کرناٹک کی سیاسی رسہ کشی: اسپیکرنے باغی اراکین اسمبلی کو دیا ایک ہفتے کا وقت، کہا- بی جے پی حکومت بنانے کی کوششوں میں مصروف

کرناٹک کی سیاسی رسہ کشی اب ممبئی، دہلی اورگوا تک پہنچ گئی ہے۔ بی جے پی اپنی حکومت بنانے کی پوری کوشش کررہی ہے۔ وہیں کمارا سوامی حکومت ابھی بھی اکثریت ہونے کا دعویٰ کررہی ہے۔

Jul 09, 2019 08:00 PM IST | Updated on: Jul 09, 2019 08:00 PM IST
کرناٹک کی سیاسی رسہ کشی: اسپیکرنے باغی اراکین اسمبلی کو دیا ایک ہفتے کا وقت، کہا- بی جے پی حکومت بنانے کی کوششوں میں مصروف

کرناٹک کا سیاسی بحران اوررسہ کشی اب دہلی، ممبئی اور گوا تک پہنچ گئی ہے۔

کرناٹک میں سیاسی گھمسان اب ممبئی، دہلی اور گوا تک پہنچ گئی ہے۔ بی جے پی اپنی حکومت بنانے کی پوری کوشش کررہی ہے۔ وہیں سابق وزیراعلیٰ اور بی جے پی کے ریاستی صدر بی ایس یدی یورپا نے وزیراعلیٰ کمارسوامی سے استعفیٰ کا مطالبہ کیا ہے۔ اس درمیان منگل کو اسمبلی اسپیکرکے آررمیش کمارنے باغی اراکین اسمبلی کو سخت نصیحت دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگرانہیں استعفیٰ دینا ہے، توانفرادی طورپرآکرملیں، پوسٹل خدمات سے بھیجا گیا استعفیٰ منظورنہیں ہے۔ اسپیکرہونے کے ناطے وہ آئین کے مطابق کام کریں گے۔ اسپیکر نے دعویٰ کیا ہے کہ کئی استعفے صحیح طریقے سے نہیں ملے ہیں، اس لئے میں نے اراکین اسمبلی کوملنےکےلئے مدعو کیا ہے۔

کرناٹک میں سیاسی بحران ہرگزرتے دن کے ساتھ گہرا ہوتا جارہا ہے۔ حال ہی میں وزیربنے کے پی جے پی کے رکن اسمبلی آرشنکرنے بھی حکومت کا ساتھ چھوڑ دیا ہے۔ آرشنکرکے استعفیٰ کے بعد اب باغی اراکین اسمبلی کی تعداد 15 ہوگئی ہے۔ اس سے پہلے پیرکوآزاد رکن اسمبلی ایچ ناگیش نے بھی وزیرکے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا۔

Loading...

کرناٹک اسمبلی اسپیکرکا کہنا ہے کہ انہوں نے گورنرسے کہا ہے کہ آئین کو بنائے رکھنا ان کی اولین ترجیح ہے، لیکن وہ ان لوگوں کو بھی دھیان میں رکھیں گے، جو بے بس ہیں۔ اسپیکر کے آررمیش کمارنے گورنرکو لکھا ہے کہ کوئی بھی باغی رکن اسمبلی مجھ سے نہیں ملا ہے۔ انہوں نے اعتماد ظاہرکیا ہے کہ میں آئینی اصولوں کا خیال رکھوں گا۔ 13 استعفوں میں سے 8 قانون کے مطابق نہیں ہیں۔ میں نے انہیں اپنے سامنے خود پیش ہونے کا وقت دیا ہے۔

ایچ ناگیش نے اپنے استعفیٰ کے فوراً بعد وہ خصوصی طیارہ سے ممبئی کے لئے روانہ ہوگئے۔ ایسے میں سوال یہ اٹھتا ہے کہ کیا کمارسوامی کی حکومت اب اقلیت میں آچکی ہے۔ حالانکہ کرناٹک حکومت اپنے پاس اکثریت ہونے کا ابھی بھی دعویٰ کررہی ہے۔ کرناٹک کے وزیراعلیٰ ایچ ڈی کمارسوامی نے جے ڈی ایس کے اراکین اسمبلی کو بنگلوروکے پرسٹیزگولف شائرکلب میں کم ازکم چاردنوں تک قیام کرنے کا مشورہ دیا ہے۔ وہیں دوسری طرف بی جے پی کا کہنا ہے کہ کمارسوامی حکومت اکثریت کھو چکی ہے، اس لئے ان کو فوراً استعفیٰ دے دینا چاہئے۔ بی جے پی کے رکن اسمبلی بسوراج بومئی جو دیگر اراکین اسمبلی کے ساتھ کرناٹک اسمبلی کے اسپیکرسے ملنے کے لئے بنگلورو کے اسمبلی گئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ ہم اسپیکرسے ملنے آئے تھے اوروہ وہاں نہیں ہیں۔ ہمیں ایک پیغام ملا ہے کہ وہ آج نہیں آرہے ہیں، اس لئے ہم یہاں سے واپس جارہے ہیں۔  

دھارواڑہ میں بی جے پی کارکنان نے کرناٹک میں وزیراعلیٰ ایچ ڈی کمارسوامی کے استعفیٰ اوربی جے پی حکومت کی تشکیل کا مطالبہ کیا۔ اس دوران بی جے پی کارکنان نے سڑک پربیٹھ کراحتجاج کیا۔

کانگریس قانون ساز پارٹی کی میٹنگ کے بعد سدارمیا نے بی جے پی پر اراکین اسمبلی کی خرید وفروخت کا الزام لگایا۔ انہوں نے بی جے پی پرالزام لگاتے ہوئے کہا کہ  جے ڈی ایس - کانگریس  کے باغی اراکین اسمبلی کو پیسے اورعہدے کی لالچ دے رہی ہے۔ ان کے پاس اتنا پیسہ کہاں سے آرہا ہے؟  اس سے قبل کرناٹک میں مسلسل گہرے ہوتے سیاسی بحران کے درمیان کانگریس کے سینئر لیڈرغلام نبی آزاد اوربی کے ہری پرساد آج بنگلورو کے لئے روانہ ہوں گے۔ اس دوران دونوں لیڈرپارٹی کے اراکین اسمبلی سے ملاقات کریں گے اور موجودہ بحران کا حل نکالنے کی کوشش کریں گے۔کانگریس لیڈر ڈی کے شیوکمارنے کہا کہ وزیردفاع راجناتھ سنگھ کہہ رہے ہیں کہ ان کی پارٹی کا اس میں کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ یہی بات یدی یورپا کہہ رہے ہیں، لیکن وہ ساتھ میں اپنے پی اے کو وزیرکولینے بھی بھیج رہے ہیں۔

 

Loading...