உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Karnataka Hijab Row: ہم جذبات نہیں قانون کے مطابق لیں گے فیصلہ ، آئین ہمارے لئے بھگود گیتا: کرناٹک ہائی کورٹ

     ہم جذبات نہیں قانون کے مطابق لیں گے فیصلہ ، آئین ہمارے لئے بھگود گیتا: کرناٹک ہائی کورٹ

    ہم جذبات نہیں قانون کے مطابق لیں گے فیصلہ ، آئین ہمارے لئے بھگود گیتا: کرناٹک ہائی کورٹ

    Karnataka Hijab Row: کرناٹک میں جاری حجاب تنازع تھمنے کا نام نہیں لے رہا ہے۔ ایک طرف منگل کو ہائی کورٹ میں اس معاملہ کی سماعت ہوئی تو وہیں دوسری طرف وزیر اعلی بسواراج ایس بومئی نے تمام ہائی اسکولوں اور کالجوں کو بند رکھنے کا حکم جاری کیا ہے ۔

    • Share this:
      بنگلورو : حجاب کو لے کر کرناٹک میں جاری تنازع کے درمیان کرناٹک ہائی کورٹ نے منگل کو کہا کہ بین الاقوامی برادری ہمیں دیکھ رہی ہیں اور یہ اچھی بات نہیں ہے ۔ کورٹ نے کہا کہ سرکار طلبہ کو دو مہینے کیلئے حجاب پہننے کی اجازت دینے کی درخواست سے متفق نہیں ہے ۔ وہ اس معاملہ کو میرٹ پر اٹھائے گی ۔ جسٹس کرشنا ایس دیکشت کی صدارت والی بینچ نے کہا کہ مخالفت ہورہی ہے اور طلبہ سڑکوں پر ہیں ۔ سبھی واقعات پر نظر رکھی جارہی ہے ۔

      بینچ نے کہا کہ ہمارے لئے آئین بھگود گیتا کے برابر ہے ، ہمیں آئین کے مطابق ہی کام کرنا ہوگا ۔ میں آئین کی حلف لینے کے بعد اس صورتحال پر آیا ہوا کہ اس معاملہ پر جذبات کو الگ رکھ کر سوچا جانا چاہئے ۔ بینچ نے کہا کہ سرکار قرآن کے خلاف فیصلہ نہیں دے سکتی ۔ پسند کی ڈریس پہننا بنیادی حق ہے ۔ حالانکہ سرکار بنیادی حقوق پر پابندی لگا سکتی ہے ۔ سرکار کی جانب سے ڈریس پر کوئی واضح حکم نہیں ہے ۔ حجاب پہننا ذاتی معاملہ ہے ۔ اس سلسلہ میں سرکاری حکم پرائیویسی کی حدوں کی خلاف ورزی کرتا ہے ۔



      ساتھ ہی ساتھ عدالت نے طلبہ سے امن و امان کو برقرار رکھنے کی اپیل کی ۔



      دریں اثنا مبینہ طور پر ایک تعلیمی ادارے میں ترنگے کی جگہ پر بھگوا جھنڈا لہرایا گیا ہے ۔ اس واقعہ سے متعلق ویڈیوز بھی سوشل میڈیا پر شیئر کئے جارہے ہیں۔ یہ واقعہ شیموگہ کے ایک ادارہ کا بتایا جا رہا ہے ۔ اس معاملہ پر کرناٹک کانگریس کے صدر ڈی کے شیوکمار نے بھی تشویش ظاہر کی ہے ۔


      ڈی کے شیوکمار نے منگل کو کہا کہ جن اداروں میں اس طرح کے واقعات ہو رہے ہیں ، انہیں کچھ دنوں کے لئے بند کر دینا چاہئے ۔ کانگریس لیڈر نے کہا کہ کرناٹک میں کچھ تعلیمی اداروں کی حالت اتنی خراب ہو گئی ہے کہ ایک معاملہ میں قومی پرچم کو بھگوا جھنڈا سے بدل دیا گیا ۔ مجھے لگتا ہے کہ لا اینڈ آرڈر کی بحالی کے لئے متاثرہ اداروں کو ایک ہفتہ کے لئے بند کر دینا چاہئے۔ تعلیم آن لائن جاری رہ سکتی ہے۔

      شیموگہ میں دفعہ 144 نافذ

      وائرل ویڈیو شیموگہ کے ایک کالج کا بتایا جا رہا ہے، جہاں ایک شخص جھنڈے کے پول پر چڑھ کر بھگوا جھنڈا لگا رہا ہے، جب کہ نیچے کافی لوگ جمع ہیں۔ مانا جارہا ہے کہ یہ اسی کالج کے طلبہ ہیں ۔ پول پر بھگوا جھنڈا لہرانے کے بعد سبھی خوشی سے چلاتے نظر آتے ہیں ۔ اس سے پہلے شیموگہ میں ہی صبح کافی پتھراؤ ہوا تھا ، جس کے بعد وہاں دفعہ 144 نافذ کر دی گئی ہے ۔
      Published by:Imtiyaz Saqibe
      First published: