உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Karnataka hijab controversy: پرینکا گاندھی نے کہا- بکنی پہنیں یا حجاب، یہ خواتین کی پسند

    پرینکا گاندھی نے کہا- بکنی پہنیں یا حجاب، یہ خواتین کی پسند

    پرینکا گاندھی نے کہا- بکنی پہنیں یا حجاب، یہ خواتین کی پسند

    کرناٹک حجاب تنازعہ سے متعلق کانگریس لیڈر پرینکا گاندھی نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ خواتین بکنی پہنیں یا حجاب، یہ ان کی پسند ہے۔ اس معاملے میں کسی کو بولنے کا کوئی حق نہیں ہے۔

    • Share this:
      نئی دہلی: کرناٹک حجاب تنازعہ سے متعلق کانگریس لیڈر پرینکا گاندھی نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ خواتین بکنی پہنیں یا حجاب، یہ ان کی پسند ہے۔ اس معاملے میں کسی کو بولنے کا کوئی حق نہیں ہے۔ پرینکا گاندھی نے ٹوئٹ کرکے لکھا ہے، بکنی پہنیں، گھونگھٹ پہنیں، جینس پہنیں یا پھر حجاب، یہ خواتین کا حق ہے اور وہ کیا پہنیں اور یہ اختیار اسے ہندوستان کے آئین سے ملا ہے۔ ہندوستان کا آئین، اسے کچھ بھی پہننے کی گارنٹی دیتا ہے، اس لئے خواتین پر ظلم کرنا بند کریں۔

      کرناٹک میں تین دنوں کے لئے ہائی اسکول اور کالج بند

      حجاب تنازعہ کے سبب ریاست میں تین دنوں کے لئے ہائی اسکولوں اور کالجوں کو بند کردیا گیا ہے۔ اے این آئی کی خبر کے مطابق، وزیر اعلیٰ بسوراج بومئی کے احکامات پر ریاست میں تین دن کے لئے ہائی اسکول اور کالج بند کردیئے گئے ہیں۔

      مدھیہ پردیش میں یونیفارم ڈریس کوڈ پر غور

      حجاب تنازعہ جہاں ایک طرف اپنے عروج پر ہے۔ وہیں مدھیہ پردیش حکومت نے کہا ہے کہ وہ اسکولوں میں ایک طرح کے ڈریس کوڈ پر سنجیدگی سے غور کر رہی ہے۔ حالانکہ بی جے پی کے زیر اقتدار دو ریاستوں نے اس خیال پر شکوک و شبہات کا اظہار کیا ہے۔ بہار اور تریپورہ نے اس نظریے کو مسترد کردیا ہے جبکہ مہاراشٹر اور مغربی بنگال کے وزرائے تعلیم نے بی جے پی کے اس نظریے پر سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے۔

      حجاب تنازعہ کے پیچھے کانگریس کا ہاتھ: بی جے پی

      حجاب تنازعہ پر کرناٹک بی جے پی یونٹ نے اس میں کانگریس کا ہاتھ بتایا ہے۔ کرناٹک بی جے پی نے ٹوئٹ کیا ہے، ’ہم کہتے رہے ہیں کہ حجاب تنازعہ کو جنم دینے والی کانگریس ہے۔ اس کا ثبوت ہے کہ ہائی کورٹ میں حجاب کے حق میں ترک دینے والا ایک وکیل کانگریس کا قانونی اکائی کا نمائندہ ہے۔ کیا ہمیں یہ کہنے کے لئے ایک اور مثال کی ضرورت ہے کہ کانگریس اس سمت میں کام کر رہی ہے۔ بی جے پی نے کانگریس پر سماج کو توڑنے کا الزام لگایا ہے۔

      کرناٹک ہائی کورٹ میں سماعت

      حجاب معاملے میں آج کرناٹک ہائی کورٹ میں پھر سے سماعت ہوگی۔ منگل کو حجاب معاملے کی سماعت کرتے ہوئے کرناٹک ہائی کورٹ نے کہا تھا کہ چونکہ حکومت عرضی گزار کے اس اپیل پر راضی نہیں ہے کہ دو ماہ کے لئے طالبات کو حجاب پہننے دیا جائے، اس لئے ہم اس معاملے کو میرٹ کی بنیاد پر لیں گے۔ اس معاملے میں احتجاج ہو رہے ہیں اور طلبا سڑک پر ہیں، اس سبھی موضوع کو ہم نوٹس میں لے کر ہی کچھ کریں گے۔ ہائی کورٹ کی بینچ نے کہا تھا کہ حکومت قرآن کے خلاف حکم نہیں دے سکتی۔ کپڑے پہننے کا متبادل بنیادی حق ہے۔ حجاب پہننا بھی بنیادی حق ہے۔ حالانکہ حکومت بنیادی حقوق کو محدود کرسکتی ہے۔ یونیفارم کو لے کر حکومت کا واضح حکم نہیں ہے، اس لئے حجاب پہننا ذاتی معاملہ ہے۔ اس معاملے میں حکومت کا حکم ذاتی حدوں کی خلاف ورزی کرتا ہے۔
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: