا اور رام لنگا ریڈی سب سے اہم مانے جا رہے ہیں۔ ایسا کہا جا رہا ہے کہ پرمیشور سے ان کی نجی مخالفت سے نمٹا جا سکتا ہے۔

Jul 22, 2019 01:50 PM IST | Updated on: Jul 22, 2019 01:50 PM IST
کرناٹک بحران: یہ 4 باغی ارکان اسمبلی ہی بچا سکتے ہیں کمار سوامی کی حکومت!۔

ایچ ڈی کمار سوامی، سدارمیا اور ایچ ڈی دیوگوڑا: فائل فوٹو

کرناٹک میں پچھلے 20 دن سے جاری سیاسی ناٹک کا آج اختتام ہو سکتا ہے۔ آج کانگریس۔ جے ڈی ایس کی مخلوط حکومت کے سربراہ یعنی وزیر اعلیٰ کمار سوامی اسمبلی میں اکثریت ثابت کرنے والے ہیں۔ اسپیکر کے آر رمیش کمار نے کمار سوامی۔ سدارمیا کو فلور ٹیسٹ کے لئے شام 6 بجے تک کا وقت دیا ہے۔

دراصل، کانگریس کے 13 اور جے ڈی ایس کے 3 ارکان اسمبلی کے استعفے کے بعد کمار سوامی حکومت مشکل میں ہے۔ کانگریس کے ان ارکان اسمبلی کے استعفے کے پیچھے نائب وزیر اعلیٰ جی پرمیشور کو مبینہ طور پر ذمہ دار مانا جا رہا ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ یہ سبھی ارکان اسمبلی نائب وزیر اعلیٰ سے خوش نہیں ہیں۔ باغی ممبران اسمبلی میں بنگلورو علاقہ سے آنے والے چار ممبران اسمبلی ایس ٹی سوم شیکھر، بی باسوراجو، این منرتنا اور رام لنگا ریڈی سب سے اہم مانے جا رہے ہیں۔ ایسا کہا جا رہا ہے کہ پرمیشور سے ان کی نجی مخالفت سے نمٹا جا سکتا ہے۔ اگر ایسا ہوا تو یہ چار باغی ممبران اسمبلی بی جے پی کی مدد کرنے سے پیچھے ہٹ سکتے ہیں۔

Loading...

کانگریس ذرائع کا کہنا ہے کہ ان چار ارکان اسمبلی کو کانگریس۔ جے ڈی ایس حکومت سے کوئی دقت نہیں ہے۔ پرمیشور سے نجی ناراضگی کی وجہ سے استعفیٰ دینے کا انہوں نے یہ قدم اٹھایا ہے۔ ایسے میں اس بات کے آثار ہیں کہ اگر نائب وزیر اعلیٰ پرمیشورم ان چار ارکان سے مل کر آپس میں معاملہ نمٹا لیتے ہیں تو ان کا استعفیٰ شاید اسمبلی اسپیکر کے آر رمیش کمار کے ذریعہ منظور کرنے کی نوبت ہی نہ آئے۔ بتا دیں کہ یہ سبھی ارکان کانگریس قانون ساز پارٹی کے لیڈر سدارمیا کے قریبی ہیں۔

سرکار بچانے کے لئے کیا کر رہی ہے کمار سوامی حکومت

کمار سوامی حکومت کو بچانے کے لئے کانگریس۔ جے ڈی ایس کے رہنما ہر فارمولے پر غور وفکر کر رہے ہیں۔ مانا جا رہا ہے کہ چار۔ پانچ باغی ارکان اسمبلی کو مطمئن کرنے کے لئے انہیں وزیر بنایا جا سکتا ہے۔ حالانکہ، باغی ارکان اسمبلی نے یہ پیشکش پہلے ہی مسترد کر دی ہے۔ لیکن کمار سوامی انہیں منانے کے لئے مسلسل کوشش کر رہے ہیں۔ وہیں، کانگریس نے ایک بڑا داؤں چلتے ہوئے کچھ وزرا کو استعفیٰ دینے کے لئے تیار رہنے کو کہا ہے۔ وزرا کی اس فہرست میں کرشنا بائرے گوڑا، پریانک کھڑگے، یوٹی قادر، ضمیر احمد خان اور ایم سی ماناگولی کا نام شامل ہے۔

کیا ہیں اکثریت کے اعدادوشمار

اسپیکر اور نامزد ارکان اسمبلی کو ملا کر ایوان کی کل تعداد 225 ہے۔ اس میں سے 17 ارکان کے ایوان میں شامل نہیں ہونے کا امکان ہے۔ 17 میں سے 12 کانگریس کے، 3 جے ڈی ایس کے اور 2 کانگریس ارکان اسمبلی اسپتال میں بھرتی ہیں۔ اس طرح ایوان کی تعداد اب 208 رہ جاتی ہے۔ اکثریت ثابت کرنے کے لئے 105 ووٹوں کی ضرورت ہوگی۔

 

Loading...