உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Karnataka: بنگلورو پہنچنے پر 7 دن کا قرنطینہ لازمی، 598 بین الاقوامی مسافروں پر نگرانی

    بین الاقوامی مسافروں کو بنگلورو پہنچنے پر کووڈ منفی ٹیسٹ ضروری ہے۔

    بین الاقوامی مسافروں کو بنگلورو پہنچنے پر کووڈ منفی ٹیسٹ ضروری ہے۔

    کرناٹک حکومت نے کہا کہ بین الاقوامی مسافروں کو بنگلورو پہنچنے پر کووڈ منفی ٹیسٹ ضروری ہے۔ اس کے بعد انھیں سات دن کے قرنطینہ کے تحت رکھے جائیں گے اور دوبارہ ٹیسٹ کیا جائے گا۔

    • Share this:
      بنگلورو رورل ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ٹپی سوامی نے کہا ہے کہ بنگلورو پہنچنے پر تمام بین الاقوامی مسافروں کو جن کا کورونا ٹیسٹ منفی آیا ہے انہیں 7 دنوں کے لیے قرنطینہ میں رکھا جائے گا۔ ان کا 7 دن بعد دوبارہ ٹیسٹ کیا جائے گا۔ ایسے 598 مسافر زیر نگرانی ہیں۔

      کرناٹک حکومت نے کہا کہ بین الاقوامی مسافروں کو بنگلورو پہنچنے پر کووڈ منفی ٹیسٹ کرنے والے سات دن کے قرنطینہ کے تحت رکھے جائیں گے اور ایک ہفتے کے بعد دوبارہ ٹیسٹ کیا جائے گا۔


      واضح رہے کہ عالمی صحت تنظیم نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ نیا کووڈ 19 ویریئنٹ اومیکران کا خطرہ عالمی سطح پر بہت زیادہ ہے ۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ نیا ویریئنٹ کتنا متعدی اور خطرناک ہے ، اس بارے میں غیریقینی کی صورتحال بنی ہوئی ہے ۔ ڈبلیو ایچ او نے ایک تکنیکی نوٹ میں کہا کہ اگر اومیکران کی وجہ سے کورونا کی ایک اور لہر سامنے آتی ہے تو نتائج سنگین ہوسکتے ہیں ۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ حالانکہ اب تک اومیکران ویریئنٹ سے وابستہ کوئی موت نہیں ہوئی ہے ۔

      ڈبلیو ایچ او نے کہا کہ ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ کیا کورونا کا نیا ویریئنٹ اومیکران ، ڈیلٹا ویریئنٹ سمیت دیگر ویریئنٹس کے مقابلہ میں زیادہ متعدی ہے اور کیا یہ زیادہ سنگین بیماری کی وجہ ہے ۔ ڈبلیو ایچ او نے کہا کہ اس بارے میں کوئی جانکاری دستیاب نہیں ہے جو یہ بتاتی ہو کہ اومیکران سے وابستہ علامتیں دیگر ویریئنٹس کے مقابلہ میں الگ ہیں ۔ اس نے کہا کہ اومیکران ویریئنٹ کی سنگینی کی سطح سمجھنے میں کئی دنوں سے لے کر کئی ہفتوں تک کا وقت لگے گا ۔

      ڈبلیو ایچ او نے کہا کہ جنوبی افریقہ میں اس ویریئنٹ سے متاثر پائے گئے لوگوں کی تعداد بڑھی ہے ، لیکن یہ سمجھنے کیلئے وبائی امراض کا مطالعہ جاری ہے کہ کیا یہ اومیکران کی وجہ سے ہے یا دیگر وجوہات اس کیلئے ذمہ دار ہیں ۔ تنظیموں نے کہا کہ ابتدائی اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ جنوبی افریقہ میں لوگوں کے اسپتال میں بھرتی ہونے کے معاملات بڑھ رہے ہیں ، لیکن اس کی وجہ اومیکران سے انفیکشن کی بجائے سبھی ویریئنٹس سے متاثر لوگوں کی کل تعداد میں اضافہ ہوسکتی ہے۔


      قومی، بین الاقوامی اور جموں وکشمیر کی تازہ ترین خبروں کےعلاوہ  تعلیم و روزگار اور بزنس کی خبروں کے لیے نیوز18 اردو کو ٹویٹر اور فیس بک پر فالو کریں ۔


      Published by:Mohammad Rahman Pasha
      First published: