உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    روہنگیائی مسلمانوں کو باہر نکالنے کی عرضی پر تین دن بعد کرناٹک حکومت کا یوٹرن

    روہنگیائی مسلمانوں کو باہر نکالنے کی عرضی پر تین دن بعد کرناٹک حکومت کا یوٹرن

    روہنگیائی مسلمانوں کو باہر نکالنے کی عرضی پر تین دن بعد کرناٹک حکومت کا یوٹرن

    کرناٹک حکومت (Karnataka) نے سپریم کورٹ (Supreme Court) میں روہنگیائی مسلمانوں (Rohingya In India) کی جلاوطنی سے متلعق دیئے گئے اپنے فیصلے سے متعلق یوٹرن لے لیا ہے۔ کرناٹک حکومت نے اس معاملے میں اب ترمیمی حلف نامہ داخل کیا ہے۔

    • Share this:
      نئی دہلی: کرناٹک حکومت (Karnataka) نے سپریم کورٹ (Supreme Court) میں روہنگیائی مسلمانوں (Rohingya In India) کو ریاست سے باہر کرنے سے متعلق دیئے گئے اپنے فیصلے سے متعلق یوٹرن لے لیا ہے۔ کرناٹک حکومت نے اس معاملے میں اب ترمیمی حلف نامہ داخل کیا ہے۔ ریاست کے محکمہ داخلہ میں ایڈیشنل سکریٹری کے این ونجا کے ذریعہ دائر نئے حلف نامے میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ریاست میں روہنگیا کے کل 126 افراد کی پہچان کی گئی ہے، جو کسی کیمپ یا ڈیٹنشن سینٹر میں نہیں ہیں۔ حلف نامہ میں کہا گیا ہے، ’اس پر عدالت کے ذریعہ جو بھی حکم صادر کیا جائے گا، اس کی ایمانداری سے پیروی کی جائے گی‘۔

      اس سے قبل حکومت نے عدالت کو بتایا تھا کہ بنگلورو میں رہ رہے روہنگیا کے 72 افراد کو فوری طور پر جلاوطن کرنے کا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔ حالانکہ اب ریاستی حکومت نے کہا ہے کہ عدالت جو حکم صادر کرے گی، اس پر عمل کیا جائے گا۔ دراصل، بی جے پی لیڈر اور وکیل اشونی کمار اپادھیائے (Ashwini Kumar Upadhyay) نے روہنگیا کے لوگوں کی شناخت کرکے انہیں جلاوطن کرنے کے لئے عرضی دائر کی تھی۔ اس کے جواب میں 26 اکتوبر (منگل) کو کرناٹک حکومت نے کہا تھا کہ یہ عرضی سماعت کے اہل نہیں ہے اور اسے خارج کیا جانا چاہئے۔

      کیا ہے اشونی اپادھیائے کی عرضی

      اشونی اپادھیائے نے عرضی دائر کرکے مرکز اور ریاستی حکومت کو یہ احکامات دیئے جانے کی اپیل کی ہے کہ وہ بنگلہ دیشیوں اور روہنگیائی لوگوں سمیت سبھی غیر قانونی طریقے سے ملک میں رہنے والے لوگوں کی ایک سال کے اندر پہچان کریں، انہیں حراست میں لیں اور انہیں جلا وطن کریں۔ عرضی میں کہا گیا ہے، ’خاص کر میانمار اور بنگلہ دیش سے بڑی تعداد میں آئے غیر قانونی تارکین وطن نے نہ صرف سرحدی اضلاع کی آبادیاتی ڈھانچے کے لئے خطرہ پیدا کیا ہے، بلکہ سیکورٹی اور قومی سالمیت کو بھی سنگین نقصان پہنچایا ہے‘۔

      اشونی کمار اپادھیائے نے عرضی میں سنگین الزام لگاتے ہوئے کہا ہے کہ کئی ایجنٹوں کے ذریعہ مغربی بنگال، تریپورہ اور گوہاٹی کے راستے غیر قانونی طریقے سے لوگ منظم طریقے سے گھس رہے ہیں۔ منگل کو سماعت کے دوران کرناٹک حکومت نے کہا تھا- ’بنگلور شہر پولیس نے اپنے دائرہ اختیار میں کسی کیمپ یا حراستی مراکز میں کسی روہنگیائی شخص کو نہیں رکھا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ بنگلور شہر میں مختلف علاقوں میں کام کرنے والے روہنگیا کے 72 افراد کی شناخت کی گئی ہے اوربنگلور شہر پولیس نے ابھی تک ان کے خلاف طاقت کے بل بوتے پر کوئی کارروائی نہیں کی ہے اور ان کا اب تک انہیں جلا وطن کرنے کا کوئی منصوبہ نہیں ہے‘۔
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: