உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Karnataka Hijab Row: آج جمعہ کو پھر سماعت،اٹارنی جنرل ہائی کورٹ میں دیں گے اپنی دلیل، باقی ماندہ 7 درخواستوں کی بنیاد پر عدالت دے سکتا ہے فیصلہ

    Youtube Video

    Karnataka Hijab Row: بنچ نے ایڈوکیٹ رحمت اللہ کوتوال کی درخواست کو مسترد کر دیا، کیونکہ یہ مفاد عامہ کی عرضی ایکٹ 2018 کے تحت نہیں آتی تھی۔ اس سے پہلے وکیل نے اپنی شناخت ظاہر کیے بغیر دلائل شروع کیے تو جسٹس ڈکشٹ نے ان سے پوچھا کہ آپ اتنے اہم اور سنگین معاملے میں عدالت کا وقت ضائع کر رہے ہیں، صفحہ بندی اچھی نہیں ہے، پہلے اپنی شناخت بتائیں، آپ کون ہیں؟

    • Share this:
      بنگلورو:کرناٹک حجاب تنازعہ پر ہائی کورٹ کا فیصلہ کیا ہے اس پر سسپنس برقرار ہے۔ اب اس معاملے کی دوبارہ سماعت جمعہ کو ہوگی۔ جہاں اٹارنی جنرل (AG) پربھولنگ نوادگی عدالت میں اپنے دلائل پیش کریں گے۔ قبل ازیں جمعرات کو اس معاملے کی سماعت ہوئی تھی تاہم کوئی فیصلہ نہیں ہو سکا تھا۔

      جمعرات کو سماعت کے دوران، 5 طالبات کے وکیل اے ایم ڈار نے عدالت کے سامنے دلیل دی تھی کہ حکومت کے حکم سے حجاب پہننے والوں پر اثر پڑے گا۔ یہ غیر آئینی ہے۔ اس کے بعد عدالت نے ڈار کو موجودہ پٹیشن واپس لینے اور نئی پٹیشن دائر کرنے کو کہا۔ جمعہ کو عدالت باقی 7 درخواستوں کی بنیاد پر ہی سماعت کرے گی۔

      جمعرات کو عدالت میں کیا ہوا

      حجاب کے حوالے سے ایک اور درخواست میں ڈاکٹر کلکرنی نے عدالت کے سامنے کہا کہ براہ کرم جمعہ اور رمضان کے دوران حجاب پہننے کی اجازت دیں۔ 5ویں روز کی سماعت کے وسط میں نئی ​​درخواستیں آنے پر چیف جسٹس نے درخواست گزاروں سے کہا کہ ہم نے 4 درخواستیں سنی ہیں، 4 رہ گئی ہیں۔ ہم نہیں جانتے کہ آپ اس کے لیے مزید کتنا وقت لیں گے۔ ہم اس کے لیے زیادہ وقت نہیں دے سکتے۔

      بنچ نے ایڈوکیٹ رحمت اللہ کوتوال کی درخواست کو مسترد کر دیا، کیونکہ یہ مفاد عامہ کی عرضی ایکٹ 2018 کے تحت نہیں آتی تھی۔ اس سے پہلے وکیل نے اپنی شناخت ظاہر کیے بغیر دلائل شروع کیے تو جسٹس ڈکشٹ نے ان سے پوچھا کہ آپ اتنے اہم اور سنگین معاملے میں عدالت کا وقت ضائع کر رہے ہیں، صفحہ بندی اچھی نہیں ہے، پہلے اپنی شناخت بتائیں، آپ کون ہیں؟

      ہبلی-دھارواڑ میں 28 فروری تک بڑھائی گئی دفعہ 144
      کرناٹک کے ہبلی دھارواڑ میں اسکول کالج اور اس کے آس پاس دفعہ 144 کو 28 فروری تک بڑھا دیا گیا ہے۔ فوری اثر سے 200 میٹر کے دائرے میں کسی بھی قسم کے مظاہرے پر پابندی ہوگی۔ دوسری جانب کرناٹک کے بیلگاوی میں ایک پرائیویٹ کالج کے سامنے کچھ لڑکوں نے حجاب پہننے والی مسلم لڑکیوں کو کلاس میں بیٹھنے کی اجازت دینے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے اللہ اکبر کے نعرے لگائے۔ ان میں سے کچھ کو پولیس نے گرفتار کر لیا۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: