உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Hijab Controversy: کرناٹک میں تعلیمی اداروں میں حجاب اور بھگوا شال پر پابندی، اقلیتی محکمہ نے جاری کیا سرکلر

    Hijab Controversy: کرناٹک میں تعلیمی اداروں میں حجاب اور بھگوا شال پر پابندی، اقلیتی محکمہ نے جاری کیا سرکلر

    Hijab Controversy: کرناٹک میں تعلیمی اداروں میں حجاب اور بھگوا شال پر پابندی، اقلیتی محکمہ نے جاری کیا سرکلر

    Karnataka Hijab Controversy: حجاب کو لے کر جاری تنازع کے درمیان کرناٹک اقلیتی محکمہ نے اسکولوں کے طلبہ و طالبات کے کلاسوں کے اندر حجاب ، بھگوا شال ، اسکارف اور اسی طرح کے مذہبی جھنڈے ، مذہبی علامت والے کپڑے پہن کر جانے پر روک لگادی ہے ۔

    • Share this:
      بنگلورو : حجاب کو لے کر جاری تنازع (hijab controversy) کے درمیان کرناٹک اقلیتی محکمہ نے اسکولوں کے طلبہ و طالبات کے کلاسوں کے اندر حجاب ، بھگوا شال ، اسکارف اور اسی طرح کے مذہبی جھنڈے ، مذہبی علامت والے کپڑے پہن کر جانے پر روک لگادی ہے ۔ محکمہ نے اس سلسلہ میں سرکلر جاری کردیا ہے ۔ حالانکہ کرناٹک ہائی کورٹ کے عبوری حکم کی بنیاد پر سبھی تعلیمی اداروں میں حجاب ، برقع اور بھگوا شال پہننے پر پابندی لگی ہوئی ہے ۔

      کرناٹک اقلیتی محکمہ کے سرکلر میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ حجاب معاملہ میں عرضیوں کا نمٹارہ ہونے تک کسی بھی تعلیمی ادارہ میں حجاب ، برقع ، بھگوا شال وغیرہ مذہبی کپڑوں کے پہننے کی اجازت نہیں دی جائے گی ۔ انہیں اتارنے پر ہی کلاس روم میں داخلہ مل سکے گا ۔ یہ حکم سبھی تعلیمی اداکاروں پر لاگو ہوں گے ۔ اگر کالج کمیٹی کی جانب سے مقررہ ڈریس کوڈ لاگو ہے تو بھی انہیں ہائی کورٹ کے حکم پر عمل کرنا ہوگا ۔

      یہ بھی پڑھیں : حجاب پر پابندی قرآن پر پابندی کے برابر، جمعہ اور رمضان میں ملے چھوٹ، ہائی کورٹ میں عرضی گزاروں کے وکیل نے کہا

      ریاستی حکومت کا یہ حکم سبھی تعلیمی اداروں سے 200 میٹر کی دوری پر لاگو ہوگا۔ اس سے پہلے 13 فروری کو اڈوپی ضلع انتظامیہ نے دفعہ 144 لگاتے ہوئے کہا تھا کہ 19 فروری تک سبھی علاقوں میں واقع ہائی اسکول کے آس پاس یہ قانون لاگو رہے گا ۔

      کرناٹک سرکار نے ان سبھی اسکولوں اور کالجوں کو پھر سے کھول دیا ہے جو حجاب کی حمایت یا حجاب کی مخالفت میں احتجاج کے بعد بند تھے ۔ کسی بھی ناخوشگوار واقعہ کو روکنے کیلئے کرناٹک کے نو اضلاع میں دفعہ 144 لاگو کی گئی ہے ۔
      Published by:Imtiyaz Saqibe
      First published: