உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Hijab Controversy:حجاب تنازعہ کا کرناٹک ہائی کورٹ کی سنگل بنچ میں نہیں نکلا حل، آج چیف جسٹس کی قیادت میں ہوگی سماعت

    مقدمات کی سماعت کرتے ہوئے جسٹس کرشنا ایس ڈکشٹ نے مشاہدہ کیا کہ پرسنل لاء کے بعض پہلوؤں کے پیش نظر یہ مقدمات بنیادی اہمیت کے کچھ آئینی سوالات کو جنم دیتے ہیں۔

    مقدمات کی سماعت کرتے ہوئے جسٹس کرشنا ایس ڈکشٹ نے مشاہدہ کیا کہ پرسنل لاء کے بعض پہلوؤں کے پیش نظر یہ مقدمات بنیادی اہمیت کے کچھ آئینی سوالات کو جنم دیتے ہیں۔

    مقدمات کی سماعت کرتے ہوئے جسٹس کرشنا ایس ڈکشٹ نے مشاہدہ کیا کہ پرسنل لاء کے بعض پہلوؤں کے پیش نظر یہ مقدمات بنیادی اہمیت کے کچھ آئینی سوالات کو جنم دیتے ہیں۔

    • Share this:
      بنگلورو:Karnataka Hijab Row:کرناٹک ہائی کورٹ (Karnataka High Court) کے چیف جسٹس ریتو راج اوستھی، جسٹس کرشنا ایس ڈکشٹ اور جسٹس جے ایم قاضی کی بنچ آج (جمعرات) کو حجاب پر پابندی کو چیلنج کرنے والی عرضیوں کی سماعت کرے گی۔ بتا دیں کہ ہائی کورٹ کی سنگل بنچ نے آج اس معاملے کو لارجر بنچ کو بھیج دیا تھا۔ سنگل جج نے کہا تھا کہ چیف جسٹس اس معاملے کو دیکھنے کے لیے بڑا بنچ تشکیل دینے کا فیصلہ کر سکتے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی ریاستی کابینہ نے حجاب تنازع پر کوئی بھی فیصلہ لینے سے پہلے ہائی کورٹ کے حکم کا انتظار کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔


      مقدمات کی سماعت کرتے ہوئے جسٹس کرشنا ایس ڈکشٹ نے مشاہدہ کیا کہ پرسنل لاء کے بعض پہلوؤں کے پیش نظر یہ مقدمات بنیادی اہمیت کے کچھ آئینی سوالات کو جنم دیتے ہیں۔ جسٹس ڈکشٹ نے کہا، ’ان مسائل کی وسعت کو دیکھتے ہوئے جن پر بحث ہوئی اور اہم سوالات، عدالت کا خیال ہے کہ چیف جسٹس کو فیصلہ کرنا چاہیے کہ آیا اس معاملے کے لیے بڑی بینچ تشکیل دی جا سکتی ہے۔‘بنچ کا بھی خیال ہے۔ دکشت نے حکم میں کہا کہ عبوری درخواستیں بھی ایک بڑی بنچ کے سامنے رکھی جانی چاہئیں، جو چیف جسٹس اوستھی کی طرف سے تشکیل دیا جا سکتا ہے،۔

      ریاست میں حجاب تنازع نے پرتشدد صورتحال اختیار کرلیا تھا
      دراصل کرناٹک کے مختلف حصوں میں حجاب کی حمایت اور مخالفت میں مظاہروں میں شدت آنے کے بعد حکومت نے ریاست کے تمام ہائی اسکولوں اور کالجوں میں تین دن کی تعطیل کا اعلان کیا اور بعض مقامات پر اس نے پرتشدد شکل اختیار کرلی۔ اس کے ساتھ ہی ریاستی کابینہ نے حجاب تنازع پر کوئی بھی فیصلہ لینے سے پہلے ہائی کورٹ کے حکم کا انتظار کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ قبل ازیں حجاب تنازعہ پر کشیدگی کے پیش نظر ریاستی حکومت نے منگل کو ریاست کے تمام ہائی اسکول اور کالج تین دن کے لیے بند رکھنے کا حکم دیا تھا جس کے بعد بدھ کو تعلیمی اداروں میں امن رہا۔ اہم بات یہ ہے کہ ریاست کے اُڈپی ضلع کے سرکاری کالجوں میں پڑھنے والی کچھ مسلم لڑکیوں نے حجاب پہن کر کلاسوں میں داخلہ پر پابندی کے خلاف درخواست دائر کی ہے۔ آپ کو بتاتے چلیں کہ کرناٹک میں حجاب کا تنازع گہرا ہوتا جا رہا ہے۔ پچھلے ہفتے، کرناٹک حکومت نے ایک حکم نامہ جاری کیا جس میں ریاست بھر کے اسکولوں اور پری یونیورسٹی کالجوں کے طلباء کے لیے ان کے اپنے یا نجی اداروں کی انتظامیہ کی طرف سے تجویز کردہ یونیفارم پہننا لازمی قرار دیا گیا تھا۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: