ہوم » نیوز » جنوبی ہندوستان

Shimoga Dynamite Blast: کرناٹک کے وزیر اعلیٰ بی ایس یدی یورپا کے آبائی شہر شیوموگا میں دھماکہ، 15 افراد کی موت

Shimoga Dynamite Blast: ایسا دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ دھماکہ (Blast) کی وجہ سے علاقہ کے سڑکوں پر درار پڑ گئی اور سڑک ٹوٹ گئی۔ حادثہ کے مہلوکین کی تعداد بڑھ سکتی ہے۔ شیوموگا (Shivamogga) کرناٹک (Karnataka) کی راجدھانی بنگلورو سے تقریباً 350 کلو میٹر کی دوری پر ہے۔

  • Share this:
Shimoga Dynamite Blast: کرناٹک کے وزیر اعلیٰ بی ایس یدی یورپا کے آبائی شہر شیوموگا میں دھماکہ، 15 افراد کی موت
کرناٹک کے وزیر اعلیٰ بی ایس یدی یورپا کے آبائی شہر شیوموگا میں دھماکہ، 15 افراد کی موت

بنگلورو: کرناٹک (Karnataka) کے شیوموگا (Shivamogga) ضلع میں جمعرات دیر رات دھماکہ (Blast) سے بھرے ایک ٹرک میں زبردست دھماکہ ہوگیا۔ اس حادثے میں اب تک 15 لاشوں کو برآمد کیا جاچکا ہے۔ دھماکہ اتنا تیز تھا کہ آس پاس کے کئی علاقوں کے گھروں اور دفتروں کے شیشے ٹوٹ گئے۔ ایسا دعویٰ کیا جارہا ہے کہ دھماکہ کی وجہ سے علاقے کے سڑکوں پر درار پڑ گئی اور سڑک ٹوٹ گئی۔ حادثے میں مہلوکین کی تعداد بڑھ سکتی ہے۔ شیوموگا کرناٹک کی راجدھانی بنگلورو سے تقریباً 350 کلو میٹر کی دوری پر ہے۔ شیوموگا میں ہوئے حادثہ پر وزیر اعظم نریندر مودی نے خدشہ ظاہر کیا ہے۔


ابھی تک کی خبر کے مطابق، دھماکہ کرناٹک کے شیوموگا کے ہونا ساڈو گاوں میں ہوا ہے۔ اس طاقتور دھماکہ کو کانکنی کے لئے لے جایا جا رہا تھا۔ پتھر توڑنے کے ایک مقام پر رات تقریباً ساڑھے دس بجے دھماکہ ہوا، جس سے نہ صرف شیوموگا، بلکہ پاس کے چکم منگلورو اور داونگیرے اضلاع میں بھی جھٹکے محسوس کئے گئے۔ عینی شاہدین کے مطابق، دھماکہ اتنا تیز تھا کہ گھروں اور دفتروں کی کھڑکی پر لگے شیشے ٹوٹ گئے اور سڑکوں پر درار پڑ گئی۔


کرناٹک کے شیوموگا میں ہوئے حادثے پر وزیر اعظم نریندر مودی نے غم کا اظہار کیا ہے۔ وزیر اعظم مودی نے ٹوئٹ کرتے ہوئے کہا، شیوموگا میں ہوئے حادثہ سے فکرمند ہوں۔ سوگوار خاندان سے میری تعزیت۔ دعا ہے کہ زخمی افراد جلد ٹھیک ہوجائیں۔ ریاستی حکومت متاثرین کو ہرممکن مدد دے رہی ہے۔ آکاش جین نام کے ایک صارف نے اس دھماکہ کے بارے میں ٹوئٹ کرتے ہوئے بتایا کہ شیوموگا کے پاس کلوگنگور- اببلگیرے گاوں میں ایک ڈائنامائٹ بلاسٹ ہوا ہے۔ یہ دھماکہ کانکنی کرنے والی جگہ پر ہوا ہے۔ اس دھماکہ میں کئی مزدوروں کے مارے جانے کا خدشہ ہے۔

Published by: Nisar Ahmad
First published: Jan 22, 2021 11:39 AM IST