உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    عظیم پریم جی کے خلاف ایک ہی معاملے میں کئی درخواستیں دائر، کرناٹک ہائی کورٹ نے 2 وکیلوں کو بھیجا جیل

    7 جنوری کو فریقین کو سننے کے بعد عدالت نے درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا تھا۔ (فائل فوٹو)

    7 جنوری کو فریقین کو سننے کے بعد عدالت نے درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا تھا۔ (فائل فوٹو)

    جمعہ کو فیصلہ سناتے ہوئے جسٹس بی ویرپا اور جسٹس کے ایس ہیملیکا کی بنچ نے دونوں وکیلوں کو دو مہینے کی عام جیل کی سزا سنائی ہے۔ اس کے علاوہ عدالت کی توہین ایکٹ کی دفعہ 12(1)کے پروویژن کے تحت 2000 روپے کا جرمانہ بھی لگایا۔

    • Share this:
      بنگلورو: کرناٹک ہائی کورٹ (Karnataka High Court)نے دو وکیلوں کو دو مہینوں کے لئے جیل بھیج دیا ہے۔ یہ وکیل ہیں - آر سبرامنیم اور پی سدانند۔ ان دونوں نے NGO انڈیا اویک فار ٹرانسپیرنسی کی جانب سے ویپرو (WIPRO) کے فاونڈر اور چیئرمین عظیم پریم جی (Azim Premji) کے خلاف درخواست دائر کی تھی۔ NGO نے پریم جی کے خلاف مالی بے قاعدگیوں کے الزام لگائے تھے لیکن ان دونوں وکیلوں نے پریم جی کے خلاف ایک ہی معاملے کو لے کر کئی ساری درخواستیں دائر کردی تھیں۔ لہذا ہائی کورت نے ان دونوں وکیلوں کو مجرمانہ توہین کا قصوروار ٹھہرایا۔

      جمعہ کو فیصلہ سناتے ہوئے جسٹس بی ویرپا اور جسٹس کے ایس ہیملیکا کی بنچ نے دونوں وکیلوں کو دو مہینے کی عام جیل کی سزا سنائی ہے۔ اس کے علاوہ عدالت کی توہین ایکٹ کی دفعہ 12(1)کے پروویژن کے تحت 2000 روپے کا جرمانہ بھی لگایا۔

      وکیلوں کے خلاف ایکشن
      اس کے علاوہ، عدالت نے ملزمان کو شکایت گزاروں اور اُن کی کمپنیوں کے گروپ کے خلاف کسی بھی عدالت یا قانون کے کسی اتھارٹی کے روبرو کوئی قانونی کارروائی شروع کرنے سے بھی روک دیا۔ عدالت نے 23 دسمبر کو ملزمین کے خلاف الزامات طئے کیے تھے۔ عدالت نے 7 جنوری کو دونوں فریقین کو سننے کے بعد درخواست پر اپنا فیصلہ محفوظ رکھ لیا تھا۔

      کیا کہا عدالت نے؟
      عدالت نے اپنے 23 دسمبر کے حکم میں کہا تھا، ’آپ نے ایک ہی وجہ سے بھی رٹ درخواستوں کو خارج کرنے کے باوجود اور عدالت کے احکامات کی جانب سے وارننگ دینے کے بعد بھی کئی معاملے دائر کیے اور کارروائی جاری رکھی۔ آپ نے قانونی کارروائی دائر کے عدالتی کارروائی کا مذاق اڑایا ہے۔ آپ نے نہ صرف بڑےپیمانے پر عوام کے مفاد کو متاثر کیا ہے بلکہ پلیٹ فارم کا غلط استعمال کر کے عدالتی انتظامیہ میں بھی مداخلت کی ہے۔ الگ الگ عدالتیں، وقت برباد کررہی ہیں اور قانون کی کارروائی کا غلط استعمال کررہی ہیں۔ اس طرح عدالت کی توہین ایکٹ 1971 کی دفعہ 2(C) کے پروویژن کے تحت مجرمانہ توہین کے زمرے میں آتا ہے، جو اس عدالت کے علم میں اُس وقت ایکٹ کی دفعہ 12 کے تحت قابل سزا ہے۔‘
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: