உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Karnataka Hijab Row: کرناٹک ہائی کورٹ میں ریاستی حکومت نے کہا- اسلام کا لازمی عمل نہیں ہے حجاب

    کرناٹک ہائی کورٹ میں ریاستی حکومت نے کہا- اسلام کی لازمی عمل نہیں ہے حجاب

    کرناٹک ہائی کورٹ میں ریاستی حکومت نے کہا- اسلام کی لازمی عمل نہیں ہے حجاب

    ایڈوکیٹ جنرل پربھولنگ نوادگی نے کرناٹک ہائی کورٹ کے سامنے ترک دیا کہ پانچ فروری کا سرکاری حکم بھی آئین کے دفعہ  19(1) (اے) کی خلاف ورزی نہیں کرتا ہے۔

    • Share this:
      بنگلورو: کرناٹک حکومت نے جمعہ کو کرناٹک ہائی کورٹ (Karnataka High Court) کے سامنے ترک دیا کہ حجاب پہننا اسلام کا ایک ضروری مذہبی عمل نہیں ہے اور تعلیمی اداروں میں اس کے استعمال کو روکنا مذہبی آزادی کی آئینی گارنٹی کی خلاف ورزی ہے۔

      کرناٹک حکومت کے ایڈوکیٹ جنرل (Karnataka Advocate General)  پربھولنگ ندوگی (Prabhuling Navadgi) نے کرناٹک ہائی کورٹ کی جسٹس ریتو راج اوستھی، جسٹس جے ایم قاضی اور جسٹس کرشنا ایم دکشت کی تین رکنی بینچ کو بتایا، ’ہم نے ایک اسٹینڈ لیا ہے کہ حجاب پہننا اسلام کا ایک لازمی مذہبی حصہ نہیں ہے‘۔

      ایڈوکیٹ جنرل نے کرناٹک ہائی کورٹ کے سامنے یہ بھی ترک دیا کہ ریاستی حکومت کا 5 فروری کا حکم پوری طرح سے قانونی تھا اور اس فیصلے پر اعتراض کرنے والوں کا کوئی ٹھوس بنیاد نہیں بنتا ہے۔ حالانکہ، انہوں نے اعتراف کیا کہ سرکاری احکامات میں ‘اتحاد اور مساوات کے مطابق‘ کپڑوں کو مقرر کرنے والے حصے کو مزید بہتر طریقے سے لکھا جاسکتا تھا۔

      ایڈوکیٹ جنرل پربھولنگ نوادگی نے کہا، ‘ڈرافٹ مین تھوڑا پُرجوش ہوگیا تھا ایسا محسوس ہوتا ہے۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ اگر کوئی ڈریس کوڈ مقرر نہیں ہے تو برائے مہربانی اچھے کپڑے پہنیں۔ میں مانتا ہوں کہ اسے مزید بہتر طریقے سے لکھا جاسکتا تھا‘۔

      کرناٹک حکومت کے سینئر وکیل پربھولنگ نوادگی نے کچھ مسلم طلبا کے ان الزامات کو بھی خارج کردیا، جنہوں نے پانچ فروری کو کرناٹک حکومت کے حکومت کو چیلنج دیا تھا، جس میں طلبا کو حجاب یا بگھوا اسکارف پہننے سے روکا گیا تھا۔ مسلم طلبا کا ترک تھا کہ ریاستی حکومت کا یہ حکم آئین کے آرٹیکل 25 کی خلاف ورزی ہے۔

      آئین کا آرٹیکل 25 (Article 25 of Indian Constitution) ہندوستان کے شہریوں کو ضمیر کی آزادی اور مذہبی عقائد پر عمل کرنے اور کاروبار، مذہبی طرز عمل اور پروپیگنڈہ کرنے کی آزادی فراہم کرتا ہے۔ ایڈوکیٹ جنرل پربھولنگ نوادگی نے کرناٹک ہائی کورٹ کے سامنے ترک دیا ہے کہ پانچ فروری کا سرکاری حکم بھی آئین کے دفعہ  19(1) (اے) (Article 19-1-A of Indian Constitution) کی خلاف ورزی نہیں کرتا ہے۔ ہندوستانی آئین کا دفعہ 19 (1) سبھی شہریوں کو واک اور اظہار رائے کی آزادی (Freedom of Speech and Expression) کا حق فراہم کرتا ہے۔
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: